باجے کی پاں پاں اور اخلاقی اقدار کا جنازہ

کل رات ہم تا دیر اس کھڑکی میں کھڑے رہے جو سمندر کی جانب کھلتی ہے۔ سمندر کی لہروں میں مد و جزر کے ساتھ ساتھ دور دور تک سر ہی سر تھے، سمندری طوفان کی وارننگ کے باوجود سارا شہر ہی سمندر پہ امڈ آیا تھا۔ شور ہی شور تھا پاں پاں کا شور۔ سائیلنسر کے تکلف سے بے نیاز موٹر سائیکلوں کا شور۔ اس بے ہنگم شور کی بے سری بے تالی اور کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی آوازیں دل و دماغ اڑائے دے رہی تھیں۔ سر درد سے پھٹا جا رہا تھا جی تو یہی چاہتا تھا کہ کسی پتھر پہ سر دے ماریں۔
اگر اس سے مسئلہ ٔ حل ہونے کی امید ہوتی تو شاید یہ بھی کر گزرتے۔ تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود اس صور اسرافیل سے دماغ کی چولیں ہل کر رہ گئیں۔ سوچ ذرا دیر کو ہمت پکڑ کر مجتمع ہوتی اور پل کی چوتھائی میں منتشر ہو جاتی۔ رات تین چار بجے تک یہی عالم رہا۔ کانٹے جب دل میں جا چبھیں تو ایسے میں نیند کس کم بخت کو آتی ہے۔
جب شور ذرا سا دھیما پڑا تو ایک جوار بھاٹا دل کی گہرائیوں میں اٹھنا شروع ہوا جو بڑھتے بڑھتے طوفان میں بدل گیا اور اس میں سوچ کی کشتی ڈولنا شروع ہو گئی۔ ہم نے تو جب سے آنکھ کھولی ہے اس کشتی کو ڈولتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ جس کشتی کا کھیون ہار ہی نہ ہو اور کروڑوں مسافر ہوں اس کے مقدر میں ڈولنا ہی لکھا ہوتا ہے۔ یہ کشتی گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہو رہی ہے۔ لوگ اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے وقت وعدہ وعید تو کرتے ہیں مگر اس کی مرمت نہیں کرتے۔
ہم جیسے بے یار و مددگار مسافر جو امید کی کھڑکیاں کھولے رکھتے ہیں وہ ہر کسی پر اندھا دھند اعتماد کرتے ہوئے اپنی تقدیر کے تالے کی چابیاں انہیں سونپ کر معصوم کبوتر کی مانند آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب کشتی میں ایک اور سوراخ ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کھارے پانی کو نکالتے نکالتے ہاتھ شل ہو چکے ہیں مگر ایک سوراخ بھرتا ہے تو دوسرا ہو جاتا ہے۔ کیا یہ کشتی یوں ہی ڈولتی رہے گی؟ خاکم بدہن اگر۔
جملہ نامکمل چھوڑ دیا ہے کہ اسے مکمل کرنے کا حوصلہ ہم میں نہیں ہے
پروفیسر ذہن اس وقت ایسے کئی سوالوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جو سوال نہیں اٹھاتا وہ یا تو منافق ہے یا احمق۔ ذہن کی مٹی کی تاثیر ہی ایسی ہے کہ اس میں سوال کا خود رو پودا جلد یا بدیر ضرور اگتا ہے۔ یہ بیج جب جڑ پکڑ لیتا ہے تو ہر سمت پھیلتا ہی چلا جاتا ہے۔ اسے بڑھنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ ایک جگہ سے کاٹ بھی دو تو ہوا اس کے بیج کسی دوسری جگہ پھیلا دیتی ہے اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اقوام عالم کی تاریخ بتاتی ہے کہ غلامی کی زنجیریں بھی اس کا راستہ نہیں روک پاتیں۔ غلام ذہنوں میں بھی سوال اگتے ہیں۔ جب سوالوں کے پودے تناور درخت بن جاتے ہیں تب اپنی زنجیریں انہیں کھلنے لگتی ہیں۔ یہ ہی وہ نکتہ آغاز ہوتا ہے جہاں سے آزادی کی جدوجہد شروع ہوتی ہے۔
سوچ کا در وا ہوا تو دماغ کے پردہ سیمیں پر بچپن کی یادوں کی فلم چلنا شروع ہو گئی۔ اس فلم کے مناظر دیکھ کر اداسیوں کے لامتناہی قافلے آتے ہی چلے گئے۔ زندگی کی گتھیاں سلجھاتے برس ہا برس ہو گئے مگر یہ نا مراد گتھی سلجھ کر ہی نہ دی کہ ہم سے غلطی کہاں پر ہوئی کہ یہ بچہ ابھی تک گھٹنیوں کے بل چل رہا ہے۔ اہل زبان اسے چلنا نہیں گھسٹنا کہتے ہیں۔ یہ کب اپنے پیروں پہ کھڑا ہو گا؟ کب چلے گا؟ کب تک دوسروں پہ تکیہ کرتا رہے گا۔
ہم تو سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ دیکھو ان سہاروں پہ تکیہ نہ کرو یہ جب آنکھ چرانے پہ آتے ہیں تو قدموں کے نیچے زمین بھی نہیں رہتی مگر دیوانے کی بڑ کون سنتا ہے۔ اور ابھی تو ہم ہیں بہت کچھ یاد دلانے کو جب ہم بھی نہ رہیں گے تو حکایت غم جاناں کون سنائے گا؟ نظروں کے سامنے پھیلے افق پہ دور دور تک اندھیرا اور اجالے کی رمق تک نہ ہو تو ان اداسیوں کی راہ کیسے روکیں؟
یہ درست ہے کہ کسی کے ہونے نہ ہونے سے کار جہاں رکتا نہیں کارخانہ قدرت میں ایک کل پرزہ گھس جائے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ ہم نہ ہوں گے تو بہت سے دوسرے ہوں گے مگر ان کے لہجے میں وہ سوز کہاں سے آئے گا، وہ درد مندی کہاں سے آئے گی جو ہمیں وراثت میں ملی ہے؟ ہم وہ آخری نسل ہیں جس نے ان گودوں میں پرورش پائی ہے جو گرتے پڑتے آگ کا دریا پار کر کے آئے تھے۔ اس آگ کی تپش سے ان کے جسم برسوں جلتے رہے۔ جنہوں نے خون میں لتھڑے ہوئے شب و روز دیکھے تھے۔
راستے کی صعوبتیں اور بلوائیوں کا ڈر، بھوک، پیاس بچھڑنے والوں کا غم اور اپنے ناتواں ہاتھوں سے انجانی مٹی میں اپنے پیاروں کو گاڑنے کا دکھ بھلائے نہ بھولتا تھا۔ اپنے بھرے پرے گھروں کو یاد کرتے جن کی آنکھیں بیٹھے بیٹھے نم ہو جایا کرتیں تھیں۔ آنسو تھے کہ بہتے ہی چلے جاتے تھے۔ جن کا بچپن خوف کھا گیا لڑکپن اور جوانی نئے گھر کی تعمیر میں اینٹیں ڈھوتے گزری۔ کسمپرسی کا یہ حال تھا کہ ایک اینٹ لگاتے تھے تو دوسری سرک جاتی تھی۔ اور بڑھاپا نیرنگی زمانہ کی بے حسی پہ ماتم کرتے اور جلتے کڑھتے گزار کر پیوند خاک ہوئے۔
شہرزاد نے بچپن میں کئی بار اپنی دادی کی آنکھوں سے ٹپکنے والے موتیوں کو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے چنا ہے۔ وہ اور تو کچھ نہیں کر سکتی تھی بس گھنٹوں ان کے سینے سے چپکی ان کی ڈھارس بندھاتی رہتی تھی۔ وہ تو داستان شب ہجراں سنانے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہے کہ اسے یہ کہانیاں ازبر ہیں مگر جان عزیز المیہ یہ ہے کہ یہ متروک شدہ کہانیاں اب کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں پڑھتا تو وہ مایوسی کے عالم میں کھڑکی میں جا کھڑی ہوتی ہے۔
یہ کھڑکی بول نہیں سکتی پر اس کا دکھ درد سمجھتی ہے۔ وہ اسے بتاتی ہے کہ خوں چکاں داستانوں سے مزین کتابوں سے لائبریریاں بھری پڑی ہیں جن پر گرد کی ایک دبیز تہہ جم چکی ہے مگر جھاڑ پونچھ کرنے والا کوئی نہیں۔ شیلف سے جھانکتی کتابوں کی آنکھیں پڑھنے والوں کی راہ تکتے تکتے پتھرا جاتی ہیں مگر کوئی انہیں چھوتا تک نہیں۔ خدا جانے کتنی کتابوں کو دیمک چاٹ گئی ہو گی۔ تاریک راہوں میں مارے جانے والوں کے اس انمول ورثے کو محفوظ کرنے والا کوئی نہیں۔ وہ تو ہمارے اپنے تھے غیر ملکی حملہ آور نہیں تھے کہ جنہیں یک جنبش قلم سے رد کر دیا جائے۔
یادداشت کا یہ عالم ہے کہ ماضی بعید تو دور کی بات ہے ہمیں تو ماضی قریب کے واقعات بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ جب سود و زیاں کا احساس مٹ جائے تو ناراض بھائی کو منانے کی کوشش بھی کوئی نہیں کرتا۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، کل کی بات ہے، آپ بیتی ہے یادیں کلیجہ چھلنی کرتیں ہیں مگر کیا کیجیئے کہ وہی کچھ آج تک ہو رہا ہے کیوں کہ ہم اپنی عینک کا عدسہ بدلنے کو تیار نہیں ہیں محض اس لیے کہ وہ ہمیں ہرا ہرا دکھاتی ہے۔ اس سے زیادہ ہم کہہ نہیں سکتے اور نہ آپ سن پائیں گے۔ گھر کے چراغوں سے گھر کو آگ لگ جائے تو دکھ دو چند ہو جاتا ہے۔
گزرے کل گھر بیٹھے بیٹھے جی اوب گیا تو سوچا کہ باہر نکلا جائے مگر گلی کے نکڑ سے توبہ تلا کرتے واپسی کی راہ لی سڑک پہ اس قدر رش تھا کہ خدا کی پناہ۔ یہ ہی سوچتے رہے کہ اس ہجوم مہ کشاں کو کنٹرول کون کرے گا؟ سگنل کی پابندی کا رواج تو یوں بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جنہیں اپنی جان کی پرواہ نہ ہو ان جلتی بجھتی لال اور ہری بتیوں کو کہاں خاطر میں لاتے ہیں؟ اور بے چاری ٹریفک پولیس اس کا تو حال ہی مت پوچھئے ان حالت زار پہ اب ترس آنے لگا ہے ہزاروں کے مجمع میں اکا دکا پولیس والے کی کون سنتا ہے؟ وہ غریب تو اب عام حالات میں بھی اپنی وردی کی لاج رکھنے کو سڑک کے ایک کونے میں دبکا کھڑا چشم حیراں سے تماش بینی میں مصروف رہتا ہے۔
پروفیسر ہم ملکوں ملکوں گھومے ہیں۔ ان کے بھی قومی دن و تہوار ہوتے ہیں مگر جشن کے نام پہ ہونے والا یہ وحشت ناک منظر اپنی نوعیت میں یکتا ہے۔ جشن کے لیے ہر علاقے میں جگہ مختص کی جاتی ہے اس لیے زیادہ تر لوگ اپنے اپنے علاقوں تک محدود رہتے ہیں۔ چند شوقین مزاج ڈاؤن ٹاؤن کا رخ کرتے ہیں جہاں رات نسبتاً دیر تک جوان رہتی ہے مگر وہاں بھی شور شرابا نہیں ہوتا۔ فائر کریکرز اور آتش بازی کے خوبصورت مظاہرے سے آسمان دمکنے لگتا ہے اور تیس چالیس منٹ میں کھیل تمام۔ کہیں ٹریفک نہیں رکتی اور نہ ہلڑ بازی ہوتی ہے۔ رات ایک بجے تک ہر کوئی اپنے گھر کو روانہ ہو جاتا ہے اور چین کی نیند سوتا ہے گو اگلے دن چھٹی ہوتی ہے مگر زندگی کے دیگر معاملات تو نمٹانے پڑتے ہیں۔
کیا زندہ قومیں ایسی ہوتی ہیں؟ ہمارا مشاہدہ تو کچھ اور کہتا ہے آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا سادگی سے آزادی کو نہیں منایا جاسکتا؟ خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ ایک جانب بلوچستان ڈوبا پڑا ہے وہاں سے موصول ہونے والی خبریں اور تصاویر قامت صغرٰی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ چند دن پہلے تک دنیا بھر میں ملک کے دیوالیہ ہونے کی خبریں گردش کر رہی تھیں اور یہ خطرہ ابھی پوری طرح ٹلا نہیں ہے۔ دیوالیہ ہونے کا مفہوم کیا ہے کیا ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں ہے یا سمجھنا ہی نہیں چاہتے؟ در در سے بھیک مانگی گئی تب کہیں بیل آؤٹ پیسج ملا ہے۔ اتنی ہزیمت اٹھانے کے بعد جشن کس بات کا؟ پچھتر سال میں دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم؟ جانے دیجئے اس بات کو۔ اس اخلاقی زبوں حالی پہ خدا ہی رحم کرے و کرے اعمال تو اس قابل نہیں۔
کیا ہم من حیث القوم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ باجے کی پاں پاں کو اپنا نجات دھندا سمجھ بیٹھیں۔ اخلاقی اقدار کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے کی مصداق یو ٹیوب پہ جشن آزادی کے نام پہ وہ کچھ اپ لوڈ ہوا ہے جسے دیکھ کر ہر ذی شعور کی نظریں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ ہم پردیسی تو چند دن میں چلے جائیں گے پر وہاں کسی کو کیسے بتائیں گے کہ ہم اچھے لوگ ہیں جب کہ انہوں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھا ہو گا۔

