زاپوریژیا: روس کے زیر قبضہ یوکرین کا جوہری پاور پلانٹ آخر کتنا خطرناک ہے؟
تاہم اب تک اس حملے کے نتیجے میں اس جوہری پلانٹ سے تابکاری لیک نہیں ہوئی لیکن یوکرین کے جوہری پلانٹس کے نگران ادارے اینراہوٹویم کا کہنا ہے کہ جوہری پلانٹ پر روسی راکٹ حملے کے باعث نائٹروجن آکسیجن یونٹ اور ایک ہائی وولٹیج بجلی کی لائن کو نقصان پہنچا ہے۔
واضح رہے کہ یوکرین کے شہر زاپوریژیا میں قائم اس جوہری پلانٹ کا شمار یورپ کے بڑے جوہری پاور پلانٹس میں ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ پلانٹ ’مکمل طور پر قابو سے باہر‘ ہے جبکہ روسی مقرر کردہ حکام نے اس سے قبل ہونے والی گولہ باری کا ذمہ دار یوکرین کو ٹھہرایا تھا۔
رافیل گروسی نے مزید کہا کہ ’جوہری تحفظ کے ہر اصول کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس وقت جو چیز خطرے میں ہے وہ انتہائی سنگین، تشویشناک اور انتہائی خطرناک ہے۔‘
ایسے میں اس جوہری پاور پلانٹ کی موجودہ صورتحال اور یہ ممکنہ طور پر کتنی خطرناک ہو سکتی ہے کہ بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
اس وقت اس جوہری پاور پلانٹ پر کیا ہو رہا ہے؟
روس نے مارچ کے اوائل میں یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملے کے دوسرے ہفتے میں زاپوریژیا کے جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھا۔ یوکرینی اور روسی افواج کے درمیان لڑائی پلانٹ کے قریب پہنچ گئی تھی، جو کہ اینرہودار قصبے کے قریب ہے اور پلانٹ کی ایک عمارت میں آگ لگ گئی تھی جس سے پورے یورپ میں تشویش پائی گئی تھی۔
اس پاور پلانٹ کے چھ پریشرائزڈ واٹر ریکٹر ہیں اور اس میں تابکاری فضلے کے متعدد سٹورز بھی ہیں۔ اس وقت یوکرینی عملے کے ایک رکن نےدعویٰ کیا تھا کہ پلانٹ پر براہ راست گولہ باری کی گئی تھی اور اس کے نتیجے میں ایک ری ایکٹر کو نقصان پہنچا تھا۔
اس جوہری پاور پلانٹ کے کمپلیکس میں لگنے والی آگ پر بالآخر قابو پالیا گیا تھا لیکن اس واقعے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پلانٹ پر گولہ باری کی مذمت کی گئی تھی۔
حتیٰ کے چین جو شاذو نادر ہی روس پر تنقید کرتا ہے، نے کہا تھا کہ اسے بھی جوہری تحفظ سے متعلق خدشات ہیں جبکہ روس نے اس کے جواب میں ردعمل دیتے ہوئے ’یوکرینی تخریب کاروں‘ پر جوہری پلانٹ میں آگ لگانے کا الزام عائد کیا تھا۔
جولائی کے وسط سے زاپوریژیا کے جوہری پلانٹ کے تحفط کے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں جب روسی افواج پر اس پلانٹ کے قریبی علاقوں سے فائرنگ اور گولہ باری کرنے کے الزام لگے تھے۔
یوکرین کے زیر قبضہ شہر نکیپول کے میئر الیگزینڈر سایوک نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ روسی فوج کی جانب سے مسلسل قصبے سے گولہ باری کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اس (پلانٹ) میں چھپے ہوئے ہیں تاکہ ان پر حملہ نہ کیا جا سکے۔‘
یوکرین نے نام نہاد ’کامیکاز ڈرونز‘ کے ذریعے ٹارگٹڈ سٹرائیکس کر کے جوابی کارروائی کی کوشش کی لیکن اس کی افواج جوہری ری ایکٹرز کو نشانہ بنانے کے خطرے کی وجہ سے مغربی ممالک کی طرف سے حال ہی میں فراہم کردہ راکٹ لانچ سسٹم استعمال نہیں کر سکتیں۔
نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ نے بی بی سی نیوز رشیئن کو بتایا کہ اس صورتحال کی پہلے کوئی مثال موجود نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم وہ کچھ دیکھ رہے ہیں جو ہم نے پہلے کبھی فوجی آپریشن کے دوران نہیں دیکھا تھا۔ روس ایک جوہری تنصیب کو اپنے بچاؤ کے لیے کور کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔‘
سب سے برا کیا ہو سکتا ہے؟
اس صورتحال میں جوہری پلانٹ کے ری ایکٹروں میں سے کسی ایک پر گولہ یا راکٹ لگنے کا سب سے واضح خطرہ یہ ہے کہ ان ریکٹروں کے بیرونی حفاظتی حصے میں سے کسی ایک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ری ایکٹر ایک خاص مقدار میں بیرونی دباؤ یا نقصان کو برداشت کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں لیکن براہ راست گولہ بارود کے ٹکرانے کے اثرات کو برداشت کرنے کے لیے نہیں بنے۔
اگر کسی ری ایکٹر کے بیرونی حصے یا کولنگ سسٹم کو گولہ یا راکٹ لگنے سے نقصان پہنچتا ہے تو تابکاری مواد کا لیک ہونا یقینی ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ ہائیڈروجن یا جوہری دھماکے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔
یہ بھی پڑھیے
روس کے قبضے میں یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ کی بجلی کس کو ملے گی؟
چرنوبل: روس، یوکرین میں اس علاقے پر کنٹرول کی جنگ جہاں 24 ہزار سال تک انسان آباد نہیں ہو سکتے
روس اور یوکرین کی فوجی طاقت کا موازنہ: ’یوکرین بہت مشکل صورت حال میں ہے‘
یوکرینی جوہری توانائی کی ایک آزاد ماہر اولہا کوشرنا کہتی ہیں کہ ’اگر کوئی راکٹ کسی ایک ری ایکٹر سے ٹکراتا ہے، تو اس کے نتیجے میں ہونے والی تابکاری کے نتائج یورپ کے لیے، (روس کے ساتھ ملحقہ) کریمیا کے لیے اور یقیناً پورے یوکرین کے لیے خطرناک ہوں گے۔‘
ایک روسی ماہر طبیعیات، آندرے اوزہارووسکی، جو جوہری فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں مہارت رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’اگر زاپوریژیا پاور پلانٹ میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو یہ بڑی مقدار میں تابکار کاسیم 137 کے اخراج کا سبب بنے گا، جو ہوا کے ذریعے طویل فاصلے تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کاسیم 137 کے اخراج کے انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوں گے اور یہ زراعت کے لیے زمین کو بھی آلودہ کر سکتا ہے اور اگلے کئی برسوں تک زرعی اجناس اور فصلوں کی کاشت متاثر ہوں سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، موسم اور ہوا کی سمت اور طاقت کے لحاظ سے، تابکاری سے بہت آگے کے ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔
جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ ری ایکٹرز کے علاوہ، زاپوریژیا پلانٹ میں جوہری فضلہ ذخیرہ کرنے کی سہولیات بھی خطرے کا باعث ہیں۔ جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جان بوجھ کر یا حادثاتی طور پر کسی راکٹ یا گولہ باری سے نشانہ بنایا گیا، تو اس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔
بین الاقوامی برادری کیا کر سکتی ہے؟
جنیوا کنونشن کے تحت جوہری پلانٹس کو نشانہ بنانا ممنوع ہے۔ اس ضمن میں طے شدہ ضوابط اور پروٹوکول 1 کے 1949 کے جنیوا کنونشنز کے مطابق ڈیموں اور جوہری پاور سٹیشنوں کے خلاف حملوں پر پابندی ہے، وگرنہ سیلاب یا تابکاری کے نتیجے میں ’شدید‘ شہری نقصان ہو سکتا ہے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک ہی وقت میں، پاور پلانٹ حملے کا جائز ہدف بن سکتا ہے اگر اسے شہری مقاصد کے بجائے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
اسی طرح کے قواعد و ضوابط خطرناک انفراسٹرکچر کے قریب واقع فوجی اہداف پر لاگو ہوتے ہیں۔ ایسے اہداف پر حملوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
یوکرین نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ اس جوہری پاور پلانٹ پر ’آسمان کو بند کر دیں‘ یعنی فضائی دفاع فراہم کریں جو اس سہولت پر براہ راست حملوں کو روکنے کے قابل ہو۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کے نفاذ کا امکان نہیں کیونکہ یوکرین کی حمایت کرنے والے ممالک کو خدشہ ہے کہ روس اسے تنازع میں براہ راست ملوث ہونے سے تعبیر کر سکتا ہے۔


