ڈائمنڈ جوبلی پر ایک انقلاب آفریں پروگرام

دو روز بعد ہم اپنی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہے اور خدائے رحمٰن و رحیم کا ہر لحظہ شکر بجا لا رہے ہوں گے کہ اُس نے برِصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی بیش بہا دولت سے نوازا اَور یہ نعمت بفضلہ پچھتر برسوں سے ہمیں اپنی تمام تر فیاضیوں کے ساتھ فیض یاب کیے چلی آ رہی ہے۔ غالباً اسلام کا مزاج ہی کچھ ایسا ہے کہ اُسے ہر عہد میں کربلا سے گزرنا پڑا ہے اور ہر کربلا کے بعد اُسے نئی زندگی اور توانائی میسّر آئی ہے۔ وہ سلسلۂ واقعات کس قدر جاں لیوا تھا جب ایک کے بعد دوسرا سقوط روح کو چیرتا چلا جاتا تھا، مگر وہ وَقتی حوادث ثابت ہوئے جن سے اُمتِ مسلمہ گزر کر نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اٹھتی اور عظمتوں کی نئی بلندیوں تک پہنچتی رہی ہے۔ سقوطِ غرناطہ کے بعد عثمانیوں نے عیسائیوں کے مذہبی مراکز روم اَور یونان پر چار سو سال سے زائد حکومت کی اور پورے یورپ میں مسلمانوں کی بستیاں آباد ہوئیں جن کی بدولت وہاں کے طورطریق میں صفائی ستھرائی پیدا ہوئی۔
برِصغیر پاک و ہند میں بھی بڑے خوںآشام انقلابات رونما ہوتے رہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی جو ایک تجارتی کمپنی کے طور پر 1600 عیسوی میں قائم ہوئی، اُس نے مسلمانوں کے اقتدار کو پے در پے کاری ضربیں لگائیں۔ 1757 عیسوی میں اُس نے نواب سراج الدولہ کی کردارکشی کا ایک طوفان اٹھایا اور اُس کے سپہ سالار میرجعفر سے سازباز کر کے اُسے جنگِ پلاسی میں شکست سے دوچار کیا اور ہندوستان کی ‘سونے کی چڑیا’ بنگال پر قبضہ کر لیا۔ برطانوی محقق ولیم ڈالریمپل (William Dalrymple) کے بقول اُس کمپنی نے لُوٹ مار کا ایک ایسا غدر مچایا کہ انگریزی لغت میں Loot کا لفظ پہلی بار اُسی دور میں شامل ہوا۔ پھر 1857 عیسوی میں اِسی کمپنی نے مغلیہ خاندان کے اقتدار کا چراغ گُل کر دیا اور اَنگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا ہولناک قتلِ عام کیا۔ محسوس ہوتا تھاکہ اِس خطے سے اُن کا نام و نشان مٹ جائے گا، مگر سرسیّد احمد خاں اور اُن کے رفقائےکار کی مدبرانہ کوششوں سے وہ شکست کی ہولناکیوں سے کسی قدر محفوظ رہے۔
قائدِاعظم کے میدانِ سیاست میں آنے سے پہلے بنگال اور شمالی ہند میں مسلمانوں کی عظیم الشان تحریکیں اُٹھتی رہیں۔ اُن کے علاوہ دَرجنوں دیسی ریاستیں بھی قائم ہو چکی تھیں جنہوں نے دور دَراز کے مسلم علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔ سندھ میں خیرپور کے نام سے ایک مضبوط خودمختار رِیاست تشکیل پائی اور اُسی کے بانیوں نے بہاول پور میں بھی ایک خوش حال دیسی ریاست کی بنیاد رَکھی۔ اِسی طرح والیِ سوات نے مالاکنڈ ڈویژن کے بکھرے ہوئے مسلمانوں کے مابین مضبوط معاشرتی اور سیاسی رشتے قائم کیے۔ بلوچستان میں دور دُور تک پھیلی ہوئی مسلم آبادی کو یکجا رکھنے میں قلات، لسبیلہ اور خاران کی ریاستوں نے غیرمعمولی کردار اَدا کیا۔ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی داستان بڑی درخشندہ ہے جبکہ ہمارے پُرعزم کشمیری بھائیوں کا شعلۂ آزادی جبر کی زنجیریں پگھلا رہا ہے۔ برِصغیر میں دورافتادہ اَور پس ماندہ علاقوں پر ایک آزاد وَطن کا قیام اور اُس کا پچھتر سال تک استحکام، انسانی تاریخ کا ایک روشن اور حیران کُن معجزہ ہے۔ آج برِصغیر میں ساٹھ کروڑ مسلمان آباد ہیں جو اِنسانی آبادی کا بہت مؤثر حصّہ ہے اور اُن میں آگے بڑھنے کی لامحدود صلاحیتیں موجود ہیں۔
آنے والے دنوں میں دنیا کے سات ملک دنیا کی نصف آبادی کے مالک ہوں گے جن میں پاکستان ایک امتیازی حیثیت سے شامل ہو گا۔ اِس کی ایٹمی طاقت اِسے پورے عالمِ اسلام میں ایک امتیازی حیثیت عطا کرتی ہے۔ اِس کی سرحدیں ایشیا کے تمام بڑے ممالک سے ملتی ہیں اور اِس کی جڑیں پورے شرقِ اوسط میں بہت گہری ہیں، البتہ بدلتے ہوئے حالات میں ہمیں یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان کا سیاسی، انتظامی اور معاشی ڈھانچہ ایک بڑی تبدیلی کا متقاضی ہے۔ ہم نے آج تک شعوری یا غیرشعوری طور پر مضبوط مرکز کا نعرہ لگا کر معاشرے کے بااثر طبقات کی بالادستی قائم کی ہے اور اُن دُورافتادہ اَور پس ماندہ علاقوں کا حق انصاف کے اصول کے مطابق ادا نہیں کیا جو تمام تر دشواریوں اور شورشوں کے باوجود پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کوئی تیس کے لگ بھگ ڈویژن ہیں اور اَیک ڈویژن کی آبادی ستر اسّی لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ دنیا میں پانچ سیکنڈی نیوین ممالک کا بہت چرچا ہے جنہیں فلاحی ریاستوں میں اوّل مقام حاصل ہے۔ ہمارا ہر ڈویژن آبادی میں ایسے ہر سکینڈی نیوین ملک کے برابر یا اُس سے بھی بڑا ہے۔ اگر ہم اپنے ڈویژنوں کو بااختیار بنا دیں اور اُنھیں اُن کے حق کے مطابق وسائل کی فراہمی کا ایک قابلِ اعتماد نظام قائم کر سکیں، تو ہمارا پورا ملک بھی اُن فلاحی اکائیوں پر پھلے پھولے گا جو مرکز اور صوبوں کی ظالمانہ جکڑبندیوں سے آزاد اَور سیاسی، معاشرتی اور معاشی عمل میں بہت سرگرم ہوں گی۔ ہمارا معاشرہ عہدِ غلامی کی بعض خرابیوں کے باوجود، ایک مضبوط اور صحت مند معاشرہ ہے۔ اُس نے ہمارے بعض عاقبت نااندیش حکمرانوں کی طرح اپنے آپ کو سودےبازیوں سے محفوظ رکھا ہے اور اَپنی صلاحیتوں اور وَجدانی کیفیتوں کا وقار ٹوٹنے نہیں دیا۔ اِس لیے ہمیں ڈائمنڈ جوبلی پر اَمن کا اعلان کرنا چاہیے کہ ہم اپنی مضبوط معاشرتی اکائیوں کو اوّلین اہمیت دیں گے اور تیس کے لگ بھگ عوامی طاقت کے مراکز توازن کے ساتھ مستحکم کریں گے کہ پاکستان کے مستقبل کا انحصار اب اُنھی کی ترقی اور یک جہتی سے وابستہ ہے۔
اِس موقع پر ہمارے تارکینِ وطن کو بھی ایک خاص کردار اَدا کرنا ہو گا۔ اُنھیں چاہیے کہ وہ جہاں جہاں بھی ہیں، وہاں پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے اچھے رویوں کو اپنا شعار بنائیں۔ سچائی، دیانت داری اور فرض شناسی سے اپنے فرائض ادا کریں اور اَپنی ذاتی خوبیوں سے وہاں کے رہنے والوں کے دلوں میں جگہ بنانے کا ہنر آزمائیں۔ اُنہیں آپس میں دست و گریباں ہونے کے بجائے پاکستان کے قیام کے مقاصد کو اوّلین اہمیت دینی چاہیے اور اَپنے سیاسی لیڈروں کی محبت میں غیرمتوازن اور غیرمہذب ہونے کے بجائے پاکستان کی سیاسی حیثیت کو معتبر بنانے کے لیے وہاں کے اہم عوامی اداروں سے رابطے مضبوط کریں۔ اِس کارِعظیم کو شروع کرنے کا پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی نہایت اچھا موقع ہے۔ (جاری ہے)
Facebook Comments HS

