سلطنت پاکستان


یہ جو آج بعض لوگ اپنے گھروں میں آرام و سکون سے بیٹھ کر پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف بول رہے ہیں۔ تو یہ وہ ملک ہے جس کے لیے ہمارے اسلاف نے اپنی جانیں دی، بڑوں، چھوٹوں ، اور خواتین نے قربانیاں دی۔ جائیداد چھوڑی، عزتیں لٹائیں ، اور اپنے جگر لختوں کو شہید کروایا.
یہ کوئی ایک دن ، مہینہ سال کی تکالیف برداشت کرکے ہمیں یہ پیارا ملک نہیں ملا۔ بلکہ اس ملک کو وجود میں لانے کیلئے کئی صدیاں لگی ہیں۔ بے شمار شہادتیں ہوئی تکالیف برداشت ہوئی اور سب سے بڑھ کر غلاموں والی زندگی گزاری گیی ہے۔ اگر ہم اس تحریک کو مختصر بھی بیان کریں۔ تو بھی یہ تحریک اکبر بادشاہ کے دور میں شروع ہوئی تھی.
اورنگ زیب عالمگیر کے بعد تمام مغل جانشین سیاسی طور پر کمزور تھے۔ ان کی سلطنت پر سیاسی کنڑول تقریبا برائے نام رہ گیا تھا۔ وہ ذاتی عیش و عشرت میں مصروف تھے۔ مملکت کے امور وزراء کے ہاتھوں میں تھے۔ ماتحت وزراء اور ملازمین ذاتی مفادات میں مصروف تھے۔ صوبہ دار خود بادشاہ بن بیٹھے تھے۔ جانشینی کا کوئی باقاعدہ قانون نہیں تھا اور تخت کے لیے بھائی ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے۔ اس سیاسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرہٹوں اور سکھوں نے اپنی طاقت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ یہاں تک کہ مرہٹے دہلی کے دروازے تک پہنچ گئے۔
 حیدر آباد، اودھ، اور بنگال تقریبا آزاد ہوچکے تھے۔ مغل  نظام شخصی آمریت پر قائم تھا۔ آخری مغل اچھے حکمران ثابت نہ ہوسکے۔ اور سلطنت زوال پذیر ہوئی۔ ہندوستان کے خراب حالات کی وجہ سے بیرونی حملہ آوروں نے حملے شروع کئے اور ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی.
سماجی طور پر معاشرہ بھی متحد نہیں رہا۔ شرفاء کا کردار زوال پذیر ہو چکا تھا۔ سولہویں اور سترہویں صدی میں یہ لوگ مغل بادشاہوں کے تحت ایک خاص مقام حاصل کر چکے تھے۔ اور یہ لوگ اپنا لوہا منوا چکے تھے۔ بعد میں یہ لوگ کئی سماجی طبقات میں تقسیم ہوئے یعنی ایرانی، تورانی، اور ہندوستانی وغیرہ۔
 مذہبی جذبات بھی زوال پذیر ہوچکے تھے۔ معاشرے پہ خود غرضی چھائی ہوئی تھی۔ ہر طرف مفادات کی جنگ شروع تھی۔ امراء کے درمیان ایک قسم کی خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی۔ مغل میں ذاتی طور پر ہندوستان کے لوگ نہیں تھے۔ اور یہاں کے لوگ انہیں پسند نہیں کرتے تھے۔
معاشی حالات بھی کچھ اچھے نہ تھے۔ ملک اقتصادی طور پر مفلوج ہوچکا تھا۔ کمزور حکمرانوں کا مالیہ جمع کرنے والا عملہ طاقت سے مالیت حاصل کرتا تھا۔ اس طرح کئی لوگوں نے کاشتکاری کو خیر باد کہا۔ قومی آمدنی قومی خرچ سے کہی کم تھی۔ لوگوں کی معاشی حالت بھی حوصلہ افزا نہ تھی۔ قومی خزانہ شاہ خرچیوں، فوجی مہمات اور مالیہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے خالی ہوچکا تھا۔ سپاہیوں کو تنخواہ نہیں ملی۔ اس سے بدامنی پیدا ہوئی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہوا.
 اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کئی تحریکوں نے جنم لیا۔ اور ہر تحریک نے ایک سے بڑھ کر ایک ایسا مرد مجاہد پیدا کیا۔ جس نے متحدہ ہندوستان سے مسلمانوں کیلئے آزاد اور خودمختار ریاست بنانے کی تکمیل کیلئے مشکلیں اٹھائیں۔ قید کی صحبتیں جیلی اور تکالیف برداشت کیں۔
بیسویں صدی میں تحریک پاکستان اصل معنوں میں شروع ہوا۔ جس میں سر سید احمد خان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مگر قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، شبیر احمد عثمانی، آغا خان سوم، لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، فاطمہ جناح، اور عبداللہ ہارون کی کاوشوں، محنت اور لگن سے ایک قرارداد منظور ہوا جیسے قرارداد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے.
مئی 1945 میں ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ویول لندن گئے اور برطانوی انتظامیہ کے ساتھ ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات پر تبادلہ خیال کیا۔ شملہ کانفرنس کی ناکامی کے ساتھ ہی لارڈ ویول نے اعلان کیا کہ مرکزی اور صوبائی مقننہ کے انتخابات 1945 کے موسم سرما میں ہوں گے، جس کے بعد ایک آئین ساز ادارہ بنایا جائے گا۔
 برطانوی حکومت کی کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان امن قائم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔ 1945-46 میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج ہندوستان کو متحد رکھنے کے لیے ماؤنٹ بیٹن کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں، اقتدار کی منتقلی اور ملک کی تقسیم کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے کو کہا۔
برطانوی پارلیمنٹ نے 18 جولائی 1947 کو ہندوستان کی آزادی کا ایکٹ پاس کیا۔ اس ایکٹ نے دو ڈومینز، ہندوستانی یونین اور پاکستان بنائے۔ اس نے برطانویوں کے مکمل خاتمے کے لیے بھی فراہم کیا. اپریل 1946 میں قائداعظم نے ان تمام افراد کا کنونشن بلایا، جو مسلم لیگ کے ٹکٹ پر صوبائی اور مرکزی مقننہ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
جولائی 1946 کے آخر تک، برطانوی ہندوستان نے 296 ارکان پر مشتمل اپنی دستور ساز اسمبلی کا انتخاب کیا۔
اور پھر اس طویل جدوجہد کے بعد آخر کار 14 اگست 27 رمضان المبارک 1947ء کو پاکستان دنیا کے عظیم نقشے پر نمودار ہوا.!
Facebook Comments HS