برصغیر کے مسلمانوں کی عزیمت کو تاریخ کا سلام

’منشور‘ کے ایڈیٹر جناب سید حسن ریاض نے درست لکھا ہے کہ پاکستان کا قیام روکنے میں ناکام ہو جانے کے بعد ہمارا دشمن چین سے نہیں بیٹھا، بلکہ اس نے بدگمانیوں کا ایک طوفان اٹھا دیا جس کے منفی اثرات آج بھی محسوس ہوتے ہیں۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ بدگمانیوں نے فتوحات کو شکستوں میں تبدیل کر دیا۔ جناب سید حسن ریاض نے ناقابل تردید دلائل اور شواہد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس پروپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کہ مسلمانوں کو انگریزوں کی عنایت سے پاکستان ملا تھا۔
یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جسے تاریخ قدم قدم پر جھٹلاتی اور لغو بات کہنے والوں کا منہ کالا کرتی رہتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے پاکستان کے خلاف دنیا کی رائے خراب کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان کے سامنے انتہائی غلط بات کہی اور ہندوؤں کے سب سے معتبر لیڈر گاندھی جی نے اپنی پراتھنا میں جو کچھ کہا، اس کے بارے میں کیمبل جانسن نے“ مشن ود ماؤنٹ بیٹن ”میں لکھا:
”آج رات گاندھی نے اپنی پراتھنا میں کہا کہ حکومت برطانیہ ہندوستان کی تقسیم کا باعث نہیں، وائسرائے کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ تقسیم کے ایسے ہی مخالف ہیں جیسے خود کانگرس، لیکن جب ہر ہندو اور مسلمان دونوں اس کے سوا اور کسی چیز پر متفق نہیں ہوئے، تو وائسرائے کے لیے اور کوئی راہ باقی نہیں رہی تھی۔“
جناب سید حسن ریاض انکشاف کرتے ہیں کہ ہر بار وائسرائے کو حکومت برطانیہ اس ہدایت کے ساتھ ہندوستان بھیجتی رہی کہ وہ اسے ہر قیمت پر متحد رکھنے کی تدبیر کرے، مگر ان میں سے کوئی بھی ایک ایسا نقشہ یا پلان پیش نہیں کر سکا جس میں ہندوستان متحد بھی رہتا اور مسلمانوں کو خودارادیت بھی مل جاتی۔
سید صاحب آگے چل کر رقم طراز ہیں :
”لارڈ ماؤنٹ بیٹن کیا چاہتے اور کیا نہیں چاہتے تھے، اس پر گفتگو کرنے کی اب دوسروں کو ضرورت نہیں رہی۔ ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کے بائیس برس بعد فلپ ہاورڈ سے ملاقات میں جو کچھ انہوں نے بیان کیا اور جو 2 جنوری 1949 کے لندن ٹائمز میں شائع ہوا، اس امر کی قطعی تصدیق کرتا ہے کہ وہ ہندوستان کی تقسیم کے سخت مخالف تھے، لیکن مسلم لیگ کی طاقت سے خوف زدہ ہو کر حکومت برطانیہ کے سامنے تقسیم کی تجویز پیش کرنے اور اسے منظور کرانے پر مجبور ہوئے۔ اس عمل کے دوران انہوں نے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔“
فلپ ہاورڈ نے اپنے اس مضمون میں لکھا ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو تقسیم کے خیال ہی سے شدید نفرت تھی اور اسے ٹالنے کے لیے وہ آخری دم تک کوشش کرتا رہا۔ انہوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا یہ بیان نقل کیا ہے ”ہاں! تقسیم بآسانی روکی جا سکتی تھی۔ حکومت برطانیہ کو بس یہ کرنا تھا کہ وہ بہت عرصے پہلے مرتبۂ نوآبادی کی بنیاد پر حکومت کا اختیار ہندوستان کے حوالے کر دیتی۔ اگر جنگ شروع ہوتے ہی یہ سب کچھ کر دیا جاتا، تو مسلم لیگ کسی شمار قطار میں نہیں ہوتی۔
اگر 1946 میں کرپس مشن کامیاب ہو جاتا، تو ہندوستان تقسیم نہ ہوتا۔ میں تو یہاں تک کہنے کو تیار ہوں کہ مارچ 1947 تک انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی ایٹم بم گرا دیا جاتا، تو جاپان اطاعت قبول کر چکا ہوتا اور ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی کے ساتھ ہی لارڈ ویول سے ہندوستان کا اختیار مجھے دے دیا جاتا، تو تقسیم روکنے کا وہ آخری موقع تھا۔“
اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن قیام پاکستان کے اتنے خلاف ضرور تھے جتنے ہندو دہشت گرد تنظیم جن سنگھ کے متوالے۔ ان کی طرف سے یہ اعتراف بھی موجود ہے کہ 1947 میں مسلم لیگ کے تقسیم ہند کے مطالبے کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی تھی۔
اس حقیقت کی تائید میں کہ پاکستان قائداعظم اور عامۃ المسلمین کی سخت جدوجہد اور قربانیوں سے حاصل ہوا تھا اور اسے برطانیہ نے عنایت نہیں کیا، سر فرانسس موڈی کا یہ قول بہت اہم ہے جو گورنمنٹ آف انڈیا کے اہم رکن تھے اور بعد ازاں سندھ اور پنجاب کے گورنر بھی رہے۔ انہوں نے ایک خط میں ہیکڑ بولیتھو کو لکھا:
”جناح کا اندازہ کرتے ہوئے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کس طاقت کے مدمقابل کھڑے تھے۔ صرف ہندوؤں کی دولت اور ان کے دماغ ہی ان کے مخالف نہیں تھے، بلکہ قریب قریب تمام برطانوی عہدے دار بھی مخالفین میں شامل تھے اور اکثر انگلستان کے سیاست دان بھی جنہوں نے یہ غلطی کی کہ پاکستان کو ایک اہم چیز سمجھنے اور اس کا موقف جاننے سے مسلسل انکار کرتے رہے۔“
سید صاحب مزید لکھتے ہیں کہ اس ضمن میں مسٹر وی پی مینن کا کردار بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ ان تمام واقعات سے واقف تھے جو ہندوستان کی تقسیم کا سبب ہوئے۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ جس اسکیم کے تحت ہندوستان کی تقسیم ہوئی، وہ انہی کی فکر اور رائے کا نتیجہ تھی اور انہوں نے ہی پٹیل کو اس تقسیم پر رضامند کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں ”صدیوں کے دوران اس کے لیے بہت کوششیں کی گئیں کہ ہندوستان ایک مرکزی حکومت کے تحت رہے، مگر برطانویوں نے ایک ہندوستانی سلطنت پیدا کی جو کشمیر سے راس کماری اور بلوچستان سے آسام تک پھیلی ہوئی تھی۔
یہ تصور المناک ہے کہ جو اتحاد برطانوی پیدا کر سکے، وہ اپنے جاں نشینوں یعنی ہندوؤں کو عطا نہ کر سکے۔ اس سے بھی زیادہ المناک امر یہ ہے کہ جناح جو اس نسل کے ہیرو تھے، جس میں میں بھی شامل ہوں، وہ اپنے زمانے کے بہت بڑے قوم پرست تھے جنہوں نے ملک کی آزادی کے لیے بڑی لڑائیاں لڑی تھیں، وہ آخرکار قوم پرستی کے خلاف ایسی کامیابی سے لڑے کہ یکتا و تنہا ہندوستان کو تقسیم کر لینے میں کامیاب ہو گئے۔“
ان تمام اقتباسات سے یہ امر واضح ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں اور ان کے قائد حضرت محمد علی جناح نے انگریزوں کے ساتھ ہندوؤں کو بھی شکست سے دوچار کیا۔ ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے اور ایسے کارنامے سرانجام دیے جن پر انسانی تاریخ انہیں سلام پیش کرتی ہے۔

