نیکی کا جدید تصور

نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو شریعت، قرآن، سنت رسول اللہ ﷺ کے عین مطابق ہو اور جو عمل ان تعلیمات کے خلاف ہے وہ گناہ میں شمار ہو گا۔ گزشتہ پانچ سو سال سے استعمار کاری کے سبب عالم اسلام میں نئے نئے نظریات، اقدار، سوچیں، فکریں منظر عام پر آتی گئیں، جسے پھر جدیدیت کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں مغربی اقدار و تہذیب کی جھلک نمایاں محسوس ہوتی ہے اور مغرب میں آنے والے انقلابات کو معیار بنا کر مشرقی تہذیب اور افراد کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جسے اس کے پس منظر اور اسباب کے ساتھ ہمارے ہاں کی نسل نو سمجھنے سے قاصر ہے۔
یہی کچھ عمل نیکی کے تصور کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ دور استعمار مادیت پرستی کے فروغ اور ترجیح کا دور رہا ہے جس کے بعد سے ابھی تک، تاحال ہر معاشرے میں پہلا معیار مادیت، پیسہ، آنکھوں سے نظر آنے والا منافع سب سے اہم متصور ہے۔ تمہید کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے معاشرے بالخصوص پروفیشنل فیلڈ میں نیکی کا تصور بھی اس ما بعد جدیدیت کے زمانے میں بالکل تبدیل ہو گیا ہے۔ اور لوگوں کے لاشعور میں، شعور میں جو عمل نیکی کی تعریف یا اس کے دائرے میں سمجھا جاتا ہے وہ اصلاً نیکی نہیں ہے بل کہ کچھ اور ہے جس میں اچھے بدلے کی حرص کی تمنا رہتی ہے۔
اپنی پروفیشنل فیلڈ میں، میں نے مختلف لوگوں کو دیکھا ہے، اس حوالے سے ملے جلے تجربات بھی رہے ہیں۔ چوں کہ میرا اکیڈمک بیک گراؤنڈ اور سی وی دیگر کولیگ کی نسبت ہمیشہ آنے والی پہلی پوزیشنز کے سبب پہلے نمبر پر ہے اسی لیے مجھے ہر پروگرام، فیلڈ، کانفرنس، گفت گو یا مختلف مواقعوں میں شمولیت سے روکا جاتا ہے۔ پہلے سے اس کانفرنس، پروگرام سے متعلق آگاہ نہیں کیا جاتا۔ اور نہ ہی کسی پروگرام میں شریک کیا جاتا ہے۔ شروع شروع میں بہت دکھ ہوتا تھا اور وجوہات سمجھ میں نہیں آتی تھیں، لیکن تجربات بہت سے پردے چاک ہوتے چلے جاتے ہیں۔
فہم اس حقیقت پر آ کر واضح ہوا کہ آگے بڑھنے والوں کا راستہ ہمیشہ روکا جاتا ہے اور اس میں ہر حربہ اختیار کیا جاتا ہے۔ مشہور مقولہ ہے ”دشمن کا دشمن کا دوست ہوتا ہے“ ۔ خیر دشمنی کی تو بات نہیں ہے لیکن اپنے کریئر کو بنانے کے لیے جو فرد اپنی قابلیت کی بنیاد پر آپ سے بہتر ہو اسے ہر صورت میں پیچھے رکھنے کے لیے ہر ممکن حوصلہ شکن حربوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان حربوں میں بغیر کسی وجہ کے طنز، جملے کسنا، بغض سے بھری خاموشی، اترانا، بلا کسی وجہ کے اپنے attitudes سے ٹارچر کرنا، اور سب سے اہم isolateکرنا ہے کہ اس بندہ کو اس قدر تنہا کردو کہ وہ ٹوٹ جائے۔
لیکن ان منفی رویوں کو اختیار کرنے والے آپ ہی کی فیلڈ کے دوسرے لوگوں کے ساتھ اس قدر تعاون کرنے والے، خوش اخلاق، بڑھ بڑھ کر کام کرنے والے، مدد کرنے والے، سہارا دینے والے، دل جوئی کرنے والے ہوتے ہیں کہ وہ بندہ جسے سہارا دیا جا رہا ہے یا جس کی مدد کی جا رہی ہے انھیں جب بہت اہمیت دے، ان کی تعریف کرے تو وہ جو دوسرے کو قابلیت کی وجہ سے آگے بڑھنے سے روکتے ہیں خود کو کوئی بہت نیک، بہترین، اندر سے ہلکا پھلکا، متقی، معصوم، فاتح، کسی کے نہ لینے میں نہ دینے میں، والا سمجھتے ہیں۔
یہیں سے تو پھر نیکی کا ایک غلط تصور ہمارے ذہنوں میں بدل جاتا ہے۔ نیکی کے معاملے میں سب بندے یک ساں ہونے چاہیے۔ ایک کے لیے معاملات کو تنگ کرنا اور دوسروں کے لیے کھولنا وہ بھی اسی لیے کہ وہ آپ کے لیے کریئر بنانے میں مقابلے پر پورا نہیں اترتا یا اس کا آپ کی فیلڈ سے کوئی تعلق نہیں یا اسے کسی اور جانب جانا ہے تو خود کو اس کے سامنے مثبت رکھنا اور جو قابل ہے اسے اپنے لیے خطرہ سمجھ کر اس کے لیے منفی بن جانا کہیں سے بھی آپ کے نیک ہونے پر مدلل نہیں۔
اسی طرح کسی ایسے انسان کے ساتھ نیکی سمجھ کر ایسا عمل کرنا کہ جس میں حق دار کا حق مارا جاتا ہے، اسے اس کی قابلیت کے ساتھ قبول کرنے کے بہ جائے نظر انداز کیا جاتا ہے، عدل، قسط اور انصاف کے تقاضوں کو پامال کیا جاتا ہے تو یہ احکامات الٰہی کے نافرمانی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر کسی یتیم کی کفالت کی ذمے داری لینا یعنی اپنی رعیت کو چھوڑ کر غیر کی رعیت کا سہارا بننا کسی طور سے نیک عمل ہونے کی دلیل نہیں۔
بہت دفعہ نیکی اس انسان کے ساتھ بھی کی جاتی ہے جس کی اچھی پوزیشن ( عہدے، مال داری، سماجی اسٹیٹس) سے آپ کو واقفیت ہو اور دل میں یہ توقع ہو کہ بدلے میں کچھ اچھا ہی ملے گا، تو یہ نیکی نہیں تجارت ہے۔ تجارت اور نیکی میں بدلے کی توقعات کا فرق ہوتا ہے۔ نیک بننا مشکل کام ہے۔ یہ خواہش نفس کے خلاف جاکر کی جاتی ہے۔
نیکی کیا ہے یہ رسول اللہ ﷺ سے سیکھیے، سمجھیے، اپنائیے اور اپنے کردار کا حصہ بنائیے۔ نیک بننا ہے تو پورا بنیے۔ نیکی کی منافقت خلوص سے دور ہوتی ہے۔ یہ نیکی کا جدید تصور ہے، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ نیکی وہ ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے۔ جو رسول اللہ کی سنت سے ثابت ہے اور جو سب کے لیے ایک ہو۔

