جب ساون رت کی پون چلی
cerberus تین سروں والا ایک کتا ہے۔ یونانیوں کا خیال ہے کہ یہ کتا جہنم کا پہرے دار ہے۔
مجھے اتنا تو کافی عرصے سے معلوم تھا کہ Cerberus اگر حقیقت ہے تو اس کا ایک منہ ان لوگوں کو پکڑے گا جو ایک ڈھلتی عمر کی بے رنگ و بے نور، ”مونا لیزا“ نامی عورت کی تصویر کو آرٹ کا شاہکار سمجھتے ہیں۔ اپنے دوسرے منہ سے وہ جہنمی کتا ان صالحین کو بھنبھوڑے گا جن کا ایمان ہے کہ ”چنگیز خان“ اور ”ہلاکو خان“ خالصتاً پٹھان مسلمان تھے۔ جب کہ Cerberus کے تیسرے منہ کا مقصد مجھے تا دم مرگ نہ معلوم ہوتا اگر آج ایک پرانے فلسفی دوست سے ملاقات نہ ہوئی ہوتی۔
میں اپنے اس دوست سے سالوں سے ناراض تھا کیوں کہ اس کا جنت جہنم، سزا اور جزا پر ایمان ذرا متزلزل تھا۔
اس نے چند دن پہلے مجھے فون کیا اور بتانے لگا کہ اس کے جنت کے بارے میں خیالات ویسے کے ویسے ہی ہیں لیکن اسے اس سال اگست میں یہ معلوم ہو گیا ہے کہ جہنم حق ہے۔
اس نے مجھ سے درخواست کی کہ کیونکہ، وہ مکمل نہ صحیح، لیکن پچاس فی صد راسخ العقیدہ کہلوانے کے قابل ہو چکا ہے اس لیے برسوں کی ناراضگی ختم کی جائے اور اسے شرف بازیابی بخشا جائے۔ میں نے بھی سوچا کہ مذہب کی بنیاد پر عداوت اچھی عادت نہیں ہے لہذا اسے آدھا معاف کر دیا اور اسے چائے پر بلا لیا۔ میں نے اسے بتایا کہ چونکہ ابھی تم آدھے مسلمان ہو اس لیے آج تمہیں صرف چائے پلاؤں گا۔ جب تم مکمل مسلمان ہو جاؤ گے تو تب تمہیں باقی سب خدائی نعمتوں سے محظوظ ہونے کا موقع مہیا کروں گا۔
قصہ مختصر، اس نے اپنے ایمان کی روئیداد سنانے سے پہلے اپنے ”گرمی دانے“ دکھائے۔ اس کے بعد اس نے شعر سنایا
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
پھر بولا ”وہ شاعر جنہوں نے ساون اور برسات پر شاعری کی ہے ان کی سزا کے لیے جہنم کا ہونا ضروری ہے۔ جنہوں نے کہا، ’میرے لاکھوں کا ساون جائے‘ ، یا ’پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے‘ ، ’ساتھ بارش میں لیے پھرتے ہو اس کو انجم۔ تم نے اس شہر میں آگ لگائی ہے کوئی‘ ، ایسے کم بخت شاعروں کو ساون کی حبس کا خیال نہیں آیا؟
وہ مزید بولا، ”تم خود ہی بتاؤ جنہوں نے ایسے بد تہذیب موسم کو رومانوی موسم بنا دیا کیا وہ کسی رعایت کے مستحق ہیں؟
میرے جواب کا انتظار کیے بغیر اس نے اپنی بات جاری رکھی، ”اس برسات میں ہر سال ایک چوتھائی ملک ڈوب جاتا ہے اور شاعر صاحب کو دیکھو فرماتے ہیں، ’عجب پرلطف منظر دیکھتا رہتا ہوں بارش میں‘ ۔ میں قربان جاؤں۔
جن غریبوں کے مکانوں کی چھتیں گرنے سے بچ گئیں پانی ان کے مویشیوں اور کھیتوں کو بہا لے گیا، جو اس حبس میں گرمی دانوں سے بچ گیا اسے ہیضے نے آ لیا اور شاعر کہتا ہے، ’کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے بعد ”
ہاں مجھے کوئی برسات کے بعد بالکل یاد آتا ہے ”
میں نے پر مسرت لہجے میں پوچھا، ”کون؟“
اس نے بتایا، ”مجھے برسات کے بعد اپنا خالو یاد آتا ہے جو موسم کی حدت سے تنگ آ کر سڑک پر چہل قدمی کرنے نکلا اور اسی وقت ایک سانپ بھی اسی گرمی سے تنگ آ کر واک کرنے نکلا ہوا تھا۔“
میں نے حیرت سے استفسار کیا، ”پھر؟“
”پھر کیا، خالو شہید ہو گئے اور سانپ بھی مارا گیا“
میں نے افسوس کا اظہار کیا۔
فلسفی بولا، ”خود سوچو اس ساون میں سانپ، بچھو، کیڑے مکوڑے، بارش میں کینچوے، شام کو بد بو دار بھونڈیاں، بلب بر ناچتے پروانے۔ یہ پروانوں پر شاعری کرنے والے بھی جہنمی ہیں“
۔ اور ”بھونڈیوں“ کو زیر موضوع لانے والے شاعر؟ میں نے پوچھا
فلسفی نے جواب میں پتے کی بات کی، ”ٹوتھ پیسٹ کی ایجاد سے پہلے جس جس شاعر نے محبوب کے قصیدے لکھے ہیں وہ سب اسفل السافلین ہیں“ ۔
میں نے اٹھ کر فلسفی کا ماتھا چوم لیا اور ساتھ عرضی ڈالی کہ اب بس کر جاؤ، بہت ہو گئی۔ تم فرط جذبات میں مرحوم شاعروں کو بھی برا بھلا کہ گئے ہو جو اچھی بات نہیں ہے۔ ان کے گھروں میں ائر کنڈیشنرز ہوں گے وہ تمہاری طرح گاؤں کے بجائے شہروں میں رہتے ہوں گے انہیں برسات کا ویسا تجربہ نہیں ہو گا۔
پھر میں گنگنانے لگ گیا، ”لمس کی آگ میں جلتا ہوا ساون اور میں۔“
میرے گنگنانے پر اس کو غصہ آ گیا۔ وہ غصے سے غرایا!
اس کے غرانے کی دیر تھی میرے ذہن میں Cerberus کا تیسرا منہ آ گیا۔ میں اٹھ کر اس سے بغل گیر ہو گیا اور اسے بتایا کہ تمہارے آج کے بیان اور اس کے بعد غرانے سے مجھے اپنے ایک پرانے مسئلے کا حل مل گیا ہے۔ تیسرا منہ ساونی شاعروں کے لیے ہے۔
اب بولنے کی باری میری تھی لیکن فلسفی سخت پریشانی میں اچانک اٹھ کھڑا ہوا۔
”یار اس موسم میں تمہاری بھابھی کو چہرے پر سرخ پانی والے دانے نکل آتے ہیں، میں نے کریم گھر پہنچانی ہے۔“
اس نے جاتے جاتے شعر سنایا
ابر تو برسا بہت، پیاس نہ مٹ پائی مگر
کاش میں مر ہی گیا ہوتا کسی ساون میں
میرے دل سے بے اختیار نکلا، ”آمین“


