قدیم فقہاء اور عشقیہ شعر و شاعری!
آج کل کے بعض ضرورت سے زیادہ نیک فضلاء کے ذہنوں میں یہ بات پیوست ہو گئی ہے کہ حسن، محبت، عورتوں سے متعلق عشقیہ گفتگو اور شعر و شاعری صرف لوگوں کے ایک گھٹیا گروہ تک محدود ہے، جو دین داری اور نیکی سے بہت دور ہے۔
حالانکہ متقدمین فقہاء اتنے خشک مزاج نہیں تھے جتنا کہ آج کے فقیہان ملت ہیں۔ چنانچہ آپ کو اسلامی تاریخ میں ایسے بہت سے فقہاء ملیں گے، جو اپنی علمی گہرائی اور وسعت کے ساتھ ساتھ زہد اور تقوی کی بلندی پر ہونے کے باوجود انتہائی روشن خیالات کے مالک تھے، اس کی وجہ یہ ہے کہ زبان و ادب کے رواج اور ترقی میں ”شاعری“ کا بڑا کلیدی کردار رہا ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ
اہل علم کے لیے قدیم عربی ادب کو نظر انداز کر دینا گویا قرآن و حدیث اور مذہبی لٹریچر کو نظرانداز کر دینا ہے، یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم کے فقہاء اور علماء جس طرح دیگر علوم پر عبور رکھتے تھے اسی طرح ان کو علم ادب میں بھی مکمل مہارت حاصل تھی۔ پھر عربی ادب اور شعر و شاعری کا آپس میں جو گہرا تعلق ہے اسے بھی اہل علم خوب جانتے ہیں۔ فقہاء متقدمین کی ظرافت طبع کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ کو ان کی شاعری غزل سے بھرپور ملے گی۔
میری دلیل کے متعلق تو شاید آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”یہ منہ اور مسور کی دال“ لیکن آئیے میں آپ کو شیخ علی طنطاوی کے پاس لے چلتا ہوں جو اپنے ایک طویل مضمون (من غزل الفقھاء) میں لکھتے ہیں کہ ایک متشدد عالم کی نظر سے کئی مضامین گزرے تھے جن میں سے ایک مضمون میرا بھی تھا جو میں نے محبت کے عنوان پر لکھا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا ”شیخ! آپ کا محبت سے کیا لینا دینا ہے، آپ تو عالم دین اور قاضی ہیں۔ علماء اور ججوں کے لیے مناسب نہیں کہ وہ محبت یا عورتوں سے متعلق گفتگو کریں۔ یہ تو صرف شاعروں کا کام ہے اور انہی کو زیب دیتا ہے۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالی نے شعر و شاعری سے بہت بلند مقام پر رکھا ہے۔ کیا امام شافعی نے صراحت نہیں کی ہے کہ اگر شعر گوئی علماء کی شان کو داغدار نہ کرتی تو میں لبید سے بھی بڑا شاعر ہوتا“
شیخ علی طنطاوی رحمہ اللہ، اس کے جواب میں غزل یعنی عورتوں سے متعلق عشقیہ گفتگو اور شعر و شاعری کے بارے میں دلائل سے بھرپور ایک طویل مضمون داغ دیتے ہیں جس میں آپ نے جہاں اور بہت سی علمی شخصیات کے اشعار نقل کیے ہیں وہاں فقہاء مالکیہ کی ایک ممتاز علمی شخصیت قاضی عبد الوھاب، مالکی بغدادی کے کچھ اشعار بھی نقل فرمائے ہیں جن کے ذریعہ انہوں نے اپنی تصوراتی محبوبہ کے ساتھ، فقہی اور عدالتی زبان میں خیالی چھیڑ چھاڑ کی ہے۔
ان اشعار سے آپ کا بھی لطف دوبالا ہو سکتا ہے۔
”ون۔ ائم۔ ة ق۔ ب۔ لت۔ ہ۔ ا ف۔ ت۔ ن۔ ب۔ ہ۔ ت
وق۔ الت ت۔ عالوا فاطلبوا اللص بالحد
ف۔ ق۔ لت لھ۔ ا ان۔ ی ف۔ دی۔ ت۔ ک غ۔ اص۔ ب
وم۔ ا ح۔ ک۔ م۔ وا ف۔ ی غ۔ اص۔ ب ب۔ س۔ وى الرد
خ۔ ذی۔ ہ۔ ا وح۔ ط۔ ی ع۔ ن اث۔ ی۔ م ظ۔ لام۔ ة
وان ان۔ ت لم ت۔ رض۔ ی ف۔ الف۔ اً م۔ ن العد
ف۔ ق۔ الت ق۔ ص۔ اص ی۔ ش۔ ہ۔ د الع۔ ق۔ ل ان۔ ہ
على المذنب الجانی الذ من الشھد
وق۔ الت الم اخ۔ ب۔ ر ب۔ ان۔ ک زاھ۔ د
ف۔ ق۔ لت ب۔ لى م۔ ا ذلت ازھد فی الزھد
ف۔ ب۔ ات۔ ت ی۔ م۔ ی۔ نی رہن ہمیان خصرہا
وب۔ ات۔ ت ی۔ س۔ اری رہ۔ ن واس۔ ط۔ ة الع۔ قد ”
ترجمہ۔
سوتے ہوئے میں نے اس کا بوسہ لیا تو اس نے جاگ کر کہا: ”اے لوگو آ جاؤ، چور کو سزا دو۔“
میں نے اس سے کہا: تم پر فدا ہو جاؤں، میں تو چور نہیں بلکہ غاصب ہوں۔ اور غاصب کے بارے میں فقہاء کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ غصب شدہ چیز کو واپس کردے۔ اس لیے جو بوسہ میں نے آپ کا لیا ہے وہ تم مجھ سے واپس لو اور (اس سے زیادہ سزا دے کر ) ایک گناہ گار پر ظلم مت کرو۔
اور اگر اس پر تو راضی نہیں تو ایک ہزار بار میرا بوسہ لے کر گنتی کے ہزار پورا کر لو۔
خیالی محبوبہ نے کہا: یہ تو ایسا قصاص ہے، جس کی عقل بھی گواہی دیتی ہے کہ یہ جنایت کرنے والے مجرم کے لیے شہد سے بڑھ کر میٹھا ہے، کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ تم سنیاسی ہو (تارک الدنیا) ہو؟ یعنی مجھے تو آپ کے بارے میں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ نے دنیاوی لذتوں اور خواہشوں کو ترک کر دیا ہے۔ تو میں نے کہا، ہاں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں ابھی تک زہد ہی سے سب سے زیادہ بے رغبت ہوں۔ پھر یوں ہوا کہ میرا دایاں ہاتھ کوکھ سے بندھی گئی اس کے پیسوں کی تھیلی کے پاس گروی بنا جبکہ میرا بایاں ہاتھ اس کے سینے کے ہار کا درمیانی جوہر بن کر مقید رہا۔ یعنی وہ مکمل طور پر میرے قابو میں آ چکی تھی۔
بغداد سے جاتے وقت قاضی عبدالوھاب نے یہ شعر بھی کہا تھا:
”بغداد دار لاہل المال طیبة
و للمفالیس دار الضنک و الضیق
ظللت حیران امشی فی ازقتھا
کاننی مصحف فی بیت زندیق۔
بغداد پیسے والوں کے لیے بڑا خوبصورت اور اچھا گھر ہے لیکن دیوالیہ ہونے والوں کے لیے سختی اور تنگی کا گھر ہے۔ میں اس کی گلیوں میں حیران، یوں چلتا رہا گویا میں کسی زندیق کے گھر میں قرآن ہوں۔
(آج کل یہ شعر پاکستان کے حوالے سے بھی بہت موزوں لگ رہا ہے کہ پیسہ ہو تو جمالستان ہے، لیکن فقر وفاقے کے مارے ہوئے کے لیے بغیر آکسیجن کے کسی تنگ کوٹھڑی سے کم نہیں۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بہت سے مسلمانوں کے گھروں میں قرآن کا بھی وہی حال ہے جو کسی کافر کے گھر میں ہو سکتا ہے۔
شیخ علی طنطاوی مختلف علماء کے دسیوں اشعار ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
”تو پھر کہاں سے ان کا یہ دعویٰ ہے کہ فقہاء اور علماء شاعری سے نفرت کرتے تھے اور اس سے دور رہے ہیں؟
یاد رکھیں : ہمارے علماء کی زبانیں اس وقت تک نہیں ڈگمگائیں، ان کے قلم اس وقت تک نہیں نہیں تھکے اور ان کی آوازیں اس وقت تک مدھم نہیں ہوئیں، جب تک وہ فصاحت و بلاغت کا ملکہ کھو نہیں بیٹھے، علم ادب سے بیزار نہیں ہوئے اور شاعری کو حقیر نہیں سمجھا۔
اس سوال کے جواب میں کہ (قرآن نے نبی کریم ﷺ سے شعر و شاعری کی نفی کی ہے ) سائل کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”اور جناب آپ کو کس نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو شعر و شاعری سے منزہ فرمایا ہے کیونکہ وہ ایک بری چیز ہے؟ نہیں جناب! بلکہ نفی فقط اس لیے کی گئی ہے کہ عرب آپ کو شاعر کہتے تھے، حالانکہ شاعر کے پاس خیالات اس کے اندر سے آتے ہیں جبکہ نبی کے پاس وحی آسمان سے آتی ہے، یہی وہ چیز تھی جس کا اہل عرب کو ادراک نہیں تھا، جس کی بنا پر انہوں نے آپ کو شاعر کہا اور اللہ تعالی نے اس کا رد فرمایا۔ پھر آپ کو ایسی شاعری کی حرمت یا مذمت کہاں سے ملی جو خوبصورت الفاظ میں اعلیٰ احساس کو بیان کرتی ہو؟ قبیح تو وہ تب ہو سکتی ہے جب وہ جھوٹ یا پھر حق کے ابطال اور باطل کے احقاق پر مشتمل ہو“
خلاصہ یہ کہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے شعر و شاعری سے لگاؤ از حد ضروری ہے بشرطیکہ اسے باقاعدہ ایسا مشغلہ نہ بنا جائے جو الٹا انسان کو دین سے دور کردے۔ لہذا جدید فضلاء کو اس طرف بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔


