تاریخ کی غدار قوم


 

تاریخ اسلام جہاں ایک طرف ان وفا شعاروں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے خون جگر دے کر اسلام اور داعیان اسلام سے وفاداری نبھائی۔ تو وہیں تاریخ اپنے دامن میں کچھ ایسے بد نما چہروں کو بھی چھپائے ہوئے ہے جن کے دامن غداری کے جرم عظیم سے داغدار ہیں۔ اسی نشیب و فراز میں اگر ”کوفی قوم“ کو تاریخ اسلام کی سب سے غدار قوم قرار دیا جائے تو شاید بے جا نہ ہو جنہوں نے ہر چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہوئے ہر دور میں اپنے ہمدردوں اور وفاداروں کو کٹوانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔

”حضرت علیؓ“ کے لشکر میں بھی اکثریت کوفیوں کی ہی تھی۔ اسی وجہ سے آپؓ نے اپنا دارالحکومت مدینہ سے کوفہ منتقل کیا۔ لیکن پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب ایک گروہ خوارج کی صورت میں آپؓ کے لشکر سے جدا ہو کر آپؓ کو مورد الزام ٹھہرانے لگا اور جو آپؓ کے ساتھ تھے اور اپنے آپ کو شیعان علی کہا کرتے تھے وہ بھی علانیہ آپؓ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے لگے۔ یہی وجہ تھی کہ آپؓ کسی بڑی جنگی کارروائی سے باز رہے۔ نیز یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ”سیدنا حسنؓ“ پر کفر کا فتویٰ لگایا اور پھر کچھ تاریخی روایات کے مطابق زہر دلوا کر شہید بھی کر دیا۔

60 میں جب یزید تخت نشین ہوا تو یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے ”حضرت حسینؓ“ کو ”18 ہزار“ خطوط لکھے اور یزید کے خلاف خروج پر آمادہ کیا۔ اور پھر آپؓ کے سفیر ”حضرت مسلم بن عقیل“ کے ہاتھ پر پہلے ہی روز ”12 ہزار“ لوگوں نے بیعت بھی کر لی۔ لیکن جب ”حضرت امام حسینؓ“ نے خروج فرمایا تو غداران کوفہ عبید اللہ بن زیاد کے ساتھ مل گئے اور آخرکار میدان کربلا میں ”نواسہ رسول“ کو بھوکا پیاسا شہید کر دیا۔

کوفیوں کی غداری فقط امام حسینؓ کی شہادت تک محدود نہ رہی بلکہ چشم فلک نے غداران کوفہ ہی کی بدولت 71 ہ میں مقام جاثلیق میں ایک اور کربلا کا منظر دیکھا جب عبدالملک بن مروان ”حضرت عبداللہ بن زبیر“ کی طرف سے مقرر شدہ گورنر کوفہ اور ان کے بھائی ”حضرت مصعب بن زبیر“ کے مقابل آیا۔ تو عین میدان جنگ میں کوفی ”حضرت مصعب“ کا ساتھ چھوڑ کر عبدالملک کے ساتھ مل گئے۔ اور ”حضرت مصعب بن زبیر“ کے ساتھ میدان میں صرف سات آدمی رہ گئے۔ اور بمثل کربلا مقام جاثلیق میں نواسہ رسول کی طرح نواسہ صدیقؓ بھی کوفیوں کی غدار کی بھینٹ چڑھ گئے۔

یوں ہی 122 ہ میں جب ہشام بن عبدالملک کی طرف سے یوسف ثقفی کوفہ کا گورنر تھا تو کوفہ میں ”15 ہزار“ لوگوں نے ”حضرت زید بن علی بن حسین بن علیؓ“ کے ہاتھ پر بیعت کی اور گورنر کوفہ کے خلاف خروج پر آمادہ کیا لیکن جب میدان کارزار میں تلوار چلانے اور مردانگی دکھانے کا وقت آیا تو بیعت فسخ کر کے گھروں کو چل دیے اور حضرت زید بن علی کے ساتھ میدان جنگ میں صرف 122 آدمی رہ گئے زید بن علی کوفہ میں ایک ایک شخص کے گھر تک گئے اور اپنا کیا ہوا عہد و پیمان یاد دلایا لیکن کوفی جو کہ پہلے ہی ”کوفی لا یوفی“ مشہور تھے کسی نے جواب تک نہ دیا اور زید بن علی نے اسی وقت سے ان غداران کو ”رافضی“ کا خطاب دیا۔

اور میدان جنگ میں جام شہادت نوش کر دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کوفہ سے اٹھنے والے غداران کا یہ گروہ ہمیشہ اسلام کیلے آستین کا سانپ بنا رہا۔ تاریخ شاہد ہے میدان کارزار میں معتصم باللہ کو تن تنہا چھوڑنے والا ابن علقمی ہو۔ یا انگریز کے مقابلے میں سلطان سراج الدولہ سے غداری کا ارتکاب کرنے والا میر صادق، ٹیپو سلطان کو میدان جہاد میں اکیلے چھوڑنے والا میر جعفر ہو یا مشرقی پاکستان کو پیچنے والا جنرل یحییٰ۔ سب ایک ہی گھاٹ سے پانی پینے والے بھیڑیے ہیں جو ہمیشہ ہی اپنے خونخوار دانتوں سے اسلام کے سینے کو چاک کرنے میں ملوث رہے۔

داعیان اسلام کیلے مقام فکر ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں۔ اور ان تمام خونخوار درندہ نما انسانوں سے ہوشیار رہیں جو کسی بھی لمحے اسلام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے منزل کی طرف گامزن رہیں۔ جب متحد ہو کر ہمارے قدم منزل کی جانب اٹھیں گے تو وہ وقت دور نہیں جب منزل ہماری قدم بوسی سے باریاب ہو گی۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں۔
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں۔

Facebook Comments HS