سیلاب: یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے


پاکستان میں امسال مون سون بارشوں کی وجہ سے پیش ہونے والی تباہ کاریوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بالخصوص، بلوچستان جانی و مالی نقصان کے حوالے سے دوسرے صوبوں کی نسبت کچھ زیادہ تباہ حالی کا شکار ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں اس وقت ایک سو چھہتر سے زیادہ قیمتی زندگیاں لقمہ اجل بن گئیں ہیں ؛ تیرہ ہزار سے زائد مکانات جزوی یا مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں ؛ دو لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی پر مشتمل فصلیں پیوند خاک ہو گئی ہیں ؛ بچوں اور عورتوں سمیت ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ؛ سولہ کے قریب پل، ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی اور 670 کلومیٹر کے لگ بھگ رابطہ سڑکیں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں ہیں۔

اسی طرح متعدد چھوٹے علاقائی ڈیم ناقص فن تعمیر اور ٹھیکے داروں کی مجاز افسروں کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے ٹوٹ چکے ہیں۔ مذکورہ بالا دگرگوں صورت حال پہلے سے بے لگام مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لیے کسی بھی طرح نیک شگون نہیں ہے۔ اس حوالے سے اردو کے ممتاز شاعر انور شعور نے اپنے ایک قطعے کے ذریعے بلوچستان میں سیلابی تباہ کاریوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے :

آہ طوفان باد و باراں آہ
گو دگرگوں ہے پورا پاکستان
ایسی کب ڈوبتی ہے کوئی زمین
جیسے غرقاب ہے بلوچستان

بہرکیف، دیر آید درست آید! بالآخر وزیراعظم میاں شہباز شریف نے وفاق میں جاری سیاسی رسہ کشی سے کچھ لمحے فراغت حاصل کرنے کے بعد متاثرین کی اشک شوئی کے لیے متاثرہ اضلاع جھل مگسی، چمن اور قلعہ سیف اللہ کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔ اللہ کرے کہ یہ وعدے ایفا ہو جائے۔

صوبائی حکومت، پی ڈی ایم اے، این ڈی ایم اے اور پاک فوج کے جوان روز اول سے فلڈ ریلیف سرگرمیوں میں مصروف عمل تھے کہ دریں اثناء سوشل میڈیا پر وفاق، صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے سیلاب زدگان کو بروقت سرکاری امداد نہ ملنے اور مشینری کے فقدان پر کڑی تنقید اور سخت عوامی ردعمل دیکھنے کو ملا۔ حسب روایت اس بار بھی کرونا وائرس و دیگر قدرتی آفات کی طرح حالیہ طوفانی بارشوں کے متعلق بھی وہی مذہبی پس منظر رکھنے والے مشہور و معروف جملے ( یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے ) کی گونج نشر مکرر کے طور پر سنائی دینے لگی۔

کیوں کہ با استثنائے چند، اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ قدرتی آفات، سیلاب، زلزلے اور مہلک وبائیں اس لیے پھیلتی ہیں کہ خدا نخواستہ ہم لادین ہو گئے ہیں ؛ نماز نہیں پڑھتے ہیں ؛ روزہ نہیں رکھتے ہیں ؛ چوری چکاری کرتے ہیں ؛ سود کھاتے ہیں ؛ رشوت لیتے ہیں ؛ زنا کرتے ہیں ؛ شراب نوشی کرتے ہیں ؛ انگریزی تعلیم حاصل کرتے ہیں ; عورتیں سودا سلف لانے کی غرض سے گھروں سے باہر نکلتی ہیں اور نوکریاں کرتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ بقول ان واقفان حال کے، ایسے حالات میں طوفان، زلزلے، سیلاب، کرونا اور دیگر بیماریاں بہت معمولی نوعیت کی چیزیں ہیں اب تو صرف آسمان سے آگ کے شعلے برسنے اور پتھروں کی بارش ہونے کی دیر ہے۔

تاہم اس ضمن میں پیش کیے جانے والے مذکورہ بالا تاویلات کو صرف نظر کرتے ہوئے میں بھی اس خوبصورت آشیانے کو اس نہج تک لانے کا ذمہ دار حضرت انسان ہی کو سمجھتا ہوں۔ آگے جا کر سائنسی جھکاؤ اور محدود مذہبی معلومات کی وجہ سے میری ناقص رائے واقفان حال سے یک سر جدا ہو جاتی ہے۔ میں بھی سیلاب، قحط سالی، زلزلے، غذائی قلت اور مختلف وبائی امراض کے پھیلاؤ کی وجہ انسانی اعمال قرار دیتا ہوں۔ کیونکہ کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کی آبادی میں روز افزوں بے لگام اضافے کی وجہ سے انسانی ضروریات زندگی (تعمیرات، صنعتیں، ذرائع نقل و حمل اور زرعی پیداوار) کو پورا کرنے کے لیے نان ری نیو ایبل معدنی وسائل، تیل، کوئلہ اور گیس کے کثیر استعمال سے نہایت پیچیدہ عالمی مسئلے جیسے گلوبلائزیشن، اربنائزیشن اور گلوبل وارمنگ (عالمی حدت) نے جنم لیا۔

گلوبل وارمنگ دنیا کو درپیش ایک جدید عالمی اور انسانی خود ساختہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے غیر متوقع موسمی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں اور زمین کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہیٹ اسٹروک، گلیشیرز کا پگھلنا، قحط سالی، غیر متوقع طوفانی بارشیں اور الٹرا وائلٹ شعاوٴں سے جنم لینے والی بیماریاں اس سیارے کو لپیٹ میں لیتی ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں لوگ غربت، افلاس، غذائی اجناس کی قلت اور اموات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

صنعتی، شہری اور سائنسی زندگی نے وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کی اور ماحولیاتی آلودگی میں دن دونی رات چوگنی اضافہ کیا۔ جنگلات، جو کسی بھی ملک کے کل رقبے کے پچیس فی صد رقبے پر محیط ہونے چاہیے، شومئی قسمت سے پاکستان کے کل رقبے کا صرف 5.2 فی صد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ ہریالی اور درختوں کی کمی کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائڈ کے انجذاب اور آکسیجن کے اخراج نہ ہونے سے فضائی آلودگی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور لاکھوں لوگ سانس، اسٹروک، پھیپھڑوں کا کینسر، عارضہ قلب اور دیگر جان لیوا وباؤں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ایک معتبر امریکی ادارے ”ہیلتھ افیکٹس انسٹی ٹیوٹ“ (ایچ ای آئی) کی رپورٹ ”اینول اسٹیٹ آف گلوبل آئیر“ میں ایک ہولناک انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کی 95 فی صد آبادی نہ صرف آلودہ ہوا میں سانس لیتی ہے بلکہ فضائی آلودگی کی وجہ سے سالانہ 61 لاکھ افراد وقت سے پہلے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کرہ ارض پر اموات کی چوتھی بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے اور رہی سہی کسر بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) ، تمباکو نوشی اور اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ پورا کر دیتی ہے۔

تاہم اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ اس سال ملک بھر میں ریکارڈ توڑ مون سون بارشیں ہوئیں لیکن کچھ بشری کوتاہیاں اور توسیع پسندانہ عزائم بھی اس ضمن میں جانی و مالی نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ زیادہ تر لوگوں نے وسیع و عریض سیلابی و آبی قدرتی گزرگاہوں پر حریصانہ نظر رکھتے ہوئے وسیع پیمانے پر باغات اور مکانات تعمیر کر دیے تھے اور یوں پلک جھپکنے میں ہزاروں مکانات اور باغات سیلابی ریلوں کے نذر ہو گئے۔ ورنہ عطا شاد مرحوم نے تو پہلے ہی اپنے حصے کا دیا جلا کر لوگوں کو خبردار کیا تھا۔

سیلاب کو نہ روکیے رستہ بنائیے
کس نے کہا تھا گھر لب دریا بنائیے

Facebook Comments HS