سوشل میڈیائی مصنوعی قوم پرست اور سندھ


اب یہ بحث نئی نہیں رہی کہ سوشل میڈیا ایک بے لگام گھوڑا ہے، جس کو قابو رکھنا شاید کسی کے بس میں نہیں، آئے دن مختلف فورم پر ہمیں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی بنانے کی باتیں سننے کو ملتی ہیں، لیکن کافی کوششوں اور جدوجہد کے باوجود سوشل میڈیا کے اس بے لگام گھوڑے کو قابو نہیں کیا جا سکا، کیا خوب کہا ہے آغا سراج درانی نے کہ جب سے یہ ڈجیٹل فون آ گیا ہے لوگوں کو لوگوں کی عزتوں کا خیال نہیں رہا، بس فون اٹھاتے ہیں اور پوسٹ رکھ کر فتوے جاری کر دیتے ہیں کہ فلاں اچھا ہے فلاں خراب ہے۔

نہ بات کرنے والے کی حیثیت کا پتہ ہوتا ہے، نہ ہی اس کے مقاصد کا اندازہ ہوتا ہے بس ایک ایسا اندھا کنواں ہے، جس کو دل میں آتا ہے لکھ دیتا ہے اور لوگ آنکھ بند کر کے یقین بھی کرلیتے ہیں۔ بات میں تو بہت وزن ہے، ہم حالیہ کچھ واقعات کا ذکر کریں تو اندازہ ہو جائے گا سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے ہمارے معاشرے میں کتنی نفرت پھیلا دی ہے، حالیہ دنوں میں سندھ کے اندر ایک ایسی آگ لگانے کی کوشش کی گئی جس کے نتائج بہت خطرناک نکلتے، شاید یہ دھرتی جل کر راگ ہوجاتی اور لوگ ایک دوسرے کی جان کے ایسے پیاسی بن جاتے جو ہر جگہ لاشوں کے انبار لگ جاتے، لیکن خراج تحسین پیش کرنا چاہیے ہیں ہمیں اپنے اداروں کو ، ان شخصیات کو جنہوں نے بڑی عقلمندی سے سوشل میڈیا کے فورم سے سندھ میں لسانی فسادات کی آگ کو بجھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ذاتی معاملہ ہو یا پھر دو برادریوں میں تصادم ہو، پولیس کی نا اہلی ہو یا کسی اور سرکاری ادارے کی کوتاہی نظر آتی ہو، لیکن ہمارے یہ سوشل میڈیائی قومپرست بغیر سوچے سمجھے ایسی پوسٹیں رکھ دیتے ہیں جو آگ میں تیل چھڑکنے کے مترادف ہوتی ہیں۔

ہم اپنے پچھلے کالم میں واضح کر چکے ہیں کہ سندھ ہمیشہ امن کی دھرتی رہی ہے، اس دھرتی نے دیگر صوبوں سے یہاں بسنے والوں کو اپنی آغوش میں اولاد کی طرح پناہ دی ہے، اس دھرتی کی خاص ادا یہی ہے کہ یہاں نہ مذہبی فرقہ واریت کا وجود ہے، نہ لسانی تعصب کام آتا ہے اور نہ ہی نسل پرستی کی بنیاد پر کوئی اپنی سیاست چمکا سکتا ہے، پھر چاہے گھوٹکی میں مندر کی بے حرمتی ہو یا حیدرآباد میں ایک نوجوان کا قتل ہو، ہر ایسے موقع پر سندھ کے خاندانی قومپرست رہنماؤں نے آگے بڑھ کر ایسے تصادم ختم کرانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کے جی ایم سید کے خاندان کے چشم چراغ سید جلال محمود شاہ، ایس ٹی پی سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی، جسقم چیئرمین صنعان قریشی، قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو، قومپرست رہنما ریاض چانڈیو اور بہت ایسے سارے نام جنہوں نے ہمیشہ اپنی قومپرست سیاست کو چمکانے کے لئے کبھی بھی نسل پرستی کو استعمال نہیں کیا، یہی سبب ہے کہ سندھ کے باسی اب بھی اپنے حقیقی قومپرست رہنماؤں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

گھوٹکی میں جب کچھ جنونی لوگوں نے مندر پر دھاوا بولا تو پورے سندھ نے نہ صرف اس کی مذمت کی بلکہ اپنی ہندو برادری کے ساتھ صف اول میں کھڑے رہے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گھر بیٹھے موبائلی انتہاپسندوں نے اس اقدام کی مخالفت کی اور بھرپور کوشش کہ اس کارروائی میں ملوث لوگوں کو جسٹیفائیڈ کیا جائے، لیکن سندھ نے اس سازش کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ ایسے لوگوں کو بے نقاب بھی کیا۔

اب کچھ روز قبل ہی حیدرآباد کے ایک ہوٹل پر نوجوان کے قتل کے واقعے کو بھی نسلی رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور صوبے بھر میں سندھی، پٹھان جھگڑا کرانے کی سازش رچی گئی، سوشل میڈیا دیکھتے ہی ایسی ایسی باتیں پڑھنے کو ملی کہ بس اب جنگ چھڑنے والی ہے اور یہاں خون کی ندیاں بہنے والی ہیں، سہراب گوٹھ میں کچھ شرپسندوں نے ایسی حرکت بھی کی، جس سے شہر میں خوف کی فضا پھیل گئی اور سب کو لگا کہ اب پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے، سندھ کے دیگر کچھ شہروں میں پٹھانوں کے کاروبار بند کرائے گئے، جس کی ہر باشعور شخص نے بھرپور مذمت کی، سندھ کے قومپرست رہنما جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، ایاز لطیف پلیجو اور قائم مقام گورنر آغا سراج درانی نے بڑی دانشمندی سے اس معاملے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اور دونوں قوموں کے لوگوں کو صبر کی تلقین کی اور معاملے کو قانونی طریقے سے حل کرنے پر قائل کیا، لیکن سوشل میڈیائی قوم پرستوں کو یہ بات بھی اچھی نہیں لگی تو انہوں نے امن کے پیروکار ان رہنماؤں کو اپنی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور ان کو طرح طرح کے لقب دے کر غدار سندھ بول دیا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے جو سوشل میڈیا پر بیٹھ کر سندھ سندھ کرتے پھرتے ہیں یا سندھ کے حقوق کی بات کرتے ہیں، ان سے پوچھنا یہ ہے کہ جب سندھ کے حقوق کی عملی جدوجہد ہو رہی ہوتی ہے تو آپ کہاں ہوتے ہیں؟

اس وقت بھی گھر بیٹھ کر صرف پوسٹ ہی رکھتے ہیں؟ عملی میدان میں نظر کیوں نہیں آتے؟ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے کئی سیمینارز، ورکشاپ، مظاہرے اور دھرنے دیکھیں ہیں جس میں سوشل میڈیائی قومپرست کہیں بھی نظر نہیں آتے اور جب ان سے پوچھوں تو بھائی آپ بڑا سندھ کا درد رکھتے ہیں، سندھ کے حقوق کے لئے پروگرام تھا آپ نظر تو نہیں آئے، تو جواب ملتا ہے کچھ کام قوم بھی کر لیں۔ اس کا مطلب ان کا کام صرف اور صرف انتشار پھیلانا ہوتا ہے، باقی عملی جدوجہد سے ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا، لگ ایسے رہا ہے کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے، تاکہ حقیقی اور خاندانی قوم پرستوں کے خلاف ایسی منفی مہم چلا کر ان کو گندا کیا جائے اور ان کی جگہ ایسے سوشل میڈیائی قومپرست رہنما پیدا کیے جائے جو صرف سوشل میڈیا پر نعرے لگائے، لوگوں کو اکسائے اور پھر صوبے کا امن امان خراب کیا جائے، یہ روش حقیقی اور خاندانی قومپرست رہنماؤں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے، ان کو اپنی اپنی جماعتوں میں سوشل میڈیائی مصنوعی قوم پرستوں کے خلاف ایک منظم مہم چلا کر لوگوں کو اجاگر کرنا چاہیے، تاکہ سندھ کے عوام ایسے بہروپیوں کے شر سے نہ صرف خود کو محفوظ رکھیں بلکہ امن اور محبت کی اس دھرتی کو بھی بچا سکے۔ ہم سب کا بھی یہی فرض بنتا ہے کہ سوشل میڈیا پر انتشار اور نفرت پھیلانے والے پوسٹس اور ٹرینڈز کا حصہ نہ بنیں، اگر ایسے سوشل میڈیائی قومپرست رہنماؤں کو فیڈ بیک نہیں ملے گا تو وہ خود ہی اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

Facebook Comments HS