پیمرا نے اے آر وائی نیوز کی نشریات کیوں بند کیں؟


پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھاری (پیمرا) نے سوموار کی شب مبینہ طور پر نفرت آمیز اور پاکستانی فوج کے اندر بغاوت کو اکسانے والے مواد کو نشر کرنے پر شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے مقامی چینل اے آر وائی نیوز کی نشریات معطل کر دی ہیں۔

پی ٹی اے نے اے آر وائی چینل کو چھ صفحات پر مشتمل ایک طویل شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، جس میں تفصیلی طور پر نشریات کو معطل کیے جانے کی وجوہات لکھی گئی ہیں۔

پیمرا نے اے آر وائی نیوز کو تین دن میں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ چینل یہ بتائے کہ اس نفرت انگیز مواد پر کیوں نہ اس کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے۔

سوموار کی شام جاری ہونے والے اس شوکاز کے مطابق اس قانونی کارروائی کے نتیجے میں اے آر وائی کو پیمرا قانون کی دفعہ 29، 30 کے تحت جرمانہ، معطلی اور لائسنس کی منسوخی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ترجمان پیمرا محمد طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اے آر وائی کی نشریات بغیر کسی دباؤ کے معطل کی گئی ہیں اور اس کی وجوہات شوکاز نوٹس میں درج ہیں۔

پیمرا ترجمان کے مطابق پیمرا نے قانونی طریقے سے اپنی ذمہ داری پوری کی اور جب ایک ایسا بیان نشر ہوا تو پھر اس پر کارروائی عمل میں لائی گئی اور شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔

’شہباز گل نے نہ صرف وفاقی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی بلکہ حکومتی اہلکاروں پر بھی الزام عائد کیا‘

پیمرا نے اپنے شوکاز نوٹس میں کہا ہے کہ ’اے آر وائی کی اینکر صدف عبدالجبار نے 27 جون کو نشر ہونے والی ایک خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا کہ حکومت کا ایک سٹریٹجک میڈیا سیل ہے کہ جس کا مقصد فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا کر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو بدنام کرنا ہے۔‘

شوکاز نوٹس کے مطابق ’اس کے بعد پروگرام میں شہباز گل کو فون پر شامل کیا گیا، جنھوں نے نفرت انگیزی اور فتنہ انگیزی پر مبنی تبصرے کیے جو فوج کے اندر بغاوت پر اکسانے کے مترادف تھے۔‘

پیمرا کے شوکاز نوٹس کے مطابق شہباز گل نے نہ صرف وفاقی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی بلکہ حکومتی اہلکاروں پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ فوج کے بیانیے کی ترویج کے ذریعے عمران خان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں۔‘

کوریج

پیمرا کے مطابق شہباز گل کے اے آر وائی پر نشر ہونے والے بیان میں ملکی آئین کے آرٹیکل 19 اور پیمرا قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔

اس شوکاز نوٹس کے ساتھ شہباز گل کے بیان کا متن بھی شیئر کیا گیا ہے۔

پیمرا نے اپنے شوکاز میں شہباز گل کے بیان کو انتہائی قابل اعتراض، نفرت انگیز، فتنہ انگیز، مکمل غلط معلومات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان واضح طور پر مسلح افواج کے اندر بغاوت کو ہوا دے کر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق کرنے کے مترادف ہے۔

پیمرا نے شہباز گل کے نشر ہونے والے اس بیان پر اپنے شوکاز نوٹس میں اے آر وائی کی انتظامیہ سے کہا کہ اس بیان کو نشر کرنے میں آپ کا مذموم ارادہ بھی شامل تھا، مذکورہ بالا نفرت انگیز، فتنہ انگیز اور بدنیتی پر مبنی مواد نشر کرنا آپ کے چینل کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے جو انتہائی تشویش کا باعث ہے۔

اپنے شوکاز نوٹس میں پیمرا نے اے آر وائی کے سی ای او کو خود یا اپنے کسی نمائندہ کو دس اگست دن دو بجے اسلام آباد میں واقع پیمرا کے دفتر آ کر تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ پیمرا نے عدم پیشی کی صورت میں چینل کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھانے کا بھی کہا ہے۔

کیا اے آر وائی سے کوئی غفلت ہوئی؟

اسلام آباد میں اے آر وائی کے بیورو چیف خاور گھمن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پیمرا کے اس غیر قانونی اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

ان کے مطابق اے آر وائی نے اپنی پروفیشنل ذمہ داری پوری کی ہے اور حقائق پر مبنی یہ خبر بریک کی۔ ان کے خیال میں شہباز گل نے اپنے بیان میں کوئی ایسی بات نہیں کی جو فوج مخالف ہو۔

واضح رہے کہ خاور گھمن اس پروگرام میں بطور تجزیہ کار بھی موجود تھے، جس میں شہباز گل نے یہ بیان دیا تھا۔

خاور گھمن کے مطابق وہ یہ سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا چینل ہی اس وقت ایسا میڈیا ہاؤس ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان کے مؤقف کو بھرپور جگہ دیتا ہے تو انھیں اس کوریج کی سزا دی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق اگر کسی ایک شخص نے کوئی متنازع بیان دیا بھی ہے تو پھر آپ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کر سکتے ہیں جیسے سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقاریر کے معاملے پر کیا گیا تھا اور پھر میڈیا پر یہ پابندی عائد کر دی گئی تھی ان کی تقاریر نشر نہیں کرنی۔

پیمرا

’اگر ایک مہمان نے کچھ قابل اعتراض کہا تو چینل کیوں بند کر دیا‘

اس وقت سب سے اہم سوال تو یہی ہے کہ کیا پیمرا اے آر وائی کے خلاف اپنے مقدمے کا دفاع کر سکے گا؟

پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ پیمرا کے اکثر احکامات کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناعی یعنی سٹے آرڈر مل جاتا ہے۔

ان کے مطابق صرف ان مقدمات میں سٹے آرڈر کے کم امکانات ہوتے ہیں جہاں پیمرا نے خوب حقائق کی جانچ پڑتل کے بعد کارروائی عمل میں لائی ہو یا پھر کوئی مضبوط ادارہ پیمرا کے ساتھ کھڑا ہو۔

ابصار عالم کے مطابق بعض دفعہ پیمرا سے کہا جاتا ہے کہ یہ کارروائی عمل میں لائیں تو ایسے میں پیمرا پر انحصار ہوتا ہے کہ وہ پہلے خوب چھان بین کرے یا پھر فوری کسی کی خواہش پر کارروائی عمل میں لائے گا۔

ان کے تجربے کے مطابق پیمرا کے حقائق پر مبنی احکامات کے خلاف بھی عدالتوں سے سٹے ملے ہیں۔

ابصار عالم کے مطابق بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ پیمرا نے آزادانہ کوئی کارروائی عمل میں لائی ہو اور پھر عدالتوں سے ایسی کارروائی پر سٹے نہ ملے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے بتایا کہ چینل کسی بھی قابل اعتراض یا نفرت انگیزی پر مبنی بیان کو روکنے کے لیے اپنی لائیو ٹرانسمیشن کو بھی قدرے تاخیر سے چلاتے ہیں۔

ان کے مطابق اس عرصے میں چینل انتظامیہ کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ کیسی ایسی بات کو روک سکیں۔ اس وجہ سے پیمرا بعض دفعہ کسی ایک مہمان کے تبصرے پر بھی چینل کے خلاف کارروائی عمل میں لاتا ہے۔

پابندیاں

یہ بھی پڑھیے

اے آر وائی کی برطانیہ میں نشریات بند

سینسر شپ کی پاکستانی ڈکشنری

’پاکستان میں سینسر شپ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر سب سے پہلے تو خود شہباز گل نے ہی اپنے بیان پر ردعمل دیا ہے اور اپنی کہی ہوئی بات کی تشریح پیش کی۔

انھوں نے کہا کہ ان کا بیان یہ تھا کہ بیوروکریسی غیرقانونی احکامات نہ مانیں وہ قانون پر چلیں۔

اس بارے میں مزید بات کرنے کے لیے بی بی سی نے شہباز گل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

https://twitter.com/SHABAZGIL/status/1556725396887969794?s=20&t=8UkYm__Ku1ZXjsO7UNcRuA

صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے پیمرا کی طرف سے اپنے ہی قواعد اور ضابطے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اے آر وائی کی نشریات معطل کرنے کی مذمت کی ہے۔

https://twitter.com/MazharAbbasGEO/status/1556721497821118468?s=20&t=-cw4rgEqogXfMHMIiwrBRg

صحافی مطیع اللہ جان نے لکھا کہ شہباز گل کے الفاظ کا تسلسل اور بیان کا بہاؤ اور پھر فون پر یہ سب کہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ گل صاحب کچھ اور لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر تحریر شدہ نکات پڑھ رہے تھے۔

https://twitter.com/Matiullahjan919/status/1556750885530869760?s=20&t=8UkYm__Ku1ZXjsO7UNcRuA

صحافی حبیب اکرم نے لکھا کہ ٹی وی چینل بند کرنے سے آواز بند نہیں ہوتی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp