مہمان اور مہمان نواز
پاکستانی قوم کی شہرت بطور مہمان نواز قوم کے ہے اور یہ سچ بھی ہے۔ اگرچہ وقت نے بہت کچھ بدل دیا ہے، سچے کھرے رشتے مفاد اور ضرورت کے رشتوں میں بدل رہے ہیں مگر بہت سے گھرانوں میں ابھی بھی وضع داری باقی ہے۔ ایسے گھروں میں آپ بطور مہمان جائیں تو وہ ناصرف دیدہ ول فرش راہ کرتے ہیں بلکہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر مہمان نوازی بھی کرتے ہیں۔ لوازمات سے سجی ٹرالی یا میز ان کے خلوص اور محبت کا مظہر ہوتی ہے مگر بہت کم مہمانوں کا دھیان اس خلوص اور محبت کی طرف جاتا ہے۔
اور اس طرف تو بالکل ہی نہیں جاتا کہ اس مہنگائی کے دور میں ان لوازمات پر حق حلال کی کمائی بھی خرچ ہوئی ہوگی۔ عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ پلیٹ بھرنے کے بعد آدھی سے زیادہ یونہی چھوڑ دی جاتی ہے۔ یہی حال مشروبات کا ہوتا ہے کہ آدھا گلاس یا آدھا کپ یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ناصرف رزق کا ضیاع ہے بلکہ آپ کے عمومی اخلاق اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی ایک جھلک بھی ہے۔ پلیٹوں اور گلاسوں میں چھوڑا جانے والا یہ رزق ضائع ہی جاتا ہے۔
دوسرا ناقدری کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ آپ بطور مہمان، میزبان کے پیش کیے گئے لوازمات کو یکسر نظر انداز کر دیں اور اس کے اصرار پر یہ کہیں کہ میں تو کھا کر آیا ہوں اور یہ کہ اب بالکل گنجائش نہیں۔ میزبان بیچارا اپنا سا منھ لے کر رہ جاتا ہے۔ یقیناً ایسے رویے سے میزبان کی دل شکنی ہوتی ہے۔ آپ جب کسی سے ملنے جاتے ہیں تو چائے پانی کی کی گنجائش ضرور رکھیں اور یکسر انکار کر کے دل آزاری نہ کریں۔
بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ مہمان کے ہمراہ ایک دو چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں جو ادھر ادھر ہاتھ مار کر کھانے پینے کی اشیا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں بلکہ برتنوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور مہمان لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قسم کی روک ٹوک نہیں کرتے۔ میزبان بھی مروت کے مارے چپ رہتا ہے یہاں تک کہ ایک آدھ گلاس یا پلیٹ جام شہادت نوش کر جاتے ہیں۔ تب مہمان کو ڈانٹنے کا خیال آتا ہے اور میزبان کہتا ہے کہ ”چھوڑیں۔ کوئی بات نہیں بچہ ہے“ ۔
میزبان اور مہمان میں بے تکلفانہ مراسم ہوں تو فرمائشی پروگرام بھی نشر کر دیے جاتے ہیں مثلاً میں آ رہا ہوں بریانی تیار ہونی چاہیے یا میٹھے بس گاجر کا حلوہ ہی چلے گا وغیرہ وغیرہ۔ ارے بھلے مانس یہ تو سوچیں کہ اگلے کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ یہ لوازمات تیار کر سکے یا ان کے اخراجات اٹھا سکے کیونکہ آج کل اکثر وضع دار گھرانے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے تو آپ کی بھی ذمہ داری ہے کہ میزبان پر بے جا بوجھ نہ ڈالیں۔
بطور مہمان یہ بھی آپ کا فرض بنتا ہے کہ خالی ہاتھ کبھی نہ جائیں۔ اپنے بجٹ کے مطابق کوئی چھوٹا موٹا تحفہ ضرور لے کر جائیں۔ یہ تحفہ کارآمد ہونا چاہیے نا کہ ایسی کوئی چیز اٹھا کے چلے پڑیں جو آپ کے گھر میں فالتو ہو یا آپ کو ناپسند ہو۔ یہ بات اخلاقیات کے منافی ہے۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جہاں ہم مہمان نوازی کا لطف اٹھاتے ہیں، انہیں بھی جواباً اپنے گھر بطور مہمان دعوت دیں، بہت سے لوگ جن گھروں میں
کئی کئی بار بطور مہمان جاتے ہیں خود بھولے سے بھی میزبان کو دعوت نہیں دیتے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ اگلا کب تک یک طرفہ میزبانی کا فریضہ نبھا پائے گا۔
جاتے جاتے ایک چھوٹا سا واقعہ شیئر کرنا چاہوں گی جو بظاہر تو اتنی اہمیت کا حامل نہیں مگر گہرائی سے سوچیں تو شاید سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے اس میں۔ ہوا یوں کچھ عرصہ پہلے میں اور میرے میاں ایک دیرینہ دوست کے ہاں مہمان ہوئے۔ انہوں نے حسب معمول لوازمات سے میز سجا دی۔ ایک ڈش میں سیخ کباب بھی تھے جو شاید اسی وقت بازار سے منگوائے گئے تھے۔ انہوں نے بصد اصرار ہم دونوں کی پلیٹ میں ایک ایک کباب بھی رکھ دیا۔ اتفاق سے ہم میاں بیوی نے بہ یک وقت کباب کا ٹکڑا منھ میں ڈالا، فوراً احساس ہوا کہ کباب خراب ہو چکے ہوئے تھے۔
ذائقہ انتہائی خراب تھا۔ مگر کیونکہ میزبان اس بات سے بے خبر تھے سو وہ کھانے پر اصرار کیے جاتے تھے۔ میں نے مدد طلب نظروں سے شوہر کو دیکھا، انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دی۔ میزبان ذرا سے کہیں اور مصروف ہوئے تو انہوں نے جلدی سے دونوں کباب ٹشو پیپر میں لپیٹ کر کوٹ کی جیب میں ڈال لیے۔ میں نے شکرگزار نظروں سے انہیں دیکھا اور سکھ کا سانس لیا کیونکہ ایک بے حد مخلص اور مہربان شخصیت سے یہ کہنا بہت مشکل تھا کہ یہ کباب خراب ہیں، ہم نہیں کھا سکتے۔


