معاشی حالات اور سیاسی جماعتوں کی کارکردگی


اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معاشی حالت دن بہ دن دگرگوں ہوتی جا رہی ہے۔ اوپر سے سیلاب اور اس سے ہونے والی تباہ کن صورت حال انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ہمارے معاشرہ تیزی سے مفلسی اور بے بسی کی طرف گرتا چلا جا رہا ہے۔ آخر کون اس صورتحال کا صحیح مداوا کر سکتا ہے؟

سیاسی جماعتوں کو دیکھیں تو کوئی بھی ایسا نہیں جو سیاسی اقتدار سے بالاتر ہو کر سوچتا ہو۔ اب تو اسلامی کارڈ کا استعمال کرنا بھی ایک عام پریکٹس ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن اب کچھ سالوں سے جیسے ایک جنگ و جدل سی چل رہی ہے۔ اقتدار کا نشہ ایسا ہے کہ ملک خانہ جنگی کی طرف جائے یا معاشی بدحالی عروج پر ہو۔ تمام اقتداران اپنی سیاسی بانسری بجانے میں مشغول ہیں۔ میں ذاتی طور پر کسی بھی حکمران کو عوام کا درد سمجھنے والا نہیں سمجھتی۔

ایک پارٹی رہنما تو خاص طور پر کافر اور مسلمان کے جھگڑے میں اس قدر گہرے چلے گئے ہیں کہ ان کے ساتھیوں میں ڈاکو، کافر اور غدار بھی محب وطن ہیں اور ان سے راہیں جدا کرنے والے باقی پاکستانی سب کافر، غدار اور کرپٹ۔ بغیر ثبوت کہ دوسروں پر الزام تراشی میرے مطابق اسلامی روایات کے بالکل برخلاف ہے۔ آپ جھوٹ کو اور غلط بالکل برملا کہیں لیکن پھر اپنے گریبان اور اپنے حواریوں کے گریبان بھی چاک کریں۔ بہرحال ان کے مخالف گروہ کو اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے دوسرے ہتھکنڈوں کا استعمال کرنا پڑا جس میں بھی ان کی ساری توجہ اپنے سروائیول تک محدود ہے۔ اور باقی تمام جماعتیں بیٹھ کر گھمسان کی لڑائی دیکھ رہی ہیں۔ اور تالیاں بجا رہی ہیں یا حالات کو بدتر کر رہیں ہیں۔

ان سب کی نیتوں کا حال تو اللہ کی ذات جانے۔ لیکن ایک بات طے شدہ ہے ان سارے حالات میں عوام کبھی اتنی نہیں پسی جتنی آج کی تاریخ میں۔ دنیا میں مہنگائی ہو یا نہ ہو آپ اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں۔ آئے روز تباہی و بربادی، قتل و غارت، چوری چکاری، اغوا، قتل، مہنگائی، پانی کی قلت، اور بیماریاں۔ الحفیظ الامان۔

ان سارے حالات و واقعات کے ذمہ داران کوئی ایک نہیں سب ہیں اور جو بھی دعوٰی کرے کہ وہ ہی محض ملک و قوم کا درد رکھتے ہیں سب جھوٹ ہے کیوں کہ اقتدار سب کے ہاتھ میں رہا ہے اور کسی نے عوام کو سکون فراہم نہیں کیا۔ البتہ کچھ ایسے اقدامات ضرور ہیں کہ جن میں عوام کو فائدہ شاید ہو جاتا لیکن مخالف پارٹیوں نے اس پر ہمیشہ اختلاف کیا تاکہ عوام کے درد کی دوا بننے کا سہرا دوسروں کے سر نہ ہو۔

سیلاب بیشک ایک قدرتی آفت ہے، زائد بارشیں بیشک اللہ کی طرف سے ہیں لیکن ہم مکمل طور پر اس بات سے وقت سے پیشتر آگاہ ہوتے ہیں کہ سیلاب کے امکانات بھی ہیں اور بارشوں کا ایک حد سے تجاوز کرنا انتہائی تباہ کن ہو گا اور کس خطے میں زیادہ تباہی متوقع ہے۔ آج کی ٹیکنالوجی کئی دن پہلے سے خبر دے دیتی ہے اور ہر سال ہی مون سون میں ایسی تباہی آتی ہی ہے۔ اگر یہ سب حکمران اب بھی اکٹھے بیٹھ کر ماحولیاتی و موسمیاتی سائنسدان، انجنیئرز اور دیگر افراد کو بٹھا کر ایسا حل مرتب کریں کہ سب سیلابی ریلا نہ سہی کچھ کا رخ موڑ دیا جائے، عارضی بند یا کوئی بھی ایسا طریقہ کار جو تباہی کو ذرا کم کر سکے اور بالفرض اگر کچھ بھی ممکن نہیں تو سیلاب سے پہلے کم از کم وہاں کے غریب غربا کو نقل مکانی کروائی جا سکتی تھی عارضی کسی کیمپس میں ان کو رکھوا دیا جاتا تو بھی فوری طور پر جانی نقصان سے تھوڑی سی بچت ممکن تھی۔ ساری دنیا میں ایسے واقعات ہوتے ہیں لیکن وہ ممکنہ وقت سے پہلے کچھ تدابیر ضرور کرتے ہیں تاکہ نقصان کو کم کیا جا سکے۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس ہر سال ایسی تباہی و بربادی ہوتی ہے۔ یہ کسی ایک کے ذمہ نہیں ہے اس میں سب پارٹیز شامل ہیں۔

دوسرا مسئلہ مہنگائی اور غربت ہے۔ اگر یہ عالمی مسئلہ بھی ہے تو کم از کم آپ مل بیٹھ کر یہ فیصلہ کریں کہ سیاست چند سالوں بعد کر لی جائے گی ابھی فوری طور پر ان مسائل کا حل ضروری ہے۔ مہنگائی روک نہیں سکتے تو اپنی لوکل صنعتوں کو فروغ دیں ان کو انٹرنیشنل لیول کا کریں۔ بنگلہ دیش کی مثال آپ کے سامنے ہیں ان کے بنائے گئے کپڑے عالی کوالٹی کے ہونے کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کی مارکٹس میں بکتے ہیں۔ پاکستان کیا کپاس سے اچھے کپڑے ایکسپورٹ نہیں کر سکتا؟

کیا پاکستان کھیلوں کے سامان کی صنعت کو فروغ دے کر باہر ایکسپورٹ نہیں بڑھا سکتا؟ کیا پاکستان کی چمڑے کی صنعت کو فروغ نہیں دیا جا سکتا؟ سرمایہ کاران جب بھی پاکستان آنا چاہیں آپ کے سیاسی غیر استحکام اور آپ کے غیر پروفیشنل رویہ کی وجہ سے وہ چھوڑ کر کسی اور جگہ کا رخ کرتے ہیں۔ آپ کے اپنے تاجران کے لئے تمام سہولیات میسر نہیں۔ بجلی اور پانی عوام کو نہیں دے سکتے تو کم از کم کیا ان صنعتوں کو سولر یا کسی اور طرز سے بجلی بنا کر نہیں دی جا سکتی کہ کارخانے بند نہ ہوں۔ تو شاید ان سے کچھ معیشت کا پہیہ چل پڑے۔ اور ملک کے حالات بھی خود بہ خود بہتر ہونا شروع ہو جائیں۔ عوام کو سولر لگوانے کی ترغیب دیں اور مدد کریں تاکہ مہنگی بجلی کا بوجھ کم ہو۔ دنیا میں نیوکلیائی ٹیکنالوجی سے بجلی پیدا کی جاتی ہے آپ وہ نہیں کر سکتے تو سستی دوسری اقسام استعمال کریں جہاں جہاں ممکن ہے۔

بہرحال یہ سب سیاسی حکمران اپنی تعریفوں اور خود کو ہمدرد کہتے کہتے نہ بھی تھکیں لیکن جب تک آپس میں بیٹھ کر سب بھلا کر یہ ایسے فوری اقدامات نہیں کرتے تو براہ مہربانی آپ کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہے یا آپ کو کوئی بھی سچا اور ہمدرد لگتا ہے میرا اس سے ذاتی اختلاف ہے! اور میری رائے سے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments