فرائیڈ اور ژونگ کے تصورِ ادب کا تقابل


فرائیڈ نے تحلیل نفسی کی روشنی میں جو ادبی نظریہ پیش کیا وہ عام قاری کو شاید درست نظر نہ آتا ہو، لیکن فرائیڈ کی حد تک یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرائیڈ نے جس طرح ذہنی صحت کے اصول ذہنی مریضوں سے اور اعصابی توازن کے اصول اعصابی خلل کی علامات سے حاصل کیے۔ اسی طرح ادب کا نظریہ اس نے مریضوں کی سرگزشتوں سے حاصل کیا۔ فرائیڈ کی بیشتر کتابوں میں ادب اور ادبیات کے بارے میں خیالات ملتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا مطبوعہ مقالہ The Relation of the Poet to Day Dreaming سرفہرست ہے۔ فرائیڈ نے اس کی ابتدا اس سوال سے کی ہے کہ عام لوگ یعنی غیر ادیب کوشش کے باوجود بھی یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ تخلیقی فنکار کیسے تخلیق کرتا ہے۔

فرائیڈ کا خیال ہے کہ ادیب کی کچھ لاشعوری الجھنیں ہوتی ہیں جو اسے لکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ادیب جب کسی خاص واقعے سے بے حد متاثر ہو تو اس کے نتیجے میں بہت پہلے کے کسی ایسے ہی واقعے کی جو بالعموم بچپن کا ہوتا ہے ذہن میں یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ اس کے زیر اثر آسودگی کی جو صورت جنم لیتی ہے وہ لکھنے کی صورت میں تسکین پاتی ہے۔

فرائیڈ کے نظریات بہت دور رس تھے۔ یہ نظریات ادب کی تفہیم کے لیے ایک نیا زاویہ ثابت ہوئے۔ فرائیڈ کے دو بڑے موضوعات ہیں : نظریہ جنس اور نظریہ لاشعور۔ فرائیڈ نے ان پر بہت کام کیا۔ اس نے ہر مسلے کا حل جنس میں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ژونگ نے فرائیڈ کے ان دونوں نظریات سے اختلاف کیا۔ فرائیڈ کے مطابق کوئی بھی تحریر تخلیق کار کا ذاتی مسئلہ ہوتی ہے۔ جبکہ ژونگ تخلیق کو عطیہ ربانی سمجھتا ہے ژونگ کی سوچ کا یہ انداز فرائیڈ کے بالکل برعکس ہے۔

ژونگ کے مطابق کسی بھی ادبی تخلیق کی یہ اساسی صفت ہونی چاہیے کہ وہ بحیثیت ایک فرد ذاتی زندگی سے بلند ہو کر اور شاعر کے قلب و روح کی گہرائیوں سے ابھر کر تمام انسانیت کے قلب و روح کی صدا بن جائے۔ تخلیق میں ذاتی عناصر کا اظہار اسے محدود ہی نہیں کرتا بلکہ یہ ایک طرح کا گناہ بھی ہے۔ یعنی ادب کسی ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے لکھا جاتا ہے۔ ژونگ نے اجتماعی لاشعور پر بات کی ہے۔

ژونگ کے نزدیک ادب سے جڑا ہوا ہر شخص ہماری اجتماعی زندگی کو سر کرتا ہے۔ فرائیڈ کے مطابق ادیب یا شاعر معاشرے کو کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور اسے ایک طرح کا اعصابی خلل بھی لا حق ہوتا ہے۔ لیکن ژونگ نے اس سے انکار کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ادیب یا شاعر اعصابی مریض نہیں ہوتا۔ یہ اجتماعی لاشعور کر سر کرتا ہے۔ یہ کسی دباؤ کے تحت نہیں لکھتا۔ ژونگ نے تخلیق کار کو جو بلند مقام دیا اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ وہ نہ تو تخلیق کو اعصابی خلل کی ایک صورت سمجھتا ہے اور نہ ہی تخلیق کار کو اعصابی خلل کا مریض کہتا ہے۔ ژونگ ادب کو تخلیق کار کا ذاتی مسئلہ نہیں سمجھتا۔ بلکہ وہ ادیب کے بنی نوع انسان اور اپنے عہد سے گہرے نفسی رابطے کو تسلیم کرتے ہوئے تخلیقات کے سماجی منصب پر زور دیتا ہے۔

ژونگ جب تخلیق کو معاشرے کی روحانی ضروریات کے لیے وقف کرتا ہے تو وہ ادب کے ایک ایسے تصور کی تبلیغ کرتا ہے جو ادب کے مادی تصورات سے منفرد ہے۔ وہ زندگی میں روحانی امور کی اہمیت کا پوری طرح سے قائل بھی تھا۔ لیکن اس نے کسی بھی موقعے پر اندھی مذہب پرستی سے کام نہیں لیا۔ اس لیے ژونگ نے ادب برائے اخلاق کا درس نہیں دیا۔ وہ یہ تو سمجھتا ہے کہ ادب کو معاشرے کی روحانی ضروریات کی تکمیل کا سامان مہیا کرنا چاہیے لیکن وہ ادب کو اخلاق کی گاڑی میں جوتنے سے گریز کرتا ہے۔ فرائیڈ کہتا ہے کہ جنس سے جڑے ہوئے الجھاؤ تخلیق کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ژونگ کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ عطیہ خداوندی ہے۔

فرائیڈ کے برعکس ژونگ کا خیال ہے کہ تخلیق ادب تخلیق کار کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اجتماعی مسئلہ ہے۔ مثلاً تقسیم ہند 1947 کے تحت لکھا جانے والا ادب اس کی بہترین مثال ہے۔ اس حوالے سے سعادت حسن منٹو کا افسانہ ”سہائے“ قابل ذکر ہے۔ جہاں منٹو نے مرنے والوں کو مسلمان یا ہندو نہیں کہا بلکہ انھیں صرف انسان کہا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد اس پورے عہد کی جو نفسیات تھی اس کا تذکرہ اس افسانے میں ہے۔ اس کے علاوہ راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ ”لاجونتی“ قدرت اللہ شہاب کا ناولٹ ”یا خدا“ خدیجہ مستور کے دو ناول ”آنگن“ اور ”زمین“ اور عبداللہ حسین کا ناول ”اداس نسلیں“ اس حوالے سے قابل ذکر ہیں۔

ژونگ کے تصور ادب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بڑا لکھاری ہمیشہ اپنی تخلیق سے شخصی چھاپ کو دور کرتا ہے۔ یعنی ہر شخص کو یہی احساس ہوتا ہے کہ یہ تو میری ہی بات کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر میر تقی میر کی آپ بیتی ”ذکر میر“ میں میر کے ذاتی احوال موجود ہیں، لیکن جب وہ تخلیقی جہت میں جاتا ہے تو وہ کہتا ہے :۔

دیکھ کہ دل کے جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

یعنی تخلیقی جہت میں جا کر وہ اپنی ذات کو نکال دیتا ہے۔ اگر وہ اپنی ذات کو شامل کرتا تو شاید وہ میر نہ بن سکتا۔ دوسری مثال ہمارے پاس غالب کی ہے۔ غالب نے کہا:۔

ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

ہر شخص کو لگتا ہے کہ یہ میرے دل کی آواز ہے غالب نے اشعار کو آفاقی رنگ دیا لبیک اور اجتماعیت عطا کی۔ اپنی ذات کو درمیان سے نکال دیا۔ علاوہ ازیں جوش ملیح آبادی کی آپ بیتی ”یادوں کی بارات“ ابن انشاء کا سفر نامہ ”دنیا گول ہے“ ممتاز مفتی کا سفر نامہ ”لبیک“ اور مستنصر حسین تارڑ کا سفر نامہ ”منہ ول کعبے شریف“ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ اقبال کی نظمیں ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ ، ”خضر راہ“ اور ”جاوید نامہ“ بھی اس حوالے سے قابل ذکر ہیں۔ ان تخلیقات میں مصنفین نے اپنی ذات کو نکال دیا۔ اور اس طرح وہ پورے زمانے کی آواز بن گئیں۔ منٹو کے آخری دور کا افسانہ ”سڑک کے کنارے“ اس حوالے سے بہترین مثال ہے۔ دوسرے کے دکھ کو اسی شدت سے محسوس کرنا جس میں وہ مبتلا ہو۔ اور یہ کام ادب کرتا ہے۔ اس لیے ژونگ نے ادب کو معاشرے کی بنیادی ضرورت قرار دیا۔

تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ فرائیڈ کے نزدیک تخلیق ادب تخلیق کار کا ذاتی مسئلہ اور اعصابی خلل ہے۔ اور یہ کہہ ادیب کی کچھ لاشعوری الجھنیں ہوتی ہیں جو اسے لکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ جبکہ ژونگ کا نظریہ فرائیڈ کے بالکل برعکس ہے ان کا خیال ہے کہ تخلیق عطیہ ربانی ہے یہ کسی بھی تخلیق کار کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ اور ادب کسی ایک انسان کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے لکھا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS