امیتابھ بچن جب سیٹ پر اصل ٹائیگر سے لڑے، انسان اور جانور پر مبنی فلمیں

وندنا - ٹی وی ایڈیٹر، بی بی سی انڈیا


اگر آپ انڈیا کے سپرسٹار امیتابھ بچن کے پرستار ہیں تو آپ کو فلم 'خون پسینہ' کا وہ منظر یاد ہوگا جب ریکھا نے ٹائیگر (امیتابھ) کو پنجرے سے شیر کو باہر نکالنے، اس کا سامنا کرنے اور اسے پھر سے پنجرے میں بند کرنے کا چیلنج دیا تھا۔

اگر یہ سین آج کی تاریخ میں ہوتا تو سپیشل ایفیکٹس کی مدد سے کیا جاتا۔ لیکن 45 سال قبل ریلیز ہونے والی اس فلم میں امیتابھ بچن نے حقیقتا اصلی ٹائیگر یعنی شیر کا مقابلہ کیا۔ اگر آپ اس سین کا کلوز اپ دیکھیں تو آپ بچن کو ٹائیگر کی گردن پکڑے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

بچن واقعی فلم کے سین کے لیے ٹائیگر کے ساتھ بھرے ہوئے تھے۔ امیتابھ نے خود ٹویٹر پر اس بارے میں لکھا: ‘اس دن جب فلم ‘خون پسینہ’ کے کاسٹیوم ڈپارٹمنٹ نے مجھے وہ جیکٹ پہننے کے لیے دی، مجھے نہیں معلوم تھا کہ مجھے ایک حقیقی شیر سے لڑنا پڑے گا۔ اس فلم کے 45 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ شوٹنگ چاندیوالی اسٹوڈیو، ممبئی میں کی گئی تھی۔ اصلی ٹائیگر سے لڑنا اپنے آپ میں ایک کام تھا۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ ٹائیگر کتنا طاقتور ہوتا ہے۔ میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ جب میں نے آج کے سٹنٹ ڈائریکٹر کو بتایا تو انھیں لگا کہ میں واقعی پاگل تھا۔’

ہندی فلموں کی بات کریں تو سنہ 1970 اور 80 کی دہائی میں جانوروں خصوصاً شیر کو ہیرو کے ایکشن یا مردانگی دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور آج کے دور میں بھی ‘ایک تھا ٹائیگر’ اور ‘ٹائیگر زندہ ہے’ جیسی فلمیں مثال کے طور پر موجود ہیں۔

29 جولائی کو منائے جانے والے ‘ٹائیگر ڈے’ کی بات کریں تو ‘مسٹر نٹروال’، ‘عدالت’ جیسی فلموں میں کبھی شیر، کبھی ہاتھی اور کبھی دوسرے جانور ایک سہارے کی طرح نظر آتے رہے ہیں۔

یہ امیتابھ ہی تھے جنھوں نے ایک بار پھر فلم ‘مسٹر نٹورلال’ یا سنہ 1976 کی فلم ‘عدالت’ میں ٹائیگر کا مقابلہ کیا جہاں امیتابھ ایک دیہاتی ہیں جو جنگل میں طاقتور ٹائیگر سے ٹکراتے ہیں اور شہری شکاریوں کی جان بچاتے ہیں۔

لیکن کہانی میں بہادری، مہم جوئی کے اظہار یا کہانی میں موڑ لانے والے ان مناظر کے علاوہ جانوروں کا زیادہ کام نہیں۔ بس سکرین پر زندگی سے بڑے ہیرو کا تصور ضرور ابھرتا تھا۔

لیکن وقتاً فوقتاً ایسی ہندی فلمیں بھی بنتی رہی ہیں جن میں ٹائیگر جیسے جانوروں کو نہ صرف لڑائی کے مناظر بلکہ کچھ گہری بات کہنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

‘شیرنی’ – شیر اور انسان کی جنگ

مثال کے طور پر سنہ 2021 میں آنے والی فلم ‘شیرنی’۔ مدھیہ پردیش کے حقیقی جنگلوں میں فلمائی گئی ہے۔ یہ فلم ایک شیرنی کے گرد کہانی پر مبنی ہے جو ایک ساتھ بہت سی باتیں کہنے کی کوشش کرتی ہے۔

برسوں سے شیروں اور انسانوں کے درمیان زمین اور جنگل کی جو جنگ جاری ہے اسے فلم ‘شیرنی’ میں بہت اچھے طریقے سے دکھایا گیا ہے۔

فلم کا نام ‘شیرنی’ ضرور ہے لیکن کہانی شیر اور شیرنی کی ہے۔ اسے فلمساز کا ہنر ہی کہیں گے کہ ‘شیرنی’ کے بہانے اس نے سماج پر، گندی سیاست پر، سرخ فیتہ پر کاری ضرب لگائی ہے۔ اور اس سے بھی بڑی چوٹ معاشرے کی پدرشاہی سوچ پر شیرنی کے ذریعے لگائی گئی ہے۔

‘شیرنی’ جتنی جنگل کی ایک شیرنی کی کہانی ہے جس نے گاؤں کے کئی جانوروں کو مار ڈالا ہے، اتنی ہی اس علاقے کی نئی فارسٹ آفیسر ودیا ونسنٹ (ودیا بالن) کی بھی کہانی ہے جسے نئی پوسٹنگ میں خود کو صرف اس لیے جگہ جگہ ثابت کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ ایک ایک عورت ہے۔

مثال کے طور پر فلم کا یہ ڈائیلاگ دیکھیں جب دیہاتی کہتا ہے، ‘یہاں جب مصیبت آن پڑی ہے تو ایک لیڈی آفیسر (ودیا بالن) کو یہاں بھیج دیا ہے۔’

‘شیرنی اپنا راستہ ڈھونڈھ لیتی ہے’

ہر کوئی ودیا بالن کو شیرنی کو تلاش کرنے کے مشن کے بارے میں مفت مشورہ دیتا نظر آتا ہے، جیسا کہ شرت سکسینہ کا کردار کہتا ہے ‘میں جنگل اور جانوروں کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں، آپ کا تجربہ ابھی ذرا کم ہے۔’

فلم میں شیرنی راستہ بھٹک گئی ہے اور اسے سب سے بچ کر نکلنا ہے جب کہ محکمہ جنگلات کی لیڈی افسر کو بھی خود کو ثابت کرنا ہے۔ جنگل کی شیرنی اور محکمہ جنگلات کی ودیا گویا ایک جیسے بحران سے گزر رہی ہیں۔ فلم میں ایک موقع پر ودیا کہتی ہیں: ‘جنگل چاہے کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو، شیرنی اپنا راستہ ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔’

فلم ‘شیرنی’ میں نہ تو جنگل اور نہ ہی شیر کو غیرمعمولی انداز میں دکھایا گیا ہے اور نہ ہی کسی ایکشن سیکوئنس کے لیے ایسا کیا گیا ہے۔ یہ مصنف کا کمال ہے کہ اس نے ایک ملازم عورت اور شیرنی کو ایک دوسرے کے برابر کر دیا۔ اور یہ فلم آپ کو جنگل، زمین اور جانوروں کے درمیان نازک توازن اور شیر پر منڈلاتے خطرے کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

شیر پر منبی چند معروف فلمیں

  • خون پسینہ
  • مسٹر نٹور لال
  • عدالت
  • جنون
  • باگھ بہادر (ہندی میں شیر کو باگھ بھی کہتے ہیں)
  • شیرنی

جانوروں کے بارے میں چند فلمیں

  • ہاتھی میرے ساتھی
  • تیری مہربانیاں
  • گائے اور گوری
  • ناگن

ایک شکست خوردہ باگھ بہادر

فن کی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک مسئلے کے سرے کو دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ٹائیگر اور آرٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، یہاں آپ کو ہدایت کار بدھا دیو داس گپتا کی فلم ‘باگھ بہادر’ یاد آتی ہے۔

ڈائریکٹر کے تصور کو دیکھیں کہ اس نے فلم میں ایک شیر اور ایک فن کو کیسے لطیف انداز میں جوڑ دیا ہے۔ یہ فلم ‘دی ٹائیگر مین’ کے نام سے بیرون ممالک میں بہت مشہور ہوئی۔

فلم میں پون ملہوترا ایک نوجوان مزدور ہے جو سال بھر محنت کرتا ہے اور سال میں صرف ایک ماہ کے لیے گاؤں آتا ہے اور اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی سلیبرٹی شیرنی ’کالر والی‘، ایک خوفناک شکاری بھی وفادار دوست بھی

’ان کی سفید رنگ کی گاڑی لڑکیوں کی لِپسٹک سے لال ہو جاتی تھی‘

امیتابھ بچن کی وہ فلم جس کے لیے افغان ’مجاہدین‘ نے جنگ روک دی تھی

اس کا فن یہ ہے کہ وہ اپنے جسم پر رنگوں کے ذریعے شیر کا روپ دھار کر گاؤں میں گھومتا ہے اور شیر سے متعلق ایک خاص قسم کا خوبصورت رقص کرتا ہے جو اسے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملا ہے۔ لوگ اسے ‘باگھ بہادر’ کہتے ہیں۔

دراصل ان کے آباؤ اجداد انگریزوں کے خلاف بغاوت میں شامل تھے اور شیر بن کر ہندوستانی سپاہیوں میں جوش اور بہادری کا جذبہ بھرتے تھے۔ پون ملہوترا کو شیر کے اس ڈانس سے پیسے تو ملتے ہی ہیں، لیکن اس سے زیادہ گاؤں میں ان کی عزت کی جاتی ہے۔

لیکن پھر گاؤں میں شہر کا سرکس نما ٹولہ آتا ہے، جو فلمی گانوں سے لوگوں کو تفریح فراہم کرتا ہے اور اصلی چیتے کا کھیل دکھاتا ہے۔اور آہستہ آہستہ سب باگھ بہادر کا رقص چھوڑ کر اصلی چیتے کا کھیل دیکھنے چلے جاتے ہیں جس میں رادھا بھی شامل ہے جس سے پون ملہوترا محبت کرتا ہے۔

اپنے فن کی تذلیل پر باگھ بہادر کا درد کچھ یوں نکلتا ہے جب وہ ڈھولک چچا سے کہتا ہے: ‘پتا ہے سب سے بڑی چیز کیا ہے؟ عزت۔ سال بھر ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں بھٹکتا ہوں، پیٹ کی خاطر ۔ مجوری (مزدوری) کرتا ہوں، قلی گیری کرتا ہوں، پتھر توڑتا ہوں۔ مالکوں کی لاتیں بھی کھا لیتا ہوں، سب کچھ سہہ لیتا ہوں اس گاؤں (نون پورہ) میں ایک مہینے کے لیے۔ یہاں کے لوگ ہمکو پسند کرتے ہیں، ہمارا ناچ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ یہاں ایک مہینہ آکر لگتا ہے کہ ہم زندہ ہیں، ہم بھی انسان ہیں، ہم میں بھی کچھ خوبیاں ہیں، ہماری قدر کسی وجہ سے ہوتی ہے، ہماری عزت ہے جو روٹی کپڑا سے بڑی ہے، چاچا۔’

ایک فنکار، اس کی حساسیت، اس کی ثقافت بمقابلہ جدیدیت کے ایک الگ ہی روپ کو اس فلم میں شیر کے ذریعے دکھایا گیا ہے، خاص طور پر آخری سین جس میں بھاگھ بہادر اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے شیر کی تیار ہوتا ہے اور پنجرے میں حقیقی تیندوے کے سے لڑتا ہے۔ اور نتیجہ وہی ہے جو ہونا ہے۔ خون کی دھار بہتے دریا میں مل جاتی ہے- باگھ بہادر کا خون، فن کا خون، ایک فنکار کا خون۔

یہ منظر فلم ‘خون پسینہ’ میں امیتابھ کے عمل سے یکسر مختلف ہے، جو زندہ ٹائیگر کو پکڑتا ہے، اس کا سامنا کرتا ہے اور اسے دوبارہ پنجرے میں بند کر دیتا ہے، وہ سیٹیوں اور سامعین کی تالیوں کے درمیان ایک بڑے ہیرو کے طور پر ابھرتا ہے۔

یہ سینیما کا ہی کمال ہے کہ وہ حقیقت اور فسانہ اور فسانہ کو حقیقت بنا کر فلمی پردے پر انسان اور جانور کے رشتے کو دکھانے کا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔

1993 کی فلم ‘جنون’ ایک ہارر فینٹیسی ہے جس میں راہل رائے اس شخص کا کردار ادا کر رہے ہیں جسے بددعا دی جاتی ہے اور وہ ہر پورے چاند کی رات وہ شیر بن جاتا ہے۔ یہاں ٹائیگر کہانی میں ایک موڑ کے سوا کچھ نہیں۔

یا پھر ‘لائف آف پائی’ کو لے لیں جس میں ٹائیگر کو بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔

ناول ‘لائف آف پائی’ میں ایک ہندوستانی لڑکے کی کہانی بیان کی گئی ہے جو بحر الکاہل میں بحری جہاز کے ٹوٹنے کے بعد لائف بوٹ پر شیر کے ساتھ پھنس جاتا ہے۔ اس کتاب کو سنہ 2002 میں بکر انعام سے نوازا گیا تھا اور ہدایت کار اینگ لی نے اس پر فلم بنائی۔

2012 کی فلم ‘لائف آف پائی’ طوفان میں پھنس جانے والی بنگال ٹائیگر اور پائی (سورج شرما) کے درمیان بدلتے ہوئے رشتے کی تصویر کشی کرتی ہے۔ پائی اپنے والدین کے ساتھ چڑیا گھر کے قریب پلا بڑھا اور جانوروں کو سمجھتا ہے۔ سمندر کے بیچ میں ایک لائف بوٹ، ایک شیر اور ایک انسان – زندہ رہنے کی دوڑ میں دونوں کے درمیان خوف، مقابلہ، ہمدردی اور محبت کا پیچیدہ رشتہ جیسا کہ اداکار عرفان خان نے فلیش بیک میں بیان کیا ہے۔

لیکن ‘لائف آف پائی’ کا شیر امیتابھ بچن کے ٹائیگر کی طرح حقیقی ٹائیگر نہیں تھا، 1977 سے 2012 تک اتنی ترقی ہوئی کہ ٹائیگر کو ڈیجیٹل اینیمیشن کی مدد سے دوبارہ بنایا گیا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں جنگل میں رہنے والا انسانی بچہ موگلی اور شیر خان بچوں کے پسندیدہ کردار رہے ہیں، انسان اور جانوروں کے رشتے کی کہانیوں کو ہمیشہ فلموں میں جگہ ملی، کبھی فسانے کے طور پر اور کبھی حقیقت کے طور پر۔

ہمارے یہاں جانور تو کیا سانپ، ناگن اور پرندوں کو بھی فلموں میں کردار ملتے ہیں- فلم ‘قلی’ میں امیتابھ کا باز اور وہ ڈائیلاگ یاد آئے گا کہ ‘بچپن سے سر پر اللہ کا ہاتھ اور اللہ رکھا میرے ساتھ’- اللہ رکھا ان کے عقاب یعنی باز کا نام ہے۔ فلم کے پوسٹر میں بھی باز کو بچن کے ساتھ جگہ ملی تھی۔

یا ‘میں نے پیار کیا’ کا کبوتر یاد کریں۔ یا پھر ‘ہم آپ کے ہیں کون’ کی ٹفی یہ سبھی سلمان خان کے دلارے رہے ہیں۔ وہی سلمان جو آج کل کہتے ہیں کہ ‘ٹائیگر زندہ’ ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25379 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments