کھیل ہی کھیل میں


کھلاڑی کو کھیل اور کھیل کو کھلاڑی سے جانا جاتا ہے۔ ہر کھلاڑی اپنا کھیل کھیلنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ اور کھیل کھیل کے میدان میں ہو جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے۔ یہ بھی، بعض اوقات، دیکھنے میں آ جاتا ہے کہ کھیل کا میدان اپنی نوعیت سے ہٹ کر استعاراتی جنگ کا میدان بن جاتی ہے۔

جب کھیل کھیل سے نکل کر استعاراتی جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ جنگی کھیل ہو جاتی ہے جس میں مقابلہ، کارکردگی، تعاقب، برداشت، جیت اور ہار والی کھیل ضد، اختلاف، انتقام، عدم برداشت، زندگی اور موت کا معاملہ بن جاتی ہے جس میں ہر کھلاڑی اس سوچ اور ذہن سے حصہ لیتا ہے۔

کیا بعض کھلاڑی اب باد مخالف کی وجہ سے مجبوراً جنگی کھیل کھیل لیتے ہیں؟ یہ ان کے پاس ایک حیلہ ہے یا مجبوری وہ وقت ہی بتائے گا۔ بے شک ہر کھیل میں اس کھلاڑی یا ایکٹر کو دوشی ٹھہرایا جاتا ہے جو کھیل کی نوعیت بدل دیتی ہے۔ یعنی کھیل کو کھیل سے ہٹ کر کھیل لیتی ہے جو اس کھیل کے اقدار، روایات، اور اس کے ضوابط کے خلاف ہوتے ہیں۔

صدیوں سے چترال میں مقیم لوگوں کا ایک مقامی کھیل، پولو، جسے انگریزی میں ’فری پولو‘ کہا جاتا ہے۔ اس کھیل کو ’فری‘ کے معانی کے تناظر میں لیا جائے تو بظاہر اس میں کوئی اقدار اور ضوابط نہیں ہوتے لیکن یہ اس طرح ہرگز نہیں۔ چترال میں کھیلا جانے والا یہ کھیل ’استور غاڑ‘ کے اپنے رواج، اقدار اور ضوابط ہوتے ہیں جس کے مطابق کھلاڑی یہ کھیل کھیلتے ہیں۔ دلچسپ امر اس کھیل میں یہ ہوتی ہے کہ اس میں شائقین اور عام تماشائی گراؤنڈ سے باہر جج ہوتے ہیں اور کھلاڑی کے کھیل کے حوالے سے رائے بناتے اور دیتے ہیں۔

حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر اس وقت کھیل، جس کی طرف میرا اشارہ ہے، کو دیکھا جائے تو اس میں وہ چاشنی اور مزہ نہیں رہا تو پہلے ہوتا تھا۔ حالات جو بھی ہوں اور سنگین کیوں نہ ہوں کھلاڑی ہر وقت اس تگ و دو میں ہوتا تھا کہ کس طرح اپنا کھیل کھیل سکے جو اس کی پرفارمنس ہوتی تھی، اور اس کی بنیاد پر آنے والے کھیل میں اپنا جگہ بنا سکے۔ کھلاڑی، شائقین، تماشائی، ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال یہ ہے کہ کھیل میں وہ اقدار، روایات اور ضوابط نہ صرف ہمارے ملک بلکہ دوسرے ممالک میں ہیں، ان پر عمل ہوتا ہے، اور انہیں کھیل کے دوران، اور بعد میں، کھلاڑی اور ٹیم لیڈر کو عملی شکل دینے اور دوبارہ زندہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اور یہ سب کچھ وقت کے ساتھ کھیل ہی کھیل میں ہو سکتا ہے اور کیا جاسکتا ہے۔

اب یہ قارئین کا منشاء ہے کہ کھیل ہی کھیل میں وہ اسے کون سا کھیل لینا پسند کرتے ہیں یہ ان کی مرضی ہے۔ چاہے اسے وہ سیاسی کھیل کا نام دیں یا چترال میں کھیلا جانے والا پولو یا اور کوئی کھیل جو ملک اور باہر دنیا میں کھیلا جاتا ہے۔

Latest posts by الحاج محمد خان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments