تحریک انصاف پر ممنوعہ فارن فنڈنگ ثابت ہونے پر انصاف کے تحت فیصلہ


الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس نے تقریباً پانچ ملین ڈالر، سات لاکھ بانوے ہزار پاؤنڈ سٹرلنگ اور دو کروڑ بیس لاکھ روپے کی رقم بیرونی فنڈنگ اور ممنوعہ ذرائع سے حاصل کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو نوٹس جاری کیا ہے کہ وضاحت کرے کہ اس فنڈنگ کو کیوں نہ ضبط کر لیا جائے۔ ساتھ ساتھ قانون کے مطابق وفاقی حکومت کو معاملہ ریفر کر دیا ہے جو اب تحریک انصاف کو تحلیل کر سکتی ہے، جس کے بعد پندرہ دن کے اندر اندر معاملہ سپریم کورٹ میں لے جانا ہو گا۔ عمران خان کے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے 2008 سے لے کر 2013 تک فنڈنگ کی بہت زیادہ غلط معلومات فراہم کیں۔

عام انصافی بلاوجہ کی ٹینشن میں ہے۔ اصل ٹینشن میں تو اس وقت ریڈ زون میں بیٹھے تین سیاسی اکابرین ہوں گے جو سوچ رہے ہوں گے کہ یا اللہ اگر کپتان کو بار بار بچانے کی ہماری ڈیوٹی لگا دی ہے تو ہمیں سپرمین کا لال نیلا والا یونیفارم بھی عطا کر دیتا جس میں چڈی پاجامے کے باہر کی طرف پہنی جاتی ہے۔

اب قانونی معاملات تو وکیل یا جج سمجھیں مگر یہ بات واضح ہے کہ کسی مقبول سیاسی رہنما کو کسی قانون یا ڈنڈے کے زور پر نا اہل یا مائنس نہیں کیا جا سکتا۔ میاں نواز شریف اب بھی راج کر رہے ہیں اور الطاف حسین جس دن واپس آئے یا انہوں نے کراچی کی کسی پارٹی کے سر پر ہاتھ رکھا، کراچی ان کا ہے۔ اس لیے پارٹی تحلیل کرنے یا عمران خان کو تاحیات نا اہل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وہ ویسے ہی اپنی پارٹی کے پرویز خٹک جیسے بھاری بھرکم یا فیصل جاوید خان جیسے وفادار ساتھی کو وزارت عظمیٰ سونپ دیں گے جیسے آصف زرداری نے یوسف رضا گیلانی یا نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو سونپی تھی، اور پھر عوامی حمایت کے بل پر خود راج کریں گے۔

قانون اور انصاف ایک دوسرے کی ضد ہو سکتے ہیں۔ بلکہ ہو سکتے ہیں کیا، ہم نے تو انصاف کو اکثر قانون کا مذاق اڑاتے ہی پایا ہے۔ قانون اس مقصد کے لیے تو نہیں بنائے جاتے کہ انصاف ختم ہو جائے۔ جہاں قانون اور انصاف میں ٹکراؤ ہو، تو قانون کو غلط قرار پانا چاہیے۔ اب یہاں ایک جج کا کردار اہم ہے، کہ وہ اس صورت میں قانون کی پروا نہ کرتے ہوئے انصاف کے ساتھ کھڑا دکھائی دے۔ قانون وہ نہیں ہوتا جو مقننہ کہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو قانون کی تشریح کرنے والا جج بتائے۔

اس مقدمے کا جائزہ لیں تو کپتان کی تعریف کیے بغیر چارہ نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں ڈالروں کی شدید کمی تھی، کپتان اپنے بل بوتے پر اتنے سارے ڈالر پاکستانی معیشت میں لے آیا۔ ڈالر کا ریٹ اگر 80 روپے لگا لیں تو یہ رفلی کوئی نو ملین ڈالر کی فارن فنڈنگ بن جاتی ہے۔ کیا یہ ملک پر کپتان کا احسان نہیں ہے؟ اور یہ تو صرف وہ فنڈنگ ہے جو بینکنگ چینل سے آئی ہے۔ کپتان نے 2014 کے دھرنے کے دوران اپنے عقیدت مندوں کو ہنڈی کے ذریعے پاکستان پیسے بھیجنے کا حکم بھی دیا تھا۔ ہمیں یقین ہے کہ کپتان کی حکم عدولی نہیں کی گئی ہو گی۔ اس کا حساب بہرحال پبلک نہیں ہو پایا اس لیے بے بنیاد اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں کہ کتنی رقم ہنڈی سے ملی ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ کپتان کی حکم عدولی کر دی گئی ہو اور کچھ نہ ملا ہو۔

پھر کپتان کے کردار کو دیکھا جائے تو یہ فارن فنڈنگ کا پیسہ وہ کوئی اپنے گھر تو نہیں لے گیا ہو گا۔ توشہ خانے کی گھڑی بیچ کر بھی تو اس نے عوام کی سہولت کے لیے بنی گالہ کی اپنے گھر کے سامنے والی ایک سڑک ہی تو بنائی تھی۔ ممنوعہ ذرائع سے اگر پیسہ آ بھی گیا ہے تو وہ بھی یونہی کسی اچھے کام میں خرچ ہوا ہو گا۔ قانون اگر اس پر گرفت کرنے لگا تو اسے عوام کی حمایت تو ہرگز نہیں ملے گی۔ عوام آج بھی سلطانہ ڈاکو اور رابن ہڈ کے فین ہیں جو بظاہر غیر قانونی طریقے سے ڈاکے ڈال کر پیسہ اکٹھا کرتے اور عوام پر خرچ کرتے تھے۔ درحقیقت وہ عوام کی خدمت کی نیت سے اپنی جان خطرے میں ڈالا کرتے تھے۔ قانون چاہے جو بھی کہے لیکن عوام کی نظر میں تو وہ ڈاکو نہیں ہیرو ہیں۔

قانون کا تو ہمیں پتہ نہیں لیکن اگر ہم ایک انصاف پسند جج ہوں اور ہمیں لفظی قانون نہیں بلکہ انصاف کے تحت فیصلہ کرنا ہو تو ہم خود کو اس بات پر مجبور پائیں گے کہ کپتان کو نہ صرف باعزت بحال کر دیں، بلکہ الیکشن کمیشن کو ایسا فیصلہ دینے پر جرمانہ عائد کر کے وہ رقم تحریک انصاف کے پارٹی فنڈ میں جمع کروانے کا حکم میرٹ پر دیں۔

یاد رہے کہ اگر ہم پہلے کسی قانون یا اصول کی بنیاد پر یا کسی دوسرے سبب سے جہاز بن کر کسی لاقانونیت کی غیر شعوری طور پر مخالفت کر رہے تھے، تو اب ہم صحیح اور مفید نقطہ نظر کو اپنانے کے لیے آزاد ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1501 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments