میرا باپ میرا ہیرو


آج میں آپ کو ایسے ہیرے کی بات بتانے لگا ہوں۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ بھی اپنے اپنے ہیرے کی مزید قدر کریں گے۔ اگر آپ اس ہیرے سے محروم ہیں تو اٹھائیے ہاتھ تو کیجیے دعا اس قیمتی ہیرے کے لیے جس نے اپنی ساری زندگی اپنے اولاد کے لیے در در کی ٹھوکریں کھائیں بلکہ دن رات ایک کر دی اور اپنی صحت، پیسہ، جوانی، آرام، اپنی اولاد کو سنوارنے کے لیے لٹا دیا۔

جو میں لکھ رہا ہوں اس پیدا کرنے والے کی قسم یہ تھوڑا ہے، کئی سالوں بعد گھر واپسی پر آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے، اس لیے کہ آج میں ایسے گریٹ انسان یعنی اپنے والد محترم کو گلے لگ کر ملوں گا۔ بس اسی وجہ سے آنسو نہیں رک رہے تھے میری پانچ سالہ بیٹی پری فاطمہ جو کہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے اور میں بھی اس کے بے غیر خود اداس ہو جاتا ہوں۔ جب میں رو رہا تھا، کچھ آنسو خوشی کے تھے اور کچھ غمی کے۔

تو وہ پوچھنے لگی پاپا آپ رو رہے ہیں میں نے بڑی کوشش کی آنسو روکوں لیکن نہیں رکے۔ کہنے لگی کیوں رو رہے ہیں تو میں نے کہا میں اپنے پاپا کو مس کر رہا ہوں۔ کہتی دادا ابو آپ کے پاپا ہیں تو میں نے کہا جی ہاں۔ پھر میں نے پوچھا آپ اپنے پاپا سے کتنا پیار کرتی ہو؟ تو کہتی کہ میں آپ کے بے غیر نہیں رہ سکتی۔ بیٹیوں کی رحمت سے اللہ آپ کے گھر میں بہت بڑی خوشحالی لاتا ہے۔ اس پر پھر کبھی لکھوں گا، ابھی باپ پر ہی بات کرتا ہوں۔

میرا والد کیا ہے؟ میرا والد کون ہے؟ آپ غور اور دل سے پڑھیے گا اور محسوس ضرور کیجیے۔

میرے والد نے اپنی ستائیس سالہ گورنمنٹ نوکری ایک سائیکل پر کی، ایک سائیکل 27 سال چلائی ہی نہیں بلکہ میں نے بھی کئی سال وہی چلائی۔ بتانے کا مقصد۔ بہت غریبی بھی تھی، لیکن مجھے اس چیز کا اندازہ تب ہوا جب میں باپ بنا۔ کہ اصل میں وہ غریبی نہیں کفایت شعاری محنت، حلال روزی تھی۔ میرے والد صاحب نے اپنی پوری زندگی کسی سے کبھی ایک روپیہ ادھار نہیں لیا، اور نہ ہی کبھی کسی کا پیسہ کھایا۔ میرے ہیرو نے کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا، میرے ہیرو نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، میرے ہیرو نے کبھی کسی سے زیادتی نہیں کی، میرے ہیرو نے کبھی لڑائی نہیں کی، میرے ہیرو نے کبھی کسی کا حق نہیں مارا۔

میرے ہیرو نے کبھی انصاف کرنے میں ڈنڈی نہیں ماری، کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، حق کی بات کی اگر کسی کو اچھی نہیں لگی تو اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ میرے ہیرو نے اپنی تھوڑی سے تنخواہ میں ہمیں پڑھایا ہی نہیں بلکہ ایسی تربیت کی جس کا پھل اللہ ہمیں دے رہا ہے۔ اللہ تعالی کا لاکھ شکر ہے کہ اس نے دنیا کئی ہر نعمت اور رحمت سے نوازا ہے۔

میرے ہیرو نے سیگرٹ، شراب سے سخت نفرت کی۔ میرے ہیرو سیگرٹ پینے پلانے والوں کی محفل میں نہیں جاتے تھے۔ میرے ہیرو کبھی بھی بری محفل کا حصہ نہی بنے۔ غلط کام کا ساتھ نہیں دیا۔ میرے ہیرو نے کاشت کاری بھی کی لیکن کاروبار میں لین دین بھی کیے لیکن ایک روپے کا بھی خورد برد نہ کیا اور نہ کرتے۔ حساب کتاب میں ڈنڈی کیا کبھی کمپرومائیز نہیں کیا۔ میرٹ پر ڈٹ کر زندگی گزارنے والے میرا ڈیڈی ہیں۔ گھر میں اگر پکانے کے لیے تھوڑا بھی ہوتا تب بھی اللہ کا شکر کیا، کبھی کسی سے نہیں مانگا۔

اپنی عزت نفس کا سودا نہیں کیا۔ جو شخص اصول پسندی کا سودا کرتا اس سے دوری اختیار کرنا بہتر سمجھا۔ اس کی ایک سچی مثال دیتا ہوں، آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے کہ کس قدر میرے ہیرو دوری اختیار کرتے میرے تایا جان نے میرے ہیرو سے ایک بات کر کے وعدہ خلافی کر دی جو کہ میرے ہیرو نے تقریباً 10 سال تک ان سے تعلقات ختم کر لیے کہ انھوں نے میرٹ، خودداری، اور اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ دس سالوں میں چند سال تایا جان نے مجھے کئی بار کہا کہ تیرا ڈیڈی بہت سخت ہے ایک چھوٹی سے غلطی کی وجہ سے سالوں سے ناراض ہے۔

ہم نے اپنے ہیرو کو آہستہ آہستہ منایا کہ ابو جی وہ آپ کے خالہ زاد بھائی ہیں اور اب وہ اپنے غلطی پر شرمندہ ہیں چلو آپ بھی نرمی اختیار کریں تاکہ پیار آگے بڑھے، میرے ہیرو نے قدم بڑھایا اور ہماری کوششیں رنگ لے آہیں تایا جی بھی ایک شریف اور سادہ انسان تھے سادگی سے زندگی گزاری، بس کچھ سالوں بعد تایا جی اللہ کو پیارے ہو گئے اللہ ان کی قبر پر رحمتوں کا نزول فرمائے امین

باتیں تھوڑی جذباتی ہیں لیکن حقیقت پر مبنی ہے اس پورے مضمون میں ایک ایک لفظ میرے دل کی آواز ہے آئیے اور بتاتا ہوں میرے ہیرو نے فضول خرچی کبھی نہیں کی۔ میرے ہیرو نے خوشامد کبھی نہیں کی۔ میرے ہیرو نے کسی کا حق بھی نہی مارا۔ میرے ہیرو نے اپنی طالب علمی کی زندگی میں استعمال کی گئی بہت ساری اشیاء مجھے طالب علمی کے وقت دیں، جس کو میں نے استعمال کیا۔ بلکہ کئی بار سکول لے کر گئے تو ہم خود بھی ہنستے تھے ڈیڈی سکول میں بچے مذاق کریں گے۔

تو میرے ہیرو نے کہا کہ یہ جو میں آپ کو دے رہا ہوں ایسی پائیدار چیز کسی بچے کے پاس نہیں ہو گی۔ وہ مجھے آج سمجھ آئی کہ واقع وہ کسی کے پاس نہی ہوتا تھا۔ کیونکہ میرے والد نے اپنی تعلیم کے دوران استعمال کی ہوئی چیزیں اپنے ایک بکسے میں رکھتے رہے۔ جن میں سب سے پہلے نمبر پر تھی ”جیومیٹری بکس“ جو کہ لوہے کا تھا، ان پر زنگ بلکہ نمبرز پڑھنے کے لیے آپ کو پوری نظر لگا کر دیکھنا پڑھتا تھا۔ جیومیٹری بکس رکھنا اور ہمیں دینا اس بات کی دلیل تھی کہ میرے والد کفایت شعاری سے گزر بسر کرنے کو ترجیح دیتے تھے اور ہیں۔ اور آج بھی انھی اصولوں پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، اب باقی مضمون میں اپنے ہیرو کو ملنے کے بعد آپ کی گوش گزار کرتا ہوں، کہ ان کے گلے لگ کر کیا محسوس کیا۔ اور ان چند سالوں میں میں نے کیا کھویا اور کیا پایا۔

جوں جوں گھر نزدیک آ رہا تھا دل میں وہ لمحات یاد کر کر کے رو رہا تھا کہ میں کتنا بدنصیب ہوں کہ اپنے ہیرے کو اپنے سے دور رکھا ہوا ہے اور شاید ہیرے کی دیکھ بھال کرنے میں بہت ناکام ہوں۔ سوچ سوچ کر میرے دماغ میں چھریاں اور ضمیر رو رہا تھا کہ تم کس دنیا میں کھو چکے ہو۔ اپنا قیمتی ہیرا چھوڑ کر دنیا کی دولت کے پیچھے لگ گئے ہو، جب کہ والد ہی وہ ہیرا ہے جس سے آپ مالا مال لگتے ہیں، بلکہ اسی ہیرے سے گھر میں روشنی ہوتی ہے۔

آپ کو لائٹس کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسی ہیرے کی وجہ سے گھر میں سایہ ہوتا ہے آپ کو درخت لگانے کی ضرورت نہیں آتی۔ اسی ہیرے کی گھر میں موجودگی سے گھر کی دیواریں مضبوط رہتی ہیں۔ میرا ہیرو وہ ہے جس نے کبھی بھی مجھ سے ایک روپیہ نہیں مانگا کہ ہمیں خرچہ دو، کرایہ دو، کیونکہ میرے والد صاحب اپنا کمایا ہوا پیسہ اپنا سمجھتے ہیں جب بھی میرے ہیرو نے مجھے فون کیا، وجہ اپنے بیٹے سے پیار اور روشن مستقبل سمیت سوچتے اور پوچھتے رہتے۔

جس سے نگاہیں تر ہو جاتیں ہیں۔ دلی سکون ملتا ہے۔ دماغ سے بوجھ اتر جاتا اور میرے ہیرو نے مجھے ہمیشہ حوصلہ دیا بلکہ آج میں جو بھی ہوں اپنے ہیرے کی بدولت ہوں جب تک یہ ہیرا میرے پاس ہے اس کے سامنے دنیا کی دولت کم نہیں ”صفر“ لگتی ہے۔ میرے ہیرو کے اتنے نایاب عمل ہیں کہ مجھے آج فخر ہے کہ مجھے ایسے باپ نے فوجیوں کی طرح ٹریننگ ہی نہیں بلکہ ان کو دیکھ دیکھ کر چند چیزیں میں نے بھی اپنائی ہیں جس سے میں ذہنی طور پر مطمئن ہوں اور فخر سے چلتا ہوں اور سکون کی نیند سوتا ہوں۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے ایسے باپ کی شفقت سے نوازا جس کی ساری زندگی خدمت کی جائے کم ہے۔ اور میں یوکے ہونے کی وجہ سے ہیرے کی قدر میں کوتاہی کرنے کا مجرم ہوں، اللہ سے دعا ہے کہ میرے باپ کو صحت مند زندگی اور ان کا سایہ ہم پر قائم رکھے۔ امین

یہ سب تمھارا کرم ہے آقا
کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

اور ہاں ایک بات میں یوکے اگر ہوں تو ان کی دعاؤں سے ہوں۔ میں لندن ایسے پہنچا جیسے چیل آسمانوں پر اڑتی ہے جس حالات میں ہم تھے ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم بھی سفر کریں گے اب میری آدھی فیملی روز گار کے سلسلے میں برطانیہ مقیم ہے، یہ سب میرے والد کی دعاؤں بلکہ ان کی محنتوں اور تربیت کا پھل ہے۔ جو میں لطف اندوز ہو رہا ہوں۔

رات دس بجے کے بعد میں گھر پہنچا تو میرے والد محترم گاڑی کی آواز سن کر اٹھ بیٹھے۔ کیا مناظر تھے میں نے بھی باہر دروازے سے اندر دیکھا تو میرے پیارے والد کا انتظار ختم ہوا اور پھر میں گلے لگ کر خوب رویا اور جو سکون دیکھ کر مجھے ملا میں اس کو کسی پیمانے میں تول نہیں سکتا اور نہ ہی شیئر کرنے کی ہمت ہو رہی ہے دعا ہے اس پروردگار سے کہ وہ اپنے حبیب کے صدقے تندرستی عطا فرمائے امین اور جن کے والدین اس دنیا سے چلے گئے ہیں ان کی بخشش فرما امین اور جن کے حیات ہیں انھیں اپنے ہیرے کو گھر میں سجا نے کی ہمت دے اور پھر دیکھو دنیا کی مصنوعی روشنی کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 

Facebook Comments HS