یوم آزادی اور نوجوان نسل کا عہد

آزادی ایک لفظ نہیں، ایک عظیم نعمت ہے، جو قومیں اس نعمت کی قدر نہیں کرتیں ان کا نام صفحہ ہستی سے مٹا جاتا ہے۔ 14 اگست کا دن ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے نصف صدی تک حصول پاکستان کے لئے کن کن جانی و مالی قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا جن کی بدولت ہم آج آزاد وطن میں پر سکون زندگی گزار رہے ہیں۔ 27 رمضان المبارک کو پاکستان کا قیام نہ صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لئے ایک نایاب تحفہ ہے بلکہ تمام عالم اسلام کے لئے ایک معجزہ بھی ہے۔
انگریزوں کے برصغیر پاک و ہند پر غالب آ جانے کے بعد مسلمانوں پر اس قدر زمین تنگ کردی گئی تھی کہ جینا محال ہو گیا۔ دیانند سرسوتی نے آریہ سماج پر مبنی پر تشدد تحریک شروع کی جس میں کھل کر کہا گیا تھا کہ ہندوستان صرف ہندووں کا ہے یہاں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں اس نظریے کے تحت مسلمانوں کو دو آپشنز دیں گئیں ایک یہ کہ مسلمان اپنا دین چھوڑ کر ہندو بن جائیں اور دوسرا یہ کہ ہندوستان سے ہجرت کر کے کہیں اور چلے جائیں، اسی تحریک کے تحت آر ایس ایس بنائی گئی تھی جو ایک انتہا پسند ہندووں کی جماعت ہے اس کے علاوہ شدھی کی تحریک شروع کی گئی جس کا مقصد بھی مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانا تھا پھر سنگھٹن تحریک کے ذریعے انتہا پسند ہندووں کو اکٹھا کر کے مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔
ہندو تنظیموں کی انتہا پسندانہ کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے علماء کرام کو ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان کو بھی شدت سے احساس ہونے لگا کہ ہندو مسلم بھائی بھائی کے نعرے ظاہری طور پر کچھ اور عملی طور پر کچھ اور ہیں۔ اس بات کا ادراک سر سید احمد خان کو بہت پہلے ہی ہو چکا تھا، شاعر و مفکر علامہ اقبالؒ بھی یہ بات جان چکے تھے کہ ہندوستان کی آزادی مسلمانوں کی آزادی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی حقیقی آزادی تب ہوگی جب ان کا اپنا ایک الگ وطن ہو گا۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے اور آزادی کی زندگی کا ایک دن غلام کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ بڑی خوش قسمت ہیں وہ اقوام جو آزاد فضا میں سانس لے رہی ہیں اس لئے آزادی ایک ایسی بیش بہا نعمت ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ کسی مفکر کا کہنا ہے کہ شاید عقیدہ کے بعد آزادی ہی ایک ایسی چیز ہے جس کی خاطر انسان اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ملک بھر میں ہر طرف سبز ہلالی پرچم دیکھنے کو ملتے ہیں۔
نوجوان نسل کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آج ہم آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں تو یہ آزادی ان شہیدوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لئے قربان کیا۔ پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کا خون شامل ہے۔ ، ایک آزاد مملکت کے لئے مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں ہیں۔ آج ہم ایک آزاد، خودمختار ریاست میں سکون کی سانس لے رہے ہیں لیکن انڈیا میں آج بھی مسلمانوں پر اسی طرح مظالم ڈھائے جا رہے ہیں جس طرح انگریز ہندوستان کے باشندوں خصوصاً مسلمانوں پر ڈھاتے تھے۔
مودی سرکار جس طرح انڈیا اور مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کر رہی ہے وہ قابل افسوس ہے اور اس پر جمہوریت کے قیام کی دعویدار عالمی طاقتوں کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ آج جب ہم انڈیا اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر بھارتی حکمرانوں اور قابض بھارتی فوج کی بربریت دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ہم پراور ہماری نسلوں پر جو احسان کیا ہے وہ احسان ہم کبھی نہیں اتار سکتے لیکن مگر ہم پاکستان کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کی امنگوں کے مطابق بنا کر ان کی روح کو تسکین ضرور پہنچا سکتے ہیں۔
آج کی نوجوان نسل کو آزادی کی قدر و قیمت مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں سے پوچھنی چاہیے جو بھارت اور اسرائیل کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمیں عہد کرنا ہو گا کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی، امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور وطن عزیز کی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور ہمہ وقت پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے جو وطن عزیز کی حفاظت اور دہشت گردوں کی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے آرہے ہیں، ہم عہد کرتے ہیں کہ اپنے ملک کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، ہمارے آباؤ اجداد نے پاکستان آزاد کروایا تھا ہم انشا ء اللہ کشمیر آزاد کروائیں گے۔

