امرتسر میں ننھیالی گاؤں کی سیر


بچپن کی گرمیوں کی راتیں میری زندگی کا خوبصورت اثاثہ ہیں، کیونکہ راتوں کو کھلے آسمان کے نیچے سونے کا موقع ملتا تھا، ہم سب بہن بھائی گھر کی چھت پر سویا کرتے تھے، سونے سے پہلے تقریباً آدھا گھنٹہ ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے، مذاق کرتے، ایک دوسرے کو چھیڑتے، ماضی قریب میں ہونے والی شادیوں پر ہونے والے دلچسپ واقعات دوہراتے اور خوب ہنستے، ہمارے گھر میں بچپن سے ہی نوائے وقت، تعلیم و تربیت اور نونہال جیسے اخبار اور جرائد آتے تھے، ان میں چھپنے والے کہانیاں اور لطیفے زیر بحث آتے۔

آسمان پر تارے بہت قریب محسوس ہوتے تھے، ہم روزانہ ان کی حرکات و سکنات نوٹ کرتے کہ آج یہ ستارہ کدھر ہے اور کل کہاں تھا، کچھ دنوں کے بعد یہ کہاں ہو گا؟ دبے اکبر اور شہابیے ہماری توجہ کا خاص مرکز ہوتے تھے، اماوس کی راتوں کی خوبصورتی اپنی جگہ لیکن جب چاند نکلا ہوتا تو منظر ہی کچھ اور ہوتا، چاند کی روشنی میں آسمان میں اڑتے پرندے ہماری توجہ کا مرکز بن جاتے، کبھی کبھار کونجوں کی قطار چاند کے بیچ میں سے گزر جاتی، ہم چاند کو غور سے دیکھ کر اس پر پہاڑ، بادل اور کھڈے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے، چاند کے قریب ترین سب سے روشن ستارہ کیا واقعی ستارہ ہے یا سیارہ؟ اس مسئلہ کو لے کر ہم میں ہمیشہ اختلاف پایا جاتا رہا۔

پھر اچانک دور آسمان میں کوئی جہاز گزر جاتا، ہم اس کے بارے میں بات شروع کرتے کہ اس میں لوگ کیا کر رہے ہوں گے، کہاں جا رہے ہوں گے، ہر کوئی اپنا اپنا guess لگاتا، گفتگو کا اختتام ہمیشہ آپس میں لڑائی پر ہوتا، امی غصے سے بولتیں ”اے کی ہو ریا“ ؟ (یہ کیا ہو رہا ہے؟ ) کوئی نہ کوئی بولتا ”میں اینوں کی کیا؟ (میں نے اسے کیا کہا ہے؟ )“ دوسرا بولتا ”اینے پہلے گل کیتی اے“ ( اس نے پہلے بات کی تھی ) اور امی یا ابو کی جھڑکیوں کے بعد سب دبک کر سو جاتے۔

شاید ہم سب بہن بھائی کبھی ایسے اکٹھے نہ ہو پائیں، اپنے اپنے کریئر، شادیاں، بچے اور مصروفیات، کیا کہیں؟ کہ شاید یہی زندگی ہے،

(اب تو یہ کلچر بھی شاید ختم ہوتا نظر آتا ہے، کچھ عرصہ قبل گرمیوں میں پاکستان جانے کا موقع ملا، میں نے چھت پر سونے کی خواہش ظاہر کی، سب نے مجھے حیرانی سے دیکھا،

” کیوں بیٹا خیر ہے؟

میں بھی وہاں ایک گھنٹے سے زیادہ نہ گزار سکا، آسمان دھندلا، پرندوں کی آوازوں کی جگہ سپلٹ اے سی یونٹس کا شور) ۔

میں اکثر امی سے کہانی کی فرمائش کرتا، میری والدہ کا دھدیال امرتسر کے گاؤں ”قادر آباد“ سے ہے اور پارٹیشن کے بعد زیادہ تر گاؤں ہجرت کر کے لائلپور میں آباد ہو گیا تھا، اس وقت میرے نانا کی عمر تقریباً بیس سال تھی، میری والدہ کی دادی اپنے گاؤں کو بہت مس کرتی تھیں، انہوں نے میری والدہ کو اپنے گاؤں اور گھر کی بہت سی باتیں بتائیں جو وہ مجھے کہانی کے طور پر سناتیں، اب میں اکثر سونے سے پہلے انہیں کہتا، امرتسر اور قادر آباد کی باتیں بتائیں۔

قادر آباد امرتسر کے شمال میں گورداس پور کی طرف ایک چھوٹا سا خوبصورت سرسبز گاؤں ہے جس کو میرے نانا کے بڑوں نے آباد کیا تھا، ان کے بڑوں میں ایک معتبر نام جو میری والدہ بتایا کرتی تھیں ”میاں وارث“ تھا جو برٹش آرمی میں ملازم رہ چکے تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اسی گاؤں میں رہے اور دفن ہوئے۔

گاؤں کی کھلی فضا اور بڑے ”ویڑوں“ والے گھروں میں رہنے والوں کو اگر شہر کے آس پاس ”مرلوں“ میں رہنا پڑ جائے تو ایسا ہی ہے جیسے جنگل میں رہنے والے جانوروں کو چڑیا گھر میں ڈال دیا جائے، ان کہانیوں سے مجھے محسوس ہوا کہ میری پڑنانی کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی، وہ کہتیں، بڑے بڑے کھلے گھر تھے، اپنے جانور اور زمینیں تھیں، کسی کو کوئی فکر معاش نہیں تھا، ایک چولہے پر کئی ٹبر اکٹھے کھاتے تھے، شادیوں پر کئی کئی دن مہمان ٹھہرتے اور خوبصورت رسم و رواج ہوتے رہتے تھے، گاؤں میں کوئی بارات آتی تو نہ کھانے کی فکر ہوتی نہ ٹھہرانے کی، ایک گھر کی بارات سارے گاؤں کی عزت بن جاتی۔

ایک دفعہ گاؤں میں آنے والی ایک بارات دو دن کے بعد روانہ ہوئی، تو جاتے ہوئے کسی کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو ہمیں تین دن بھی نہیں ٹھہرا پائے، گاؤں کے کسی آدمی نے اس کی بات سن لی، اس نے بارات روک لی، اور بولا کہ ہمارے ہاں رواج ہے کہ ہم اپنی مرضی سے بارات کو روک بھی سکتے ہیں اور ساری بارات کو اپنے گھر لے گیا، تین دن کے بعد باراتیوں نے جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ آپ میری مرضی سے واپس جائیں گے، تب بارات میں موجود کچھ بزرگوں کو سمجھ آئی، معذرت کے بعد ، پیار محبت کے ساتھ بارات کو روانہ کیا گیا۔

”ترنجن“ سجتا اور خاندان کی عورتیں ساری ساری رات چرخا کاتتیں اور اچانک کسی بڑی بوڑھی کی فرمائش پر چرخے ایک طرف رکھ کے گانوں، گدوں اور بولیوں کا دور چلتا، کھیر اور کئی قسم کے میٹھے ساتھ بن رہے ہوتے، عورتوں میں جس نوجوان لڑکی کی شادی قریب ہوتی سب اسے ٹچکریں کرتیں، اس کے ہونے والے میاں کے بارے میں مذاق کرتیں، اس کی لمبی یا چھوٹی ناک پر تبصرے ہوتے اور وہ شرم سے پانی ہوئے جاتی۔

ان کہانیوں میں سب سے رنگین اور خوبصورت کردار ”صغرا“ کا تھا جس کو سب پیار سے ”صغری“ کہتے تھے اس کو تو گانے اور گدا ڈالنے کا بہانہ چاہیے ہوتا تھا، اچی لمبی گوری چٹی صغری کی بڑی بوڑھیاں ہر وقت بلائیں اتارتی رہتیں، اس کی شرارتوں پر ہنستیں اور پیار سے کوستی بھی رہتیں کہ مت ایسے کیا کرو تم نے ایک دن اپنے گھر جانا ہے، سسرال یہ حرکتیں برداشت نہیں کرتا، وہ ہنس کے کہتی کہ میں نے کہیں جانا ہی نہیں بس یہیں رہنا ہے، وہ پھر ہنستیں اور کہتیں ”دور فٹے منہ تیرے“ ایسے نہیں کہتے۔

”صغری“ بھی اپنی دھن کی پکی نکلی، جب اس کی شادی ہوئی تو کچھ دن بعد وہ ملنے آئی اور کئی مہینے رہی، پھر سسرال گئی تو کچھ دنوں کے بعد پھر آ گئی، اس کو سسرالی گاؤں اور ماحول پسند نہیں آیا، پھر بڑوں نے مشاورت اور اس کے سسرال کی مرضی سے اسے حویلی میں الگ سے جگہ دے دی اور کہا کہ تم اپنے میاں کے ساتھ یہاں رہو اور جب تم دونوں یہ محسوس کرو کہ تمہیں واپس جانا ہے تو جا سکتے ہو، لیکن اس واقعے کے ایک سال بعد پارٹیشن ہو گئی اور سب کو گاؤں چھوڑنا پڑ گیا، اب صغری کے پاس کوئی choice نہیں تھی اور اسے اپنے سسرال ”گنجی بار“ یعنی ساہیوال کے علاقے میں آنا ہی پڑا۔

ان کے خاندان میں ایک آدمی حوالدار تھا، اس کا نام غلام احمد تھا، اس زمانے میں کسی کا حوالدار ہونا ”ڈی سی“ ہونے سے کم نہیں تھا، اسے سب تھانیدار کہتے تھے، گاؤں کے ایک طرف اس کی حویلی تھی جو ”تھانے دار کی حویلی“ کہلاتی تھی، بڑی حویلی کے بعد یہ دوسری حویلی تھی، چار دیواری اور اس کے اندر بلڈنگ کے چاروں طرف کھلی جگہ جس میں انواع و اقسام کے پھلدار اور پھولدار پودے لگے تھے، یہ گاؤں کے اخیر میں تھی اس لئے عورتوں کی زیادہ تر ایکٹیویٹیز اسی میں ہوتی تھیں تاکہ دوسرے لوگوں تک آوازیں نہ جائیں۔

اس زمانے میں انڈیا میں زیادہ تر سمندری نمک استعمال ہوتا تھا، میاں وارث نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پہاڑی نمک کا ایک ٹرک منگوایا، اب سارا گاؤں پہاڑی نمک استعمال کرتا تھا، پارٹیشن تک اس نمک کا کچھ ڈھیر ابھی باقی تھا۔

میاں وارث پاکستان بننے سے کافی عرصہ پہلے وفات پا گئے تھے لیکن ان کی بوڑھی بیوہ ابھی زندہ تھی، کسی ضرورت کے تحت حویلی کی ڈیوڑھی میں نالی نکالنے کی ضرورت پڑی، بوڑھی بیوہ نے اس کی شدید مخالفت کی اور کئی دن تک نالی نہیں کھودنے دی، سب اس کے پاس گئے اور مخالفت کی وجہ پوچھی تو اس نے دو ٹوک کہا ”میں نے جو کہہ دیا کہ نالی نہیں کھودنی“ اس میں تم سب کا بھلا ہے،

اس شدید مخالفت کے باوجود سب نے فیصلہ کیا کہ نالی کھود دی جائے، بڑی بڑھیا شاید سٹھیا گئی ہے اور نالی کھود دی گئی، بیوہ نے کئی دن تک اس کا سوگ منایا۔

جب پارٹیشن کا زمانہ قریب آیا تو شنید تھی کہ امرتسر اور گورداسپور پاکستان کا حصہ ہوں گے، اس لئے سب اطمینان سے بیٹھے رہے لیکن اچانک ایک رات پتہ چلا کہ امرتسر بھارت میں شامل کر دیا گیا ہے، سارے علاقے میں بلوے شروع ہو گئے، سکھوں کی عورتوں نے ڈھولکیاں نکال کر جشن منانا شروع کر دیا، گانوں کے بول تھے ”پاکستان پھوک کے اساں ہندوستان بنایا“

خبریں آنا شروع ہوئیں کہ ساتھ والے سکھوں کے گاؤں قادر آباد پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، سب ابھی تک اس گمان میں تھے کہ یہ فیصلہ واپس ہو جائے گا اور امرتسر پاکستان کا حصہ بن جائے گا، انہوں نے حملے کا مقابلہ کرنے کی تیاری شروع کر دی، میاں وارث کی بیوہ نے سب کو اپنے پاس بلا یا اور ڈیوڑھی کی کھدائی کرنے کو کہا، جب ڈیوڑھی کھودی گئی تو بڑی تعداد میں بندوقیں اور اسلحہ نکلا جسے ململ کے کپڑوں میں لپیٹا گیا تھا، لیکن افسوس کہ نالی کے پانی کے رسنے سے سارا اسلحہ زنگ آلود ہو چکا تھا، سب نے کہا آپ نے ہمیں بتایا کیوں نہیں کہ یہاں اسلحہ ہے؟

اس نے کہا تمھارے بابے نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ اگر کوئی بہت بڑی مصیبت آئے تو ان کو اس اسلحے کے بارے میں بتانا ورنہ یہ پہلے نکال کر ایک دوسرے پر استعمال کر دیں گے، بہرحال اس نے بارود سے گولے بنانے سکھائے اور ساری رات خالی گولے چلائے جاتے رہے اور علاقے میں مشہور ہو گیا کہ میاں وارث کا اسلحہ نکل آیا ہے، ان کی طرف سے حملے کا منصوبہ وقتی طور پر ترک کر دیا گیا۔

لیکن یہ بات کب تک چھپ سکتی تھی پھر مشہور ہوا کہ میاں وارث کا اسلحہ زنگ آلود نکلا ہے، آس پاس کے دیہاتوں میں موجود کچھ ہمدرد سکھ دوست، خاندان کے بڑوں کو ان کے حملے کی منصوبہ بندی کی خبر دے گئے اور راتوں رات گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا، ابھی بھی اس امید پر کہ ہم واپس آ جائیں گے اور یہ گھر دوبارہ آباد ہوں گے، تمام گھروں سے سونا اور زیورات اکٹھے کر کے ایک گھڑے میں ڈال کر حویلی میں کہیں دبا دیے گئے، ڈنگروں کی رسیاں کھول دی گئیں تاکہ وہ آزادی سے کھا پی سکیں، گاؤں میں کچھ عیسائی خاندان تھے جو زمینوں پر کام کرتے تھے اور ان کی عورتیں گھروں کے کاموں میں مدد گار ہوتی تھیں، بقیہ ضروری سامان ان کے حوالے کیا گیا اور رات کے دوسرے پہر پانی لگی فصلوں میں پناہ لی گئی اور پھر بوڑھے، بچے اور عورتیں پیدل سفر کرتے ہوئے پاکستان پہنچے، اور آج تک کوئی واپس نہ جا سکا۔

یہ پورا گاؤں لاہور، ساہیوال، بہاولپور اور لائلپور میں پھیل گیا، جہاں جس کے سینگ سمائے وہیں کا ہو گیا اور آخری سانس تک اپنے دیس گاؤں کو نہ بھول سکا، وہ سب اپنے گاؤں کا ذکر ”دیس“ کے نام سے کرتے رہے کہ جب ہم دیس میں ہوتے تھے تو یوں ہوتا تھا، جب دیس سے اجڑے، یا فلاں کی شادی دیس میں ہوئی تھی، فلاں دیس میں پیدا ہوا تھا، چاند وہاں زیادہ روشن تھا، چاندنی راتوں میں دیے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، کون سی فصل ”دیس“ میں بہتر ہوتی تھی، آج کل ”دیس“ میں کیسا موسم ہو گا اور زمینوں میں کیا اگ رہا ہو گا، تاحد نگاہ سرسوں پھول رہی ہوگی۔

انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ پاکستانی فوج امرتسر تک پہنچ گئی ہے، میری پر دادی نے اپنا سامان باندھنا شروع کر دیا کہ شکر ہے اب ہم اپنے دیس جا سکیں گے۔

مئی، 2004

ان کہانیوں کے تقریباً بارہ سال بعد مئی، 2004 کی ایک دوپہر ”میں“ واہگہ بارڈر پر لگی خوفناک خاردار باڑ کے بالکل درمیان کھڑا اس کی بناوٹ کا جائزہ لے رہا تھا، پاکستان سائیڈ پر امیگریشن کروانے کے بعد میں پیدل بارڈر کراس کرتے ہوئے باڑ کے پاس رک گیا تھا، پیچھے سے مجھے میری ڈائریکٹر ”مدیحہ گوہر“ نے جوائن کیا اور میں ان کے ساتھ آگے بڑھ گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا تمہارا کوئی رشتے دار انڈیا میں رہتا ہے؟ میں نے کہا جی نہیں، البتہ میرا ننھیالی گاؤں ”قادر آباد“ امرتسر میں ہے اور میں نے اپنی والدہ سے اس کی بڑی کہانیاں سن رکھی ہیں، وہ بہت ایکسائٹڈ ہو گئیں اور بولیں پھر تو وہ گاؤں تمہیں ضرور دیکھنا چاہیے، میں نے کہا اگر ایسا ہو جائے تو بہت اچھا ہے، وہ بولیں کیوں نہیں وہاں پہنچ کے کچھ کرتے ہیں۔

میں اجوکا تھیٹر کے ساتھ کسی کانفرنس میں شرکت کے لئے چندی گڑھ جا رہا تھا اور تین دن کے بعد ہم نے امرتسر واپس آنا تھا جہاں میں نے چند اور ساتھیوں کے ساتھ گرو نانک دیو یونیورسٹی امرتسر میں ”این ایس ڈی“ ( نیشنل اسکول آف ڈرامہ، دہلی) پنجاب چیپٹر کی ایک مہینے پر محیط تھیٹر ورکشاپ اٹینڈ کرنی تھی، جس میں پورے انڈین پنجاب اور لاہور سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شرکت کر رہے تھے۔

اس ورکشاپ کے شروع ہونے سے تقریباً چار دن پہلے ہم امرتسر پہنچ گئے، ہمارے میزبان بھارت کے مشہور تھیٹر ڈائریکٹر ”کیول دھا لیوال“ نے ان چار دنوں کے لیے ہمیں ہوٹل کی بجائے گولڈن ٹیمپل کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا جو کہ انتہائی خوبصورت فیصلہ تھا، اب میں سارا دن امرتسر کی گلیوں میں پھرتا، جلیانوالہ باغ بالکل پاس تھا وہاں گھومتا، کرنل ڈائر نے ہندوستانیوں (جن میں ہندو، مسلم، سکھ سب شامل تھے ) پر 13 اپریل 1919 میں جو قیامت ڈھائی تھی اس کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا، جہاں آج بھی دیواروں پر گولیوں کے نشان سب شہیدوں کی شہادت کی گواہی دیتے ہیں، اے حمید اور منٹو کی تحریروں میں موجود کمپنی باغ امرتسر کے باغیچوں میں پہنچ جاتا، ہال گیٹ کے ڈھابوں سے ادرک والی چائے پیتا اور تھک کر واپس گولڈن ٹیمپل کے ٹھنڈے تالاب کے کنارے لیٹ جاتا، وہاں کا مزیدار لنگر کھاتا ( جس کو کھانے کے آداب سے میں ناواقف تھا اور چند سکھ بزرگوں نے جھڑکیوں کے ساتھ مجھے لنگر وصول کرنے اور کھانے کے آداب سکھائے ) اگر میں وہاں ننگے سر پڑا ہوتا تو کوئی نہ کوئی میرے سر پر کپڑا ڈال جاتا، میں شرمندگی میں اسے باندھ لیتا، بعض اوقات میں ساری رات وہاں گزار دیتا اور وہیں سو جاتا، وہاں کے Mystic ماحول میں ہارمونیم پر گروبانی کا پاٹ چار چاند لگا دیتا۔

صبح تقریباً چار بجے گولڈن ٹیمپل میں گرو گرنتھ صاحب کی ”پالکی“ کا ٹائم ہو جاتا، جس میں گرنتھ صاحب کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ایک جلوس کی شکل میں منتقل کیا جاتا ہے، اس تقریب کا حصہ بن کر تمام رسومات کا جائزہ لیتا۔

کسی شام امرتسر میں موجود میرے دوست مجھے ڈنر کے لیے روایتی مشہور دکانوں پر لے جاتے جہاں اگر لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں تو رش پڑ جاتا، کوئی کولڈ ڈرنک آفر کر رہا ہے، کوئی پان، کوئی بازو پکڑ کر اپنی فیملی کے پاس لے جا رہا ہے، کوئی بضد ہے کہ میں اس کے ساتھ کھانا کھاؤں، کافی مشکل ہو جاتی، میں نے دوستوں سے کہہ رکھا تھا کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ میں پاکستانی ہوں ( ان دوستوں میں سے کچھ آج انڈیا کے بڑے کامیڈین ہیں )

ایک دن امرتسر کا ایک لوکل مشہور گلوکار مجھے ملنے آیا اور فرمائش کی کہ میں اس کے ساتھ اس کا آفس دیکھنے چلوں، میں چاہتے ہوئے انکار نہ کر سکا اور اس کے ساتھ چلنے کی حامی بھر بیٹھا، جب میں گاڑی میں بیٹھا تو مجھے اپنی غلطی کا مزید احساس ہوا، اس کی گاڑی میں دیسی شراب کی شدید بدبو پھیلی ہوئی تھی، میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ گھر میں خود دیسی نکالتا ہے اور سارے رستے اس کے فوائد گنواتا گیا کہ یہ جسم کے کن کن اعضا کے لیے کتنی مفید ہے، اس کی ڈرائیونگ دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ وہ حضرت اس وقت اس ( دیسی) سے مستفید ہونے کے پراسیس میں ہیں۔

لارنس روڈ امرتسر کی ایک خوبصورت بلڈنگ میں اس کا آفس تھا، جب ہم وہاں پہنچے تو اس نے اپنا سٹوڈیو دکھانے کے بعد فرمائش کر ڈالی کہ میں اس کے ہاتھ کی کشید کردہ دیسی شراب نوش فرماؤں، میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی، پینا تو دور کی بات اس کی بدبو سے مجھے ابکائی آ رہی تھی، میرے انکار پر اس نے آنسوؤں کے ساتھ رونا شروع کر دیا، اب میں اسے تسلیاں بھی دے رہا ہوں اور اس situation سے نکلنے کی planning بھی، وہ روتے ہوئے بول رہا ہے کہ اگر آپ میرے ہاتھ سے اس کا ایک گلاس لے لیں گے تو میں سمجھوں گا مجھے سورگ مل گئی، اس کے آفس کی بالکنی میں بہت سے بڑے پودوں کے گملے پڑے تھے، مجھے ترکیب سوجھی میں نے کہا مجھے اس کی بو پسند نہیں لیکن پھر بھی میں تمہارا دل رکھنے کے لیے اسے ایک ہی دفعہ میں پیوں گا، قصہ مختصر نظر بچا کے میں نے وہ گلاس بڑے گملے میں انڈیلا اور خالی گلاس منہ کو لگا کر ڈرامہ کیا کہ میں سارا ایک گھونٹ میں غٹک گیا، خدا خدا کر کے اس نے مجھے گیسٹ ہاؤس پہنچایا۔

ایک دن اسی آوارہ گردی میں میں ”غلامے“ کے ڈھابے پر جا نکلا، یہ ایک کشمیری مسلمان تھا جس کا مٹن شوربا شہر بھر میں مشہور تھا، مجھ سے میرے دوستوں نے اس کا ذکر کر رکھا تھا، میں نے اسے تعارف کروایا تو وہ سب کام چھوڑ کر میری خدمت میں جت گیا، تازہ روٹیاں لگوا کر مجھے خود serve کرتا رہا، کئی سال پہلے پاکستان کی ہاکی ٹیم امرتسر کھیلنے آئی تھی، ان کے کھانے کا بندوبست بھی اسی نے کیا تھا۔

جب مدیحہ گوہر امرتسر پہنچیں تو انہوں نے آتے ہی مجھے بتایا میں تمہارے ”قادر آباد“ جانے کا انتظام کر رہی ہوں تم نے ضرور جانا ہے اور سستی نہیں کرنی، مجھ سے زیادہ ان کو فکر تھی کہ میں اپنے اجداد کا گاؤں دیکھوں، انہیں پتہ تھا کہ میرے نانا ابھی زندہ ہیں، انہوں نے کہا کہ آفیشل کیمرہ مین ساتھ جائے گا جو ویڈیو بنائے گا اور تم یہ ویڈیو اپنے نانا کو دکھانا۔

ایک شام پروفیسر چراغ مجھے ملنے گیسٹ ہاؤس آئے، انتہائی شفیق اور پڑھے لکھے انسان جن کو اردو اور فارسی پر بھی عبور تھا، تھے تو وہ بھی سکھ لیکن ان کا نام ان کے والد نے چراغ رکھا کیونکہ بقول ان کے وہ بھی اردو میڈیم کے پڑھے ہوئے تھے، ان کو قادر آباد کا پتہ تھا، انہوں نے بتایا کہ ہم کل قادر آباد جا رہے ہیں۔

اگلی صبح میں اور میرا کیمرہ مین پروفیسر چراغ کی گاڑی میں (جو وہ خود ڈرائیو کر رہے تھے ) اپنی پڑنانی اور نانا کے ”جنت دیس“ کو دیکھنے کے لئے روانہ ہوئے۔

میری آنکھوں کے سامنے میری کہانیوں کے سب کردار گھوم رہے تھے، میں تھوڑا جذباتی ہو رہا تھا، میاں وارث کی جاہ و جلال والی بیوہ، صغری، حویلیاں، بڑے بوڑھے، میں ان سب کی روح کو تسکین دینے والے زمین کے ٹکڑے کو حقیقت میں اپنے سامنے دیکھنے والا تھا۔

تقریباً چالیس منٹ کا یہ سفر انتہائی خوبصورت لگ رہا تھا، سڑک کے دونوں جانب کھیت زیادہ سرسبز اور شاداب معلوم ہو رہے تھے اور شاید تھے بھی کیونکہ بھارتی پنجاب میں وہ دریا بھی بھر کے بہتے ہیں جو پاکستان میں سوکڑے اور بنجر پن کی علامت بن چکے ہیں، میں یہاں ”سندھ طاس“ معاہدے کو زیر بحث لا کر اپنی تحریر کو آلودہ نہیں کرنا چاہتا، صرف یہ کہوں گا کہ دریاؤں کا پانی اپنے ساتھ تہذیب، آئندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل اور سوٹیبل ایکو سسٹم ساتھ لے کر چلتا ہے، ان دریاؤں نے ہزاروں سال بہہ کر پنجاب کی دھرتی میں اپنا پانی سمو کر اسے زرخیز بنایا اور چند لوگوں کی بے وقوفی اور جہالت نے یہ سب داؤ پر لگا دیا ہے، اس کے اور بہتر حل نکل سکتے تھے۔

جب قادر آباد نظر آنا شروع ہوا تو میں نے چراغ صاحب کو گاڑی روکنے کو کہا باہر نکل کر میں گاؤں کو دور سے دیکھنے لگا، مجھے یوں لگا جیسے کھیت ضرورت سے زیادہ لہلہا کے رقص کر رہے ہیں، میرے بڑوں کی روحیں آج بھی ان کھیتوں میں کام کر رہی ہیں، سب کام چھوڑ کر مجھے دیکھ کر مسکرا رہے ہیں اور دور عورتیں ڈھولکی پر بولیاں گا رہی ہیں، شاید جن میں صغری ناچ ناچ کر ہلکان ہوئے جا رہی ہے کہ ہمارے بچوں میں سے آج کوئی اپنا دیس دیکھنے آیا ہے۔

پروفیسر صاحب گاڑی سے نکل کر میرے ساتھ خاموشی سے کھڑے ہو گئے، شاید وہ میرے جذبات کو محسوس کر رہے تھے، ساتھ والے کھیت میں کسان ٹریکٹر سے ہل چلا رہا تھا، جہاں جہاں سے ہل گزر رہا تھا وہاں پرندے کیڑے مکوڑے چن رہے تھے، ویسے تو میں نے یہ منظر پاکستان میں بہت دیکھا تھا لیکن یہاں خاص بات یہ تھی کہ ان پرندوں میں کووں، شارقوں، چڑیوں اور لالیوں کے ساتھ بڑی تعداد کالے اور بھورے تیتروں کی بھی تھی، میں نے کہا چراغ صاحب یہ تو تیتر ہیں، انہوں نے کہا جی ہاں آپ کے ہاں بھی ہوتے ہوں گے، میں نے کہا ہوتے تو ہیں لیکن ایسے نہیں ہوتے، انہوں نے بتایا کہ یہ تو کسان دوست پرندے ہیں، یہاں انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا، کھیتوں کے بنوں پر بٹیر بھی نظر آئے، جی ہاں مجھے یہاں پرندے پاکستان سے کہیں زیادہ تعداد میں محسوس ہوئے، نہ تو انہیں انسانوں کی پرواہ تھی اور نہ ہی انسانوں کو ان کی۔

جب ہم گاؤں میں داخل ہوئے تو چراغ صاحب نے گاڑی سے اتر کر چند بزرگوں سے بات کی، میں بھی ساتھ تھا، جب انہیں بتایا گیا کہ یہ میرے بڑوں کا گاؤں ہے تو انہوں نے فورا ” نام پوچھے، میں نے“ میاں وارث ”کا نام لیا، ان کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی، وہ سب مجھے جپھیاں ڈالنے لگے اور کچھ ہی دیر بعد گاؤں میں دھوم مچ گئی کہ“ میاں وارث ”کی اولاد میں سے کوئی گاؤں دیکھنے آیا ہے، وہ سکھ بزرگ میرے ساتھ ہو لئے، اب ہم جہاں سے گزر رہے تھے لوگوں کا ایک ہجوم ہمارے ساتھ چل رہا تھا، چھتوں سے عورتیں اور بچے جھانک رہے تھے، وہ مجھے میاں وارث کی قبر پر لے گئے۔

تقریباً تین فٹ کی چاردیواری میں آٹھ یا دس قبریں تھیں، ان کے کتبے اردو میں لکھے ہوئے تھے، میاں وارث کا کتبہ سب سے بڑا تھا، قبروں کی صفائی کے بعد ان پر پھول پڑے تھے اور اگر بتیاں بھی جل رہی تھیں، مجھے بتایا گیا کہ وہ ان قبروں کی حفاظت اور احترام دل و جان سے کرتے ہیں، ہر جمعرات کو یہاں چاولوں کی دیگ پکائی جاتی ہے جو سارے گاؤں میں بانٹی جاتی ہے، شاید ان قبروں کی وجہ سے وہ میرا احترام بھی ضرورت سے زیادہ کر رہے تھے، میں چار دیواری میں داخل ہوا تو انہوں نے مجھے روک دیا، بولے آپ نے جوتے نہیں اتارے، ہم اس چار دیواری میں بغیر جوتوں کے داخل ہوتے ہیں، میں بہت شرمندہ ہوا، جوتے اتار کر وہاں فاتحہ خوانی کی، جب میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو بہت سے لوگوں نے میرے ساتھ ہاتھ اٹھا دیے، لوگوں نے فرمائش کی کہ ہمیں یہ کتبے پڑھ کر سنائیں، میں نے کتبے پڑھنے شروع کیے، نام، ولدیت، کلمہ اور کچھ اشعار، ہر طرف سے واہ واہ کی آوازیں آنے لگیں۔

قبروں سے ملحقہ ایک پرانی چھوٹی سی مسجد تھی جس پر تالا لگا تھا، انہوں نے مسجد کھلوائی، میں اندر داخل ہوا اور اس کا جائزہ لینے لگا، میرے ساتھ بہت سے لوگ اندر آ گئے، محراب کے کناروں پر آیت الکرسی لکھی ہوئی تھی، اس پر لکڑی کی پھٹیاں لگا کر دیے رکھے گئے تھے، انہوں نے بتایا کہ ہر جمعرات ہم یہ دیے جلاتے ہیں اور لوگ پراتھنا کرتے اور منتیں مانتے ہیں، آپ ہمیں یہ بھی پڑھ کر سنائیں، میں نے بلند آواز میں آیت الکرسی پڑھی، لوگ جوش میں آ گئے اور ”جو بولے سو نہال“ کے نعرے لگانے لگے۔

ایک بزرگ بولے یہاں ”لال مسیح“ نامی بوڑھا ہے جو پارٹیشن کے وقت نوجوان تھا وہ آپ کو بہت کچھ بتا سکتا ہے، ہم سب اس کے گھر گئے وہ باہر آیا تو اس کی بھی سفید لمبی داڑھی اور سکھوں والی پگ، گرمجوشی سے ملا اور بڑوں کے نام پوچھنے شروع کر دیے، جن میں سے کچھ کے نام اسے آج بھی یاد تھے، وہ ہمیں بڑی حویلی لے گیا جہاں اب بہت سے گھر بن چکے تھے، لیکن اس کا اصل حدود اربعہ اسے معلوم تھا، پھر اس نے خود ہی مجھے وہ جگہ دکھائی جہاں سے اسلحہ نکلا تھا، وہاں اب ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، میں اس کمرے میں پڑی چارپائی پر خاموشی سے بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ اگر اسلحہ زنگ آلود نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ کیا وہ چند بندوقوں کی مدد سے پارٹیشن کی اٹل حقیقت کو جھٹلا سکتے تھے؟ ”شاید نہیں“ ، گاؤں تو انہیں چھوڑنا ہی پڑنا تھا، بہتر ہوا کہ خون خرابے کے بغیر بچ کے نکل گئے۔

پھر وہ ہمیں تھانے دار کی حویلی میں لے گیا، یہ حویلی آج بھی گاؤں کے ایک طرف اپنی اصل حالت میں موجود تھی، پرانے طرز کی نانک شاہی اینٹ سے بنی پیلے رنگ کی کوٹھی نما عمارت جس کے چاروں طرف لان تھے اور ان میں آم، مالٹا، لیمن اور میٹھے کے درخت لگے تھے، حویلی کی پچھلی دیوار سے چند ایکڑ کے بعد ایک چھوٹی نہر گزر رہی تھی، اس نے بتایا کہ یہاں سے گورداسپور شروع ہو جاتا ہے، یعنی یہ گاؤں تھا تو امرتسر میں لیکن بالکل گورداسپور کے بارڈر پر ۔

اب سب سے عجیب بات جو اس نے بتائی وہ یہ تھی کہ پارٹیشن کے دو سال بعد پاکستان سے کوئی آیا تھا جس کے ساتھ انڈین آرمی کے لوگ تھے، اس نے پرانی حویلی کے تندور کے پاس جگہ کھدوائی جہاں سے سونے اور زیورات سے بھرا گھڑا نکلا تھا، جو وہ اپنے ساتھ لے گیا، جبکہ یہاں سارے خاندان کو یہ پتہ تھا کہ وہ گھڑا ادھر ہی رہ گیا اور کوئی واپس نہ جا سکا تھا۔

Facebook Comments HS