یو م آزادی پاکستان


شورش کاشمیری کی کتاب بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل سے اقتباس

1857 کا ہنگامہ ہندوستان میں برطانوی استعمار کے خلاف پہلا نعرہ احتجاج تھا، سر سید نے مسلمانوں کی گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دیا، علی گڑھ نے مسلمانوں کو بچا یا، دیو بند نے اسلام کو، ورنہ ممکن تھا مسلمان اسپین کی طرح صاف کر دیے جاتے، اور یہ سب ہندوستان میں آزادی کی تحریک کے احیاء کا احساس تھا، پہلی جنگ عظیم نے سا ری دنیائے اسلام کو اکھاڑ دیا، اس کی وجہ سے ہندوستان میں تحریک خلافت چلی، یہ ایک خارجی صدمہ تھا لیکن داخلی اضطراب کے اظہار کا ذریعہ بنا جس نے برطانوی حکومت پر واضح کر دیا کہ اس کے متعلق ملک کا عام ذہن کیا ہے؟ اس کے بعد ہندوستان میں بہت سی تحریکیں اٹھیں، ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ تحریکیں بھی اور علیحدہ بھی، انہی تحریکوں کی ضرب برطانوی حکومت کے لیے جان لیوا ہو گئی، اور اس کو رخصت ہونا پڑا۔

تاریخ اور صحافت یکساں نہیں، ان میں فرق ہے، اخبار نویسی بسا اوقات ایک مقدس جھوٹ اور مصلحت آمیز سچائی ہوتی ہے، لیکن تاریخ ایک بے لوث سچائی اور بے رحم صداقت کا نام ہے، ہندوستان یا پاکستان کو آزادی ملی تو یہ کسی فرد واحد کی تنہا ہمت اور فراست کا کمال نہیں، یہ ملک کے اجتماعی ضمیر اور قومی انا کا صدقہ تھا، اس ملک کی آزادی جس سے ہم 14 اگست کو متمتع ہوئے ان نوے سال کی جد و جہد کا ثمرہ ہے، محض مسلم لیگ اس برات کی دولہا نہیں، بے شک پاکستان کے مطالبہ پر اصرار مسلم لیگ نے کیا اور پاکستان جس شکل میں بھی ملا وہ قائد اعظم کی رہنمائی میں ملا لیکن پاکستان یا ہندوستان کی آزادی کا وارث کوئی تنہا شخص نہیں، ہم سب ہیں، اور سب سے زیادہ حصہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے گھر بار لٹا دیا جن کی گمنامی سے ہم نے نام پا یا! جنہوں نے کسی شخصی خواہش کے بغیر قید و بند کو لبیک کہا، جو تختہ دار پر لٹک گئے، جن کی خوبیاں قید خانوں کے لمحوں میں تحلیل ہو گئیں، جن کا لہو خنجر کی دھار پر بو لتا رہا، یہ غلط ہے کہ پاکستان صرف مسلم لیگ نے بنایا ہے، پاکستان حاصل اس نے کیا لیکن اس کی بنیاد سید احمد شہید نے رکھی۔

لیگ کے عام رہنما آزادی کے ہیرو بن کر سامنے آتے ہیں تو ہنسی اتی ہے حتیٰ کہ تاریخ کی فطرت بھی ابا کرتی ہے، ان کا ملک کی آزادی میں ہیرو بننا بالکل ایسا ہے جیسا قائد اعظم کے ورثہ پر ان لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا، جنہوں نے ملک معظم کی حکومت سے حلف اٹھایا تھا کہ اس کہ پشت بانی کے لیے وہ اپنی جانیں وقف کرتے ہیں، جو آخر تک اس کی بقا اور استحکام کی خاطر ہندوستان اور ہندوستان سے باہر لڑتے رہے۔

پاکستان کے قیام کے خاطر جو خون خرابہ ہوا اور مسلمانوں کو جو قیمت ادا کرنی پڑی وہ غیر متوقع نہیں بلکہ متوقع تھی۔ قوموں کی زندگی انہی حادثوں سے بنتی ہے، ایک کا خون دوسرے کے چہرہ کا غازہ ہوتا ہے اور ایک کی ہڈیاں دوسرے کے سہرے کا پھول ہوتے ہیں، شاخیں کاٹنے ہی سے پھول کھلتے اور ٹہنیوں کا حسن نکھر تا ہے۔ پاکستان بلا شبہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ہر نوعی قربانی کا نام تھا، نعرے ہمیشہ طرنباک ہوتے ہیں، مظاہرے خطرناک اور مجاہرے اندوہناک، پاکستان کے سفر کو عوام اگر گلشن چمن سمجھے تھے تو یہ ان کا حسن ظن تھا، جو قومی سیاست میں جذباتی نعروں کی وجہ سے عموماً پیدا ہو جاتا ہے، اگر سات آٹھ لاکھ مسلمانوں کی بے دریغ قربانی سے پاکستان میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہو جاتی تو کوئی قیمت نہ تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ رہنماؤں کے وعدے روزبروز دوشیزہ کی کہہ مکرنی ہوتے گئے، میں نے روزنامہ آزاد میں لکھا تھا کی اس تقسیم کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہندوستان میں مسلمان اور پاکستان میں اسلام نہیں رہے گا، ہندو ذہنیت کوشاں ہوگی کہ ہندوستان کے مسلمان مرتد ہو جائیں، قتل ہو جائیں یا مفرور ہو جائیں، مسلمانوں کو پاکستان میں رفتہ رفتہ جن لوگوں سے واسطہ پڑے گا وہ اسلام کے عائد کردہ فرائض سے پہلو تہی کریں گے، وہ پاکستان میں اسلام کا ایک نیا تجربہ کریں گے، اور ان کی اندر خانہ کوشش ہوگی کہ پاکستان ایک سیکولر ریاست بن جائے جو امراء کے ہاتھ میں دست پناہ ہو لیکن یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان اسلام کی ریاست بنے یا عوام کی ریاست ہو۔

Facebook Comments HS