قصہ ایک سادھو کا جو اپنے سرکاری دفتر سے صرف ایک ڈائری اٹھا کر روانہ ہو گیا تھا


ہمارے معاشرے میں ایسے بندے کو بھگوان کا اوتار سمجھا جاتا ہے جو دماغی طور پر اپنے ہوش و حواس میں نہ رہے، اوٹ پٹانگ حرکتیں کرے یا اپنے پورے کپڑے اتار کر گلیوں میں گھومتا پھرے یا خود کو عقل کل سمجھنے کی علت کا شکار ہو یا ہر جگہ خود کو مہان ثابت کرنے کے لیے قصہ گوئی کرتا پھرے یا ایک ہی طرح کی باتوں کو بار بار دہرانے کی عادت کا شکار ہو جائے مہذب معاشروں میں تو اس قسم کے بندے کو سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جایا جاتا ہے تاکہ اس کی بیماری کا سنجیدگی سے علاج ہو سکے، چونکہ ذہنی بیماریاں بہت کمپلیکس ہوتی ہیں اور ایسے بندے کو سخت انڈرابزرویشن میں رکھا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ایسے بندے کو روحانی مسیحا سمجھا جاتا ہے یا حکومت سونپ دی جاتی ہے۔

بلکہ مثل مشہور ہے کہ ”جو قمیض اتار دے وہ چھوٹا ولی اور جو شلوار بھی اتار دے اسے پہنچی ہوئی سرکار کہا جاتا ہے“ حتی کہ ایسے بندوں کے سیلف ڈیکلیئرڈ خلیفہ بھی بن جاتے ہیں جو درجنوں کے حساب سے ہوتے ہیں، جن کا کام ایسے بندوں کے متعلق ”افواہیں“ پھیلانا ہوتا ہے کہ یہ سائیں یا ملنگ بندہ ہے اور دولت شہرت سے بالکل بے نیاز رہتا ہے تاکہ لوگ بے دھڑک نذرانے وغیرہ دینا شروع کر دیں اور خلفاء کی روزی روٹی چل نکلے۔ کچھ سادھو تو وکھری ٹائپ کے ہوتے ہیں جو خود دولت کو نہیں چھوتے بلکہ اپنی جیبیں یا بینک بیلنس بھرنے کے لئے ان ڈائریکٹ میتھڈ کا استعمال کرتے ہیں۔

کھلے ڈلے لفظوں میں کہیں تو ان کی ایک نجی روحانی گینگ ہوتی ہے جو نجس دولت کو سادھو کے پاک صاف ہاتھ سے دور رکھتے ہیں اور مخفی طور پر مطلوبہ جگہ تک پہنچانے کا بندوبست کر دیتے ہیں۔ لیکن یہاں تو خلیفے یا نائبین بھی وکھری ٹائپ کے نکلتے جن کی روحانیت وچلے کا اثر پانچ قیراط کی ہیرے والی انگوٹھی انگلی میں پہن لینے کے بعد شروع ہوتا ہے مگر روحانیت ایسا پراسرار ساز ہے جسے ہر کوئی نہیں بجا سکتا اور اس کے سروں کو ڈی کوڈ کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔

یہ المیے ایسے معاشروں کی باقیات ہوتے ہیں جو ہر وقت مسیحا کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس کیفیت کو ”مسایا کمپلیکس“ کہا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے کا چلن ہی کچھ ایسا ہے جو ایک نارمل انسان کو یا تو فرشتہ کے روپ میں دیکھتا ہے یا پھر شیطان کے روپ میں، بیچ کا کوئی راستہ ہی نہیں ہوتا۔ اسی معاشرتی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ”خداوندان سسٹم“ کوئی نہ کوئی ہیرو یا مسیحا تراشتے رہتے ہیں تاکہ عوام انہی چکروں میں پڑے رہیں اور ایلیٹ کلاس کا کھابہ سسٹم یا خفیہ بندوبست چلتا رہے۔

وارثان نظام کی نرسری کے گملوں میں مختلف طرح کی شخصیات کی آبیاری کی جاتی ہے۔ مخصوص ڈیزائن و پیٹرن کی برین فیڈنگ یا ٹریننگ کے بعد مسیحا کو لانچ کیا جاتا ہے۔ سسٹم کے فریم میں فٹ کرنے کے لیے گھوسٹ دانشوروں اور میڈیا اینکرز کی خدمات کرائے پر حاصل کر لی جاتی ہیں اور زیادہ شوخے قسم کے دانشور یا اینکرز کو اوقات میں رہنے کی تلقین کے ساتھ ساتھ کچھ عرصہ تک حقائق سے نظریں چرا کر مثبت رپورٹنگ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

مخصوص بندوبست کے تحت تراشے یا گھڑے گئے نجات دہندہ کی شہرت کو اوج کمال تک پہنچانے کے لیے میڈیائی بہروپیوں اور دانشوروں سے مسیحا کی شان میں قصیدے لکھنے اور اینکرز کو ٹی وی اسکرین پر مسلسل قصیدے پڑھتے رہنے کا حکم دیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ”ڈیمو“ کے طور پر 126 دنوں کا دھرنا بھی کروا دیا جاتا ہے اور میڈیائی بہروپیوں کو حکم ہوتا ہے کہ نجات دہندہ کے ہر لفظ اور ایکٹ کو براہ راست نشر کرتے رہیں کیونکہ سیانے کہتے ہیں کہ ”جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے“ اس بندوبست کا بھی عجب دستور ہے تخلیق کیے گئے مسیحا کو صرف اس وقت تک برداشت کیا جاتا ہے جب تک وہ ملک کے وسیع تر مفاد کے فریم کے تقاضے پورے کرتا رہتا ہے سرکشی کرنے پر نشان عبرت بنانے میں ذرا سی بھی تاخیر نہیں کی جاتی۔

اب کی بار ایک ایسے شخص کو بطور نجات دہندہ کے سیاسی اکھاڑے میں اتارنے کا بندوبست کیا گیا جس کا سیاسی کلچر سے دور دور تک بھی کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نجات دہندہ کا تعلق شو بزنس سے تھا، اب کچھ اعتراض کر سکتے ہیں کہ نہیں جناب اس بندے کا تعلق تو کرکٹ سے تھا بالکل درست بات ہے۔ اس کہانی میں ذرا سی مختلف یا ٹوسٹ والی بات یہ ہے کہ حادثاتی طور پر جناب کی قیادت میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے 1992 کا ورلڈ کپ جیت لیا تھا اور بقول نجم سیٹھی موصوف نے اس کامیابی کا کریڈٹ پوری ٹیم کی مشترکہ کوششوں کو دینے کی بجائے صرف خود کو ہی اس کامیابی کا حقدار ٹھہرایا تھا۔

یعنی یہ بندہ شروع سے ہی سیلف سینٹرڈ تھا، ورلڈ کپ کا یہ ایونٹ اس شخص کی زندگی کا وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا کہ جس کی بدولت اس نے اپنے فلاحی کاموں کے لئے بشمول شوکت خانم کینسر ہسپتال پوری دنیا سے چندہ اکٹھا کیا اور اب بھی اس ٹرسٹ میں بہاریں لگی رہتی ہیں۔ ہینڈ سم کے اسی ٹریک ریکارڈ کو کیش کروانے کے لیے پروجیکٹ مالکان نے خوب لابنگ کر کے 18 سے 25 سال کے نوجوانوں کے ذہنوں میں اس مسیحا کے متعلق یہ بات راسخ کرنے کے لیے کہ ”اس سرزمین پر اس مسیحا کے علاوہ باقی سب سیاستدان چور اچکے ہیں واحد یہی شخص ہے جو صادق و امین کے معیار پر پورا اترتا ہے“ وقت کے قاضی نے بھی بلا جھجک صادق و امین کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا اور سرٹیفکیٹ کا وزن یا اہمیت بڑھانے کے لیے مولویوں کے ملک ریاض جو کہ جدی پشتی جاگیردار ہیں سے بھی مہر تصدیق ثبت کروائی گئی تاکہ طاقت کا توازن جو شروع سے چلتا آ رہا ہے برقرار ہے۔

اس بندے کے ساتھ جو سب سے بڑا مسئلہ تھا وہ حد سے زیادہ ”میں میں“ کرنا تھا۔ یہ بندہ اس زعم کا شکار تھا کہ میری جیب میں اس ملک کے تمام مسائل کی چابی ہے اور میرے علاوہ اس ملک کو کوئی بھی ایشین ٹائیگر نہیں بنا سکتا مگر وقت کتنا ظالم ہوتا ہے، ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں یہ نجات دہندہ چاروں شانے چت ہو گیا کچھ بھی ڈلیور نہ کر سکا سوائے اپنی زبان کا زہر نوجوان نسل کے ذہنوں میں گھول کر بدتمیز بنانے کے۔ اس مسیحا پروجیکٹ کے ناکام ہونے کے بعد ایسی ایسی کہانیاں منظر عام پر آ رہی ہیں کہ بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ یہ تھا وہ شاہکار جس کے لیے یہ ساری بساط بچھائی گئی تھی۔

کمال کا شاہکار تھا جو خود تو ڈیڈ اونیسٹ تھا مگر اپنے روحانی رفقاء و گروہ کو نوازتا رہا۔ اتنا سادھو قسم کا انسان تھا جو خود تو دولت کو چھونا پسند نہیں کرتا تھا مگر ٹرسٹ کے نام پر فارن فنڈنگ پارٹی کے بندوبست پر خرچ ہوتی رہی، بے نامی اکاؤنٹ کونوں کھدروں سے برآمد ہوتے رہے، توشہ خانے سے تحائف باہر نکل کر مارکیٹ میں بکتے رہے، ایم بی ایس کی قیمتی گھڑی بکتے بکتے بالآخر اپنے حقیقی مالک کے پاس پہنچ گئی۔ مگر اس لاڈلے مسیحا کی مارکیٹنگ کرنے والے آج بھی اسی قسم کی متھ میکنگ میں مصروف ہیں کہ رات 12 بجے عدالتیں کھلیں تاکہ مسیحا کو روانہ کیا جا سکے۔ جب اس صادق و امین نے دیکھا کہ اب ہر کوئی اسے نکالنے میں مصروف ہو چکا ہے تو وہ چپکے سے اٹھا صرف اپنی ڈائری اٹھائی اور دامن جھاڑ کر پرائم منسٹر ہاؤس سے روانہ ہو گیا تھا۔

Facebook Comments HS