آزادی: جشن سے خواب تک


’تم کیا جانو ہجرت کا دکھ کیا ہوتا ہے؟ ہجرت کسے کہتے ہیں؟ جب سب امیدیں دم توڑ دیتی ہیں اور زندگی آخری ہچکی لیتی ہے تب تھکے ہارے وجود ہجرت کرتے ہیں ورنہ اپنی سرزمین کون چھوڑتا ہے

زوہا جو پوری آواز میں ڈیک پر آزادی کے نغمے لگائے اسکول میں ہونے والے جشن آزادی کے پروگرام کی تیاریوں میں مصروف تھی بی بی جان کی بات سنتے ہی چونک گئی

”جوان بچوں کی بے گورو کفن لاشیں دیکھی ہیں ہم نے“

بی بی جان نے زوہا کا چہرہ تکتے ہوئے اپنے دل کا دکھ ایک ہی جملے میں کچھ اس طرح بیان کیا کہ جسے سنتے ہی زوہا کا دل بھی غم سے بھر گیا اور اس نے جلدی سے ڈیک بند کرتے ہوئے، اپنے ہاتھ میں پکڑا جھنڈوں کا پیکٹ بھی بیڈ پر رکھ دیا۔ بی بی جان کے مسکراتے چہرے پر اس لمحہ دکھ ہی دکھ نظر آ رہا تھا۔ زوہا جانتی تھی یہ دکھ جدائی کا تھا، اپنے گھر، اپنے پیاروں، اپنی مٹی اور اپنے خوابوں کی جدائی، ایک درد بن کر ان کے بوڑھے چہرہ پر جھلک رہی تھی اور حسرت غم ان کے لہجہ میں بول رہا تھا

”اپنا گھر بار چھوڑ دینا، اپنے پیاروں کو وطن کی راہ میں قربان کر دینا، ننگے پاؤں کانٹوں کا سفر طے کرتے ہوئے ایک انجان منزل کی جانب گامزن، تھکن سے چور بدن، جو ایک جذبہ کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے اور وہ جذبہ تھا آزادی کا

اتنا کہہ کر بی بی جان نے زوہا کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور تھکے تھکے انداز میں مسکرا دیں

لیکن تم لوگ یہ سب نہیں سمجھ سکتے کہ اپنا سب کچھ لٹانے کی اذیت کیا ہوتی ہے؟ کیونکہ تمہیں تو یہ وطن تحفہ میں ملا ہے۔ بنا کچھ گنوائے یہ گھر تمھارا ہے، اس لئے شاید تم لوگ اس کی قدر نہیں کرتے ہو

یہ سب کہتے ہوئے انہوں نے تخت پر رکھا باجرہ کا تھیلا اٹھایا اور صحن کی جانب بڑھ گئیں، زوہا خاموشی سے انہیں جاتا ہوا دیکھ رہی تھی جب بی بی جان نے صحن میں موجود بڑے سے پنجرہ کا دروازہ کھول دیا۔ ایک دم ہی صحن بہت ساری مرغیوں سے بھر گیا جو باہر نکلتے ہی یہاں وہاں بکھر گئیں کچھ سوچتی زوہا بھی باہر صحن میں آ گئی جب بی بی جان نے پلٹ کر اس کی جانب دیکھا اور مسکرا دیں

آزادی کی قدر ان پرندوں سے پوچھو جو اس پنجرے میں قید بظاہر عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے کھانے پینے کی ذمہ داری ہم نے اٹھا رکھی ہے، پھر بھی یہ چاہتے ہیں انہیں آزاد، کھلی فضاؤں میں چھوڑ دیا جائے جس کے لئے یہ روکھی سوکھی کھا کر بھی خوش رہ سکتے ہیں کیونکہ آزادی کا اپنا ایک الگ ہی مزہ ہے، ایک الگ سکون ہے، جو پنجرہ میں بند قیدی نہیں جان سکتا جس نے کبھی آزاد فضا میں سانس ہی نہ لیا ہو

یہ کہتے ہوئے بی بی جان نے ہاتھ میں پکڑا باجرہ صحن میں یہاں وہاں پھیلا دیا اور کٹ کٹ کرتی مرغیاں باجرہ چگنے لگیں۔ زوہا یہ منظر دیکھتی ہوئی بی بی جان کے قریب جا کھڑی ہوئی اسے علم تھا اس لمحہ بی بی جان کی دلی کیفیت کیا تھی؟ وہ کس اذیت میں تھیں؟ وہ جانتی تھی ہجر کے دکھ میں ان کا دل رو رہا تھا یقیناً وہ اس وقت اپنی جوان بیٹی پھوپھی فاطمہ کے بچھڑنے کا دکھ لئے ماضی میں پہنچ گئی تھیں، پھوپھی فاطمہ جو تقسیم ہندوستان کے وقت بلوائیوں کے ہاتھوں شہید ہو گئی تھیں اور جنہیں جان کنی کی حالت میں چھوڑ کر بھاگنے کا دکھ اتنے سال گزر جائے کے بعد بھی بی بی جان کے دل میں زندہ تھا۔

جوان بیٹی کی شہادت بی بی جان آج تک نہ بھول پائی تھیں، خاص طور پر ہر سال اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ان کی عجیب حالت ہو جاتی۔ ویسے تو بی بی جان سارا سال ہی دل کھول کر خیرات دیا کرتیں لیکن ان دنوں ان کے صدقہ، خیرات میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا اور روز اچھا کھانا پکا کر مسجد کے امام صاحب کو بھی بھیجا کرتیں حالانکہ پھوپھو فاطمہ ان کی اکلوتی اولاد نہ تھیں ان سے چھوٹی بھی دو بیٹیاں تھیں جبکہ دو بیٹے بھی تھے جن کی جان بچانے کی خاطر پھوپھو فاطمہ کو تڑپتا چھوڑ کر نکلنا آغا جی اور بی بی جان کی مجبوری تھا لیکن اتنے سال گزرنے کے باوجود بی بی جان جو محبت اپنی بیٹی فاطمہ کے لئے محسوس کرتی تھیں وہ سب سے جدا تھی۔

ان کے دل میں پھوپھو کی محبت کا آج بھی بسیرا تھا اور یہ بات ہم سب جانتے تھے اس وقت بھی وہ فاطمہ پھوپھو کی محبت میں گم کئی سال پیچھے ماضی کے اس دور میں پہنچ چکی تھیں جب برصغیر پاک و ہند ایک تھا، جہاں ہندو اور مسلمان، انگریزوں کی غلامی میں زندگی گزار رہے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب الگ وطن ایک ایسا خواب تھا جس کی تعبیر ہر مسلمان چاہتا تھا اور اس کے لئے وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھا۔

زوہا نے دیکھا اپنے آپ میں گم بیٹھی بی بی جان منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کسی گہری سوچ میں ڈوب گئیں۔ زوہا نے انہیں ٹوکنا مناسب نہ سمجھا کیوں کہ وہ بی بی جان کے ماضی کو منتشر نہ کرنا چاہتی تھی وہ ماضی جس کی گہرائی میں اتری بی بی جان اس وقت حال سے بے خبر دکھائی دے رہی تھیں، ایک دکھ کی کیفیت ان کے چہرہ پر چھائی ہوئی تھی اس حالت میں ان کے ہونٹ کپکپا رہے تھے جب وہ دور خلا میں دیکھتے ہوئے آہستہ آواز میں بڑبڑائیں

”لے کے رہیں گے پاکستان“ ”
”بن کے رہے گا پاکستان“
آزادی، آزادی

کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ ان کے چہرہ پر چھائے حزن و ملال کی جگہ ایک جوش اور ولولہ واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا اور جیسے جیسے وہ یہ نعرے دہرا رہی تھیں ویسے ویسے ان کی آواز بھی جوشیلی ہوتی چلی گئی۔ زوہا نہایت محبت اور عقیدت سے یک ٹک اپنی دادی کی جانب دیکھے گئی جو عالم جوش میں بول رہی تھیں

”سارا ہندوستان ان نعروں سے گونج رہا تھا جس کی آواز نے ہندوں کو پاگل کر دیا اور وہ بھوکے کتوں کی طرح مسلمانوں پر حملہ آور ہو گئے، مکتی باہنی میں شامل ہندو چن چن کر مسلمانوں کا قتل عام کر رہے تھے، آزادی کی قیمت میں ہماری جانوں کا نذرانہ لیا جا رہا تھا، لاشیں گر رہی تھیں، لیکن پھر بھی مسلمانوں کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ ہر دکھ، ہر زخم کا مداوا آزادی تھا ہر مسلمان آزادی چاہتا تھا اور اس تحریک آزادی نے رفتہ رفتہ سارے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ان حالات میں ہم نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں بھی یہ ملک چھوڑ کر ہجرت کر لینی چاہیے کیوں کہ ہمارا اصل وطن تو پاکستان ہے مگر تمھارے دادا نہ مانے وہ ایک دم اپنا گھر اور کاروبار یوں چھوڑ کر جانے پر آمادہ نہ تھے۔

اتنا کہہ کر بی بی جان نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے زوہا کی جانب دیکھا اور آہستہ سے بولیں

پھر ایک رات وہ ہی ہوا جس کا خدشہ تھا مکتی باہنی کے غنڈوں نے ہمارے گھر پر بھی حملہ کر دیا۔ یہ غنڈے جو کہ تعداد میں بہت زیادہ تھے گھر کی بیرونی دیوار پھلانگ کر اندر آ گئے، ایسے میں گھر کے مردوں کے لیے سب سے اہم مرحلہ ہم عورتوں کو بحفاظت وہاں سے نکالنا تھا اور اس وقت جب گھر کے مرد ان غنڈوں سے مقابلہ کر رہے تھے میں نے دیکھا ایک ہٹا کٹا بلوائی تمھارے دادا کو گھیرے ہوئے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا تب میں نے بنا سوچے سمجھے اپنے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا اس بلوائی کے سر پر دے مارا جبکہ آغا صاحب ہاتھا پائی کے دوران اس کے منہ سے کپڑا بھی اتار چکے تھے اور ہم دونوں یہ دیکھ کر اپنی جگہ ساکت ہو گئے حملہ اور کوئی انجان شخص نہ تھا بلکہ راجندر تھا۔ وہ راجندر جس کا گھرانا پچھلے بیس برسوں سے ہمارے گودام پر ملازم تھا۔ راجندر جو ہمیشہ کہتا تھا

” میرے ہوتے ہوئے آپ لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا“

آج اس راجندر کی آنکھوں سے جھلکتی نفرت نے ایک پل میں ہی میرے رونگٹے کھڑے کر دیے جبکہ آغا صاحب تو اپنی جگہ سے حرکت کرنا بھول گئے، ایسے میں تمھارے بابا نے مجھے بازو سے پکڑ کر کھینچا، وہ چلا رہا تھا کہ میں گھر کی عورتوں کے ساتھ پچھواڑے والے راستہ سے باہر نکل جاؤں اور یہ ہی وہ وقت تھا جب راجندر نے باہر کی جانب بھاگتی فاطمہ کو پکڑ لیا۔ وہ اسے بالوں سے پکڑ کر کھینچ رہا تھا اور فاطمہ خود کو اس ظالم کی گرفت سے بچاتی ہوئی تڑپ تڑپ کر اسے چاچا پکار رہی تھی، اس شیطان کو منتیں، واسطہ دے رہی تھی جبکہ میں تمھاری چھوٹی پھوپھو کو بچاتی باہر کی سمت بھاگ رہی تھی، جب گولی کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی، میں نے پلٹ کر دیکھا خون میں لت پت میری پیاری بیٹی فاطمہ زمین پر پڑی تڑپ رہی تھی اور میں کچھ نہ کر سکتی تھی، یہاں تک کہ اس کے حلق میں پانی کے دو گھونٹ ڈالنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ بے شک ہم بے بس اور مجبور تھے لیکن شکر اللہ کا فاطمہ شہید ہو گئی۔ اللہ نے اس کی عزت بچالی مگر اس کا تڑپتا وجود آج بھی میری آنکھوں کے سامنے سے نہیں جاتا اس کی سسکیاں آج بھی مجھے اپنے کانوں میں سنائی دیتی ہیں ”

اتنا کہہ کر بی بی جان رونے لگیں جب زوہا نے انہیں خود سے لگا کر ان کے آنسو صاف کیے اس وقت اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے پھوپھی فاطمہ ان کے سامنے زمین پر پڑی تڑپ رہی ہوں، بی بی جان کے ساتھ وہ بھی رو رہی تھی۔ یہ ایک ایسا غم تھا جس کا اتنے سالوں بعد بھی کوئی مداوا نہ تھا۔ بی بی جان روتے ہوئے کہہ رہی تھیں

ہم نے کھیتوں میں سے بھاگ کر اپنی جان بچائی کیونکہ وہ لٹیرے ہمارے گھر کا مال و دولت جمع کرنے میں مصروف ہو چکے تھے ورنہ آج ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچتا۔ جب ہم اسٹیشن پہنچے تو وہاں ہم جیسے کئی لٹے پٹے گھرانے موجود تھے جن کے ساتھ پاکستان جانے والی ٹرین کے ذریعہ فوجی جوانوں کی حفاظت میں ہم سرحد کے اس پار آ گئے اور ہجرت کے اس سفر میں اپنی کل متاع لٹا کر بھی ہمارا دل مطمئن تھا کہ ہم آزاد ہیں، یہ وطن ہمارا ہے جہاں ہم اور ہماری عزتیں محفوظ ہیں، پھر بھی تاعمر ہماری زندگی سے دو دکھ نہ گئے ایک فاطمہ کی بے گورو کفن لاش اور دوسرا میاں صاحب کا اپنے ملازم راجندر پر اندھا اعتبار۔

بی بی جان نے ایک گہرا سانس لیا اور خاموش ہو گئیں

ہجرت کی وہ کہانی اپنے انجام کو پہنچی جس کا خاتمہ ہر سال بی بی جان کے ان ہی الفاظ پر ہوتا تھا اور پھوپھی فاطمہ کی شہادت کا دکھ اگلے کئی ماہ تک زوہا کے سینے میں تازہ رہتا۔ جانے کتنی فاطمہ تھیں جن کا خون اس وطن کی بنیادوں میں موجود ہے مگر ان کی روح آسودہ ہو گی کہ وطن کے لئے دی جانے والی ان کی ہر قربانی رائیگاں نہیں گئی مگر کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ کیا اس آزاد وطن میں بہن، بیٹی کی عزت محفوظ ہے؟ کیا یہاں ہم آزاد ہیں؟ سوچیں تاکہ ہمیں احساس ہو کہ اپنا سب کچھ لٹا کر بھی ہم اس منزل سے بہت دور ہیں جس کے حصول کی خواہش میں ہمارے بزرگوں نے اپنی جان، مال اور عزت کی قربانی دی تھی

Facebook Comments HS