ہمارے پاس وہ آزادی ہے جو دوسرے ملک کے لوگوں کو میسر نہیں


اگست کا مہینہ جاری ہے جو کے آزادی کا مہینہ ہے، ایک سوال تو ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہو گا کہ ہم آزاد ہے یا نہیں اور دوسروں پکے پاکستانیوں سے بھی پوچھئے کے کیا اپ آزاد ہیں؟ فلاسفر قسم کے پاکستانی لوگ کہے گے نہیں نہیں ہم آزاد تو بالکل نہیں ہم تو غلام ہیں، لا ابالی قسم کے لوگ کہے گے ہاں بھئی ہم تو آزاد ہیں اور پھر جھنڈا لے کر نکل پڑیں گے۔ سب کا اپنا اپنا موقف ہے مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ سب اپنی اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق آزاد ہیں۔ جی ہاں جتنا غریب اور پسا ہوا شخص ہو گا وہ اتنا غلام ہو گا اور جتنا طاقتور اور عیاش ہو گا اتنا آزاد ہو گا۔

لیکن ہم پاکستانی بہت حد تک آزاد ہے اور اتنے آزاد ہیں کے ہم کھل کر قانون کا مذاق اڑا بھی سکتے ہیں اور اس کو نیلام بھی کر سکتے ہیں۔ ہم بہت سارے کام آزادی کے ساتھ کرتے ہیں جو ہمیں نہیں کرنے چاہیے بلکہ اس پر ہماری آزادی سلب ہو جانی چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوتا اور ہم بار بار وہ کام کرتے ہیں اور اس بے لگام آزادی کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔

آپ کو پتا ہے کہ ہم کہاں کہاں آزاد ہیں؟ تو سنئے ہم سڑک پر کچرا پھینکنے کے لئے آزاد ہیں، ہم جھوٹ بولنے میں آزاد ہیں، ہم رشوت لینے اور دینے میں آزاد ہیں، ہم الزام لگانے میں آزاد ہیں، ہم توہین کا الزام لگانے میں آزاد ہے، ہم غلط پارکنگ کرنے میں آزاد ہیں، ہم سگنل توڑنے میں آزاد ہیں، ہم بے ایمانی کرنے میں آزاد ہیں، ہم تجاوزات قائم کرنے میں آزاد ہیں ہم پروپیگنڈا کرنے میں آزاد ہیں، ہم کسی دوسرے کا حق مارنے میں آزاد ہیں، ہم انسانوں کی توہین کرنے میں آزاد ہے، ہم فتنہ پھیلانے میں آزاد ہے۔

مندرجہ بالا آزادی تو مڈل کلاس بندوں تک دستیاب ہے مگر ایلیٹ کلاس طبقے کو اس سے کئی زیادہ آزادی حاصل ہے۔ یعنی وہ سپرلیٹیو آزادی کو انجوائے کر رہے ہیں۔ ان کی آزادیاں جانیے : یہ کئی کئی ملکوں کی شہریت رکھنے میں آزاد ہے، یہ زمینوں پر قبضہ کرنے میں آزاد ہیں، یہ انسانوں کی جان لینے میں آزاد ہیں، یہ میرٹ کا قتل کرنے میں آزاد ہیں، یہ غریبوں کا استحصال کرنے میں آزاد ہیں، یہ قانون کو مسلنے میں آزاد ہیں، یہ بدمعاشی کرنے میں آزاد ہے۔ ان آزاد لوگوں کی تعداد چند ہزار میں ہوگی مگر یہ ہی طبقہ اپنے سے چھوٹے طبقے پر آزادی کے ساتھ ان کی آزادی کو سلب کرتے ہیں۔

ہم سب اپنی اپنی طاقت کے حساب سے آزاد ہیں، کیونکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس، جو جتنا طاقتور ہے وہ اتنا ہی آزاد ہے۔ ہم جیسے لوگوں کے لئے پاکستان نعمت سے کم نہیں ورنہ ہم جو حرکتیں پاکستان میں کرتے ہیں اگر یہ حرکتیں دوسرے ملک میں کریں تو ہمیں پھر پتا چلے گا کہ ہم اپنی اس آزادی کا کتنا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہم پاکستان میں ڈبل آزاد ہیں ایک تو سادی والی آزادی جو بہت سارے ملکوں کی عوام کو حاصل ہے اور ایک خاص آزادی کو جو صرف پاکستان کے لوگوں کو حاصل ہے جس میں بہت خاص خاص سہولیات دستیاب ہیں۔ ہماری والی آزادی پر دنیا حیران و پریشانی اور ہم ڈھٹائی کے ساتھ اسے انجوائے کر رہے ہیں اور شعور سے کوسوں دور ہیں۔

Facebook Comments HS