مجھ جیسا اُس جیسے کی بیعت نہیں کرے گا


ابالاحرار، حضرت امام حسین ع
صدیاں گزریں، زمانے بدلے، لیکن حسین ع کا انکار نہ بدلا۔
تقاضائے بیعت ہوا، امام عالی مقام نے انکار کیا اور شہادت و سعادت کی راہ منتخب کی۔

اور امام کی رکاب میں ان کے خانوادے اور اصحاب نے وہ قربانیاں پیش کیں کہ تاریخ ان کی مثال لانے سے قاصر ہے۔

واقعہ کربلا کا بغور مطالعہ کریں تو حضرت امام حسین ع کا ایک ایک جملہ اپنے اندر ہدایت کے ہزار ہا باب لیے ہوئے ہے۔

امت کی بے راہروی، اور شریعت کی پائمالی کا جس قدر دکھ بندگان خدا کو ہوتا ہے وہ امام پاک کے ہر جملے سے عیاں ہے۔

امام علیہ السلام فرماتے ہیں

کیا وجہ ہے کہ تم اپنے علاقائی رسم و رواج میں تبدیلی پہ تو پریشان ہوتے ہو لیکن حدود الٰہی کی پائمالی تمہیں تکلیف نہیں دیتی؟

امام علیہ السلام نے اپنے اسوہ سے بتایا کہ شریعت کے احکامات کی نافرمانی، اور پاک رسول کی سنت میں تبدیلی اس قدر تکلیف دہ امر ہے کہ جس کے خلاف احتجاج اور قیام ضروری ہے۔

اپنے شہرہ آفاق جملے میں آپ علیہ السلام نے ہر باضمیر اور درد دل رکھنے والے شخص کے لیے ایک آفاقی اصول اور معیار دیا ہے۔

انکار بیعت یزید کے باب میں فرماتے ہیں کہ
مثلی لا یبایع مثلہ
مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔
اس جملے کی نزاکت و لطافت، اور فصاحت پہ سخن قربان

امام علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ میں یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔ اگر یہ فرماتے تو انکار بیعت فقط آپ کی ذات تک محدود ہو جاتا۔ لیکن آپ نے اس ایک جملے میں ہر نسل، ہر قوم، ہر قبیلے، ہر مذہب کے افراد کے لیے معیار متعین کیا کہ جب بھی کسی صاحب حق کے مقابلے میں کوئی بے اصول، بے ضمیر، اور ظالم شخص آ جائے تو میرے اسوہ پہ چلنے والا شخص کبھی جھکے گا نہیں، کبھی بکے گا نہیں، کبھی دبے گا نہیں، کبھی ڈرے گا نہیں۔

بلکہ ہر ظالم و جابر کے خلاف احتجاج کرے گا، قیام کرے گا، خروج کرے گا، قربانی دے گا لیکن ضمیر پہ سمجھوتا نہیں کرے گا۔

ہر حریت پسند ذہن اور ہر انقلابی روح کو ابا الاحرار کا یہی پیغام ہے کہ
جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو
ڈٹ جاؤ تم حسین ع کے انکار کی طرح


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سحر بتول کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments