صحافی مخلوط حکومت کے شکنجے میں!


چلو یہ بات بھی کوئی حیرت والی نہیں کہ وطن عزیز میں ایک بار پھر صحافت اور صحافی مخلوط حکومت کے شکنجے میں ہیں۔ اس سے پہلے بھی اس طرح کے جابر لوگ آئے، چلے گئے۔ جن کا تاریخ آج بھی پیچھا کرتی آ رہی ہے۔ یہ لوگ بھی چلے جائیں گئے۔ اور صحافیوں پر یہ مشکل وقت بھی آخر گزر جائے گا۔ لیکن تاریخ ان کرداروں کا بھی ہمیشہ پیچھا کرے گی۔

افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ جو لوگ منافقت کا لبادہ اوڑھ کے آزادی اظہار رائے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ کچھ لوگ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو آزادی اظہار رائے اور صحافیوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ لیکن جب یہی لوگ برسراقتدار پر براجمان ہوتے ہیں تو اپنے پرانی کانفرنسوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے انتقام پر اتر آتے ہیں۔

مجھے یاد ہے پریس گیلری میں بیٹھا تھا جب قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی، تو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان میں اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ ہم انتقام کی سیاست نہیں کرے گئے، بلکہ ملک کی معیشت کو مضبوط کریں گے۔ عوام کو ریلیف فراہم کر کے عمران خان کے دیے ہوئے زخموں پر مرہم رکھیں گے۔ عوام کے زخموں پر مرہم اور معیشت کو ٹھیک کرنے کی بجائے، مہنگائی کر کے عام آدمی کی کمر توڑنے کے ساتھ اس مخلوط حکومت نے ان چار مہینوں میں جو کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ڈالر اس وقت آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ پیسے کی قدر روز بروز گرتی ہی جا رہی ہے۔ گھریلو استعمال کی ہر چیز کہاں سے کہاں نکل گئی، لیکن واہ مجال ہے کسی کے سر پر جوں تک رینگی ہو۔ اس رجیم چینج آپریشن کی وجہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔

صحافی اور صحافت کی تعریف تو درحقیقت یہی ہے کہ ہمیشہ حق، سچ کی بات کرنا اور ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا ہے۔ حکمرانوں کا کام ہے کہ اپنی رعایا کی فلاح کے لئے کام کریں۔ تاکہ ضرورت کی بنیادی چیزیں غریب عوام کی دسترس میں ہوں۔ اور صحافی کا کام ہے کہ حکومت کی تمام تر خامیوں کی نشاندہی کر کے انھیں عوام کے سامنے ہائی لائٹ کریں۔ تاکہ عوام اگلی بار اپنے لیے بہتر حکمرانوں کا انتخاب کرسکے۔ لیکن پاکستان میں اس کے برعکس ہے جو صحافی ایسے کرتے ہیں ان کو غدار سمجھا جانے لگتا ہے۔

لیکن آج کل وطن عزیز میں اس شعبے سے بھی بڑی نا انصافی برتی جا رہی ہے۔ بیوروکریسی کی طرح سیاسی جماعتوں کے صحافی بھی اپنے اپنے بانٹے ہوئے ہیں۔ تقریباً ہر صحافی نے اپنے مفاد کی خاطر کسی نہ کسی سیاسی جماعت کا ٹھپا اپنے سینہ پر سجا رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے صحافت پر بھی بہت سارے دھبوں کے نشان ہیں۔

لیکن کچھ صحافی آج بھی اس سیاسی بے یقینی، انتقامی کارروائیوں اور ان سخت حالات کے باوجود بھی ظلم اور بربریت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ ارشد شریف، خاور گھمن، صابر شاکر، ارشاد بھٹی، ایاز امیر، عمران ریاض، افضل بٹ اور صدیق جان ان صحافیوں کی فہرست میں شامل ہیں جو اس وقت ریاست اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ تمہید اس لیے باندھی کہ گزشتہ دنوں اے آر وائی نیوز پر عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کا بیپر لیا گیا جس میں خاور گھمن، ارشد شریف بھی موجود تھے۔ جس میں شہباز گل نے ایک ادارے کی ریڈ لائن کراس کی۔ اس ایک فرد کی رائے کو بنیاد بناتے ہوئے اے آر وائی کو پیمرا نے کیبل نیٹ ورک پر بند کر دیا۔ دوسری جانب شہباز گل کو بنی گالہ جاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ ہیڈ آف نیوز عماد یوسف خاور گھمن، ارشد شریف پر ایف آئی آر درج کروائی گئی۔ ڈیفینس کراچی میں عماد یوسف کو رات کے آخری پہر چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

ارشد شریف اور صابر شاکر کو جان بچانے کے لئے ملک چھوڑنا پڑا۔ خاور گھمن بھی حفاظتی ضمانت پر ہیں۔ اس سے پہلے صحافی ایاز امیر کو لاہور میں جس بے دردی کا نشانہ بنایا گیا اور عمران ریاض اور ان کی فیملی کے ساتھ بھی جو کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ جب سے ملک میں رجیم چینج آپریشن ہوا اور اس کے بعد عمران خان کی جو مقبولیت دیکھنے کو آئی ہے سب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ کی قیادت میں تمام صحافتی تنظیموں کی طرف سے اے آر وائی نیوز کے ورکرز کے لئے آفس کے باہر اظہار یکجہتی کیمپ لگایا گیا۔ جس میں افضل بٹ نے تمام مقتدر حلقوں کو واضح پیغام دیا کہ ہم ہر حال، ہر موسم میں میڈیا ورکر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان اس کا متحمل نہیں کہ صحافی آزادی اظہار رائے اور اپنے حقوق کے لئے پارلیمنٹ کے باہر بیٹھے ہوں۔ لیکن اسی رات انوکھا کام ہوا کہ وزارت داخلہ نے اے آر وائی نیوز جس سے چار ہزار خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے، کا این او سی منسوخ کر دیا۔ لیکن سندھ ہائی کورٹ نے اس پر ایکشن لیتے اور اے آر وائی نیوز کی نشریات کو بحال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو سترہ اگست کو جواب دینے کا حکم دے رکھا ہے۔

میڈیا ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ ستون ریاست کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا جسم کے لئے سانس۔ اس لیے ریاست کے اس ستون کی حفاظت کے لئے صحافیوں کو یک جان ہوکے اس فاشزم حکومت کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔ تاکہ آزادی اظہار رائے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بچایا جا سکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments