عبدالنبی میرانی اور محمد علی میرانی: سکھر کے وہ تیراک جو جان خطرے میں ڈال کر بیراج کے گہرے پانی سے لاشیں نکالتے ہیں

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


اگر آپ کو کہیں خدانخواستہ کوئی لاش نظر آئے تو یقیناً آپ سب سے پہلے پولیس کو فون کر کے آگاہ کریں گے لیکن سکھر بیراج کی پولیس کو بیراج میں پھنسی کسی لاش کے بارے میں آگاہ کیا جائے تو وہ سب سے پہلے محمد علی میرانی اور عبدالنبی میرانی کو آگاہ کرتے ہیں۔

یہ دونوں ماہی گیر بھی ہیں اور انتہائی مشاق تیراک بھی جو فوری طور پر موقع پر پہنچ کر بیراج کے دروازوں میں پھنسی ہوئی لاش نکال لاتے ہیں۔

محمد علی میرانی اور عبدالنبی میرانی سکھر کی چھوہارا مارکیٹ کے علاقے میں رہتے ہیں۔

یہ دونوں سکھر میں دریائے سندھ کے کنارے لب مہران پر کشتی چلاتے ہیں اور موسم کے اعتبار سے مچھلی کا شکار بھی کرتے ہیں۔

سکھر بیراج چوکی کے پولیس انچارج حبدار جتوئی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جیسے ہی انھیں کسی لاش کے حوالے سے مطلع کیا جاتا ہے تو وہ فوری طور پر ان دونوں سے رابطہ کرتے ہیں اور انھیں وہاں پہنچنے کی درخواست کرتے ہیں۔

محمد علی میرانی اور عبدالنبی میرانی بتاتے ہیں کہ وہ سنہ 2009 سے دریا سے لاشیں نکال رہے ہیں، محمد علی کی عمر 25 سال اور عبدالنبی کی عمر 30 سال ہے۔

عبدالنبی میرانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دریائے سندھ پر سکھر بیراج کے اپ سٹریم میں پانی کی سطح پچاس فٹ تک گہری ہوتی ہے کبھی تو یہ بیراج کے دروازے سے بھی اوپر ہوتا ہے۔‘

’پانی کا شدید دباؤ ہوتا ہے جو بھنور بھی بناتا ہے اور اس میں اندر جا کر لاش کو نکالنا پڑتا ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم دونوں اوپر سے نیچے پانی میں چھلانگ لگاتے ہیں، لاش کے قریب جا کر اس کو پکڑ کر باہر لا کر ایک جھولے میں ڈالتے ہیں جو مچھلی کے جال کی مدد سے بنا ہوتا ہے۔‘

’بیراج کے اوپر موجود لوگ اس کو کھینچتے ہیں اور یوں لاش اوپر پہنچ جاتی ہے اس عمل میں 15 سے 20 منٹ لگتے ہیں۔‘

سکھر بیراج

’ثواب کی خاطر زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں‘

عبدالنبی میرانی کہتے ہیں کہ وہ ثواب کی خاطر یہ کام کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم سوچتے ہیں کہ یہ بھی کسی کا باپ ہو گا، کسی کا بیٹا ہو گا، کسی کا بھائی یا کسی کی ماں و بہن ہو گی۔ ہم اپنی جان خطرے میں ڈال کر اتر جاتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے والد اور والدہ حیات ہیں لیکن والد اکثر بیمار رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بیٹا ہمارا اور کوئی کمانے والا نہیں تم اتنا خطرہ کیوں مول لیتے ہو، کیوں اتنے گہرے پانی میں جاتے ہو تو میں انھیں یقین دہانی کرواتا ہوں کہ خدا محفوظ پناہ دے گا ہم انسانیت کے لیے یہ کر رہے ہیں۔‘

’برہنہ اور گلی ہوئی لاشیں‘

دریائے سندھ سے گذشتہ دس روز میں 24 کے قریب لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں سے سات خواتین کی تھیں۔

عبدالنبی میرانی کے مطابق ’عام دنوں میں بھی لاشیں آتی ہیں لیکن سیلاب کے دنوں میں ان کی آمد زیادہ ہوتی ہے۔

’زیادہ تر لاشیں گل سڑ چکی ہوتی ہیں کسی کی ٹانگیں نہیں کسی کے بازو نہیں، کسی کے جسم پر گوشت تک نہیں ہوتا۔

’جو تازہ لاشیں ہوتی ہیں جنھیں ڈوبے ہوئے زیادہ سے زیادہ ہفتہ ہوا ہوتا ہے ان کے جسم پر کپڑے ہوتے ہیں باقی جو پندرہ روز یا اس سے زیادہ پرانی لاشیں ہوتی ہیں تو ان کے تن پر کوئی بھی کپڑا نہیں ہوتا۔‘

لاش

’ہاتھ ڈالنے سے اعضا الگ ہو جاتے ہیں بدبو بھی بھی آتی ہے لیکن ہم بغیر ماسک اور دستانوں کے انھیں باہر نکالتے ہیں۔‘

عبدالنبی میرانی کے مطابق دریا کے کچے میں درخت اور پتھر ہیں اور لاشیں اس سے بھی رگڑ جاتی ہیں اس لیے یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ چوٹ کیسے لگی ہے۔

عام طور پر یہ لاشیں نکال کر پولیس کے حوالے کی جاتی ہیں اور وہ ایدھی ویلفیئر کو دے دیتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ لاشیں ہندوؤں کی ہوتی ہیں جن میں سے کچھ کے ہاتھوں پر اوم تحریر ہوتا ہے یا نام لکھا ہوتا ہے یا کچھ پر کچھ اور تحریر ہوتا ہے۔ ایسی بھی لاشیں ہوتی ہیں کہ وہ چادروں اور رسے باندھ کر دریا میں چھوڑی جاتی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’سوچ رہے تھے کہ ہماری لاشیں اپنے پیاروں کے پاس پہنچ پائیں گی یا نہیں‘

جاپان: ’پراسرار کشتی‘ سے پانچ لاشیں، دو انسانی سر برآمد

انسان بمقابلہ جانور، کون جیتا؟

ایشز: گابا کے سوئمنگ پول میں منگنی

لاشیں کہاں سے آتی ہیں؟

دریائے سندھ پر سندھ میں گڈو، سکھر اور جام شورو کے مقام پر تین بیراج بنائے گئے ہیں۔

گڈو بیراج اور سکھر بیراج کے درمیان تقریبا 150 کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور دونوں اطراف میں کچے کا علاقہ ہے۔

گذشتہ دس روز میں صرف سکھر بیراج سے 24 لاشیں ملی ہیں، جن میں سے ایدھی فاؤنڈیشن نے 14 کی تدفین کر دی ہے۔

ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک کے مطابق ’دریائے سندھ میں نچلے درجے کا سیلاب ہے، جب ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو مبینہ طور پر ہر جگہ لاشیں ملتی ہیں۔‘

’چند لاشیں ہندو اور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی ہوتی ہیں جنھیں اپنے مذہبی رواج کے طور پر پانی برد کیا جاتا ہے تاہم اکثر لاشیں بوسیدہ اور ناقابل شناخت ہوتی ہیں۔‘

عرفان سموں تین سال سکھر میں ایس ایس پی تعینات رہے ہیں اور ان کے نزدیک سیلابی پانی آنے پر لاشوں کی آمد کی تین وجوہات ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ جو حادثاتی یا اتفاقی طور پر دریا میں ڈوب جاتے ہیں، ان کی لاشیں کچے میں جھاڑیوں میں پھنسی رہتی ہیں۔ جب پانی کا دباؤ آتا ہے وہ انھیں بہا کر لے آتا ہے۔

’دوسری لاشیں ان خواتین یا مردوں کی ہوتی ہیں جن کو غیرت کے نام پر یا دشمنی میں قتل کر کے دریا میں پھینکا جاتا ہے اور تیسری لاشیں ہندو کمیونٹی کی ہوتی ہیں جو انھیں دریا برد کرتے ہیں۔‘

ایس ایس پی عرفان کے مطابق ان لاشوں کی شناخت ممکن نہیں رہتی اور بعض اوقات ان کے ڈی این اے وغیرہ بھی کیے جاتے ہیں۔

سکھر کے سینیئر صحافی ممتاز بخاری کا کہنا ہے کہ ’حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے گڈو بیراج کے دروازے کھلے رہے تھے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب سے بھی بعض لاشیں پانی کے بہاؤ کے ساتھ یہاں پہنچی ہوں۔‘

سکھر بیراج سے لاشوں کی برآمدگی کے بعد محمد علی میرانی کی سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہوئی جن کو صوبائی وزیر اریگیشن جام خان شورو نے عارضی ملازمت پر بھرتی کیا ہے تاہم عبدالنبی کا کہنا ہے کہ انھیں بھی ایسی ملازمت ملنی چاہیے تاکہ وہ بھی یہ خدمات سر انجام دیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25381 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments