تیل کی قیمتوں میں اضافہ: تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک قیمتوں میں کمی کیوں نہیں لا رہی؟


آئل
دنیا میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والے ممالک نے ستمبر میں اپنی پیداوار میں قدرے اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

تیل پیدا کرنے والے گروپ ’اوپیک پلس‘ کے اراکین، جس میں روس بھی شامل ہے، مشترکہ طور پر پیداوار میں 100,000 (ایک لاکھ) بیرل یومیہ اضافہ کریں گے۔ یاد رہے کہ جولائی اور اگست کے دوران یومیہ 600,000 بیرل کا اضافہ کیا گیا تھا۔

مگر تیل درآمد کرنے والے ممالک تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے اس سے بھی بڑا اضافہ چاہتے تھے۔

اوپیک پلس (OPEC+) کیا ہے؟

اوپیک پلس تیل برآمد کرنے والے 23 ممالک کا ایک گروپ ہے جو ہر ماہ ویانا میں اجلاس کرتا ہے جہاں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ عالمی منڈی میں کتنا خام تیل فروخت کیا جائے۔

اس گروپ میں صرف اوپیک (تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم) کے 13 ارکان ہیں، جو بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک ہیں۔ اوپیک 1960 میں ایک کارٹیل کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا، جس کا مقصد تیل کی دنیا بھر میں سپلائی اور اس کی قیمت کو طے کرنا تھا۔

آج اوپیک ممالک دنیا کا تقریباً 30 فیصد خام تیل پیدا کرتے ہیں، یعنی تقریباً 28 ملین بیرل یومیہ۔ سعودی عرب اوپیک میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جو یومیہ دس ملین بیرل سے زیادہ پیدا کرتا ہے۔

سنہ 2016 میں، جب تیل کی قیمتیں خاص طور پر کم تھیں، اوپیک نے دس غیر اوپیک تیل پیدا کرنے والوں کے ساتھ مل کر ’اوپیک پلس‘ تشکیل دیا۔

تیل

ان نئے اراکین میں روس بھی شامل ہے جو یومیہ دس ملین بیرل سے زیادہ تیل کی پیداوار کرتا ہے۔

یہ ممالک مل کر دنیا کے تمام خام تیل کا تقریباً 40 فیصد پیدا کرتے ہیں۔

انرجی انسٹیٹیوٹ کی کیٹ ڈوریئن کہتی ہیں کہ ’اوپیک پلس مارکیٹ میں توازن کے لیے رسد اور طلب کو دیکھ کر تیل کی پیداوار کا ہدف طے کرتے ہیں۔ جب تیل کی مانگ میں کمی آتی ہے تو وہ سپلائی کم کر کے قیمتیں بلند رکھتے ہیں۔‘

اوپیک پلس مارکیٹ میں زیادہ تیل ڈال کر قیمتیں بھی کم کر سکتا ہے جو کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے بڑے درآمد کنندگان چاہتے ہیں۔

تیل کی قیمتیں اتنی زیادہ کیوں ہیں؟

سنہ 2020 کے موسم بہار میں، جیسے ہی کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیل گیا اور بیشتر ممالک لاک ڈاؤن میں چلے گئے، خریداروں کی کمی کی وجہ سے خام تیل کی قیمت گِر گئی۔

کیٹ ڈوریئن کے مطابق تیل پیدا کرنے والے یہ ممالک لوگوں کو تیل کی کھپت کے لیے پیسے دے رہے تھے کہ وہ یہ خرید لیں کیونکہ ان کے پاس اتنی جگہ نہیں تھی کہ وہ تیل ذخیرہ کر سکتے۔

اس کے بعد اوپیک پلس میں شامل ممالک نے قیمت کو واپس لانے میں مدد کے لیے پیداوار میں دس ملین بیرل یومیہ کمی کرنے پر اتفاق کیا۔

جون 2021 میں خام تیل کی مانگ بحال ہونے کے ساتھ، اوپیک پلس نے بتدریج سپلائی میں اضافہ کرنا شروع کیا، جس سے عالمی منڈیوں میں روزانہ 400,000 بیرل اضافی ڈالے گئے۔ جولائی اور اگست میں، اس میں 600,000 کا اضافہ ہوا۔ ستمبر میں اس میں مزید 100,000 کا اضافہ ہو گا۔

تاہم اب بھی یہ ممالک سنہ 2020 کے مقابلے میں تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ کم سپلائی کر رہے ہیں۔

جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو منڈیوں میں خوف و ہراس کی وجہ سے خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی۔ جس کی وجہ سے عام صارف کے لیے پٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ڈیوڈ فائف، جو آرگس میڈیا میں چیف اکنامسٹ کے عہدے پر ہیں، کا کہنا ہے کہ جب اوپیک پلس نے مئی 2020 میں یومیہ دس ملین بیرل کی سپلائی میں کمی کی تو انھوں نے یہ بہت بڑی کمی کی۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی تیل کی کہانی، یہ دولت کب آئی اور کب تک رہے گی؟

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی منڈیوں میں گندم کی قیمتیں بڑھنے کا خطرہ

تیل کی قیمتیں کم کرنے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کیا مدد کر سکتے ہیں؟

ان کے مطابق ’اب وہ سست رفتار سے سپلائی میں اضافہ کر رہے ہیں جو روس، یوکرین کے بحران کے اثرات کو مدنظر نہیں رکھتا ہے۔‘

ڈیوڈ فائف کا کہنا ہے کہ تیل کے خریداروں میں یہ خوف ہے کہ یورپی یونین امریکہ کی پیروی کرے گی اور روس سے تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرے گی۔

یورپ اس وقت روس سے ڈھائی ملین بیرل یومیہ خام تیل درآمد کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’روسی تیل پر پابندی کے خطرے نے مارکیٹوں کو خوفزدہ کر دیا ہے کیونکہ یہ سپلائی میں شدید دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔‘

اوپیک پلس تیل کی پیداوار میں اضافہ کیوں نہیں کرے گا؟

امریکی صدر جو بائیڈن نے بارہا سعودی عرب سے تیل کی پیداوار بڑھانے کی اپیل کی ہے مگر انھیں اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے پیداوار بڑھانے کو کہا، مگر وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔

بورس جانسن

کیٹ کہتی ہیں کہ ’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس اضافی گنجائش ہے، لیکن وہ خود پیداوار بڑھانے سے انکاری ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ مغرب ان پر حکم چلائے۔‘

یہ ممالک کہہ رہے ہیں کہ طلب اور رسد کے درمیان فرق کم ہو رہا ہے، اور یہ کہ آج کی اونچی قیمتیں صرف تیل کے خریداروں کی طرف سے گھبراہٹ کی عکاسی کرتی ہیں۔‘

دیگر اوپیک پلس ممالک پیداوار بڑھانے کے لیے سرگرداں ہیں۔

ڈیوڈ فائف کا کہنا ہے کہ ’نائجیریا اور انگولا جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک گذشتہ سال کے دوران اپنے پیداواری کوٹے کو ایک دن میں ایک ملین بیرل کے حساب سے کم کر رہے ہیں۔‘

’وبائی بیماری کے دوران سرمایہ کاری نمایاں طور پر گر گئی۔ اور بعض صورتوں میں تو تیل کی تنصیبات بھی کم پڑ گئیں۔ شاید وہ اچھی طرح سے ان کی مرمت نہیں کی پائے تھے۔ اب ان ممالک کو پتا چلا کہ وہ پیداوار میں مکمل اضافہ نہیں کر سکتے ہیں۔‘

روس

روس کیا چاہتا ہے؟

اوپیک پلس کو بھی روس کی خواہشات کا احترام کرنا ہو گا کیونکہ یہ اتحاد کے دو بڑے شراکت داروں میں سے ایک ہے۔

کرسٹول انرجی کے سی ای او کیرول ناخلے کہتی ہیں کہ ’روس کے شہری اس سطح پر قیمتوں سے خوش ہیں۔‘

انھیں قیمتوں میں کمی کی صورت میں کچھ ملتا نظر نہیں آتا۔

ان کے مطابق ’اوپیک روس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے، اس لیے زیادہ امکان ہے کہ وہ پچھلے سال کیے گئے معاہدے کو جاری رکھیں گے۔‘

’اس کا مطلب ہے کہ اب سے ستمبر تک خام تیل کی سپلائی میں کافی بتدریج اضافہ ہو گا۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25351 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments