ہر لمس برا نہیں ہوتا


ہر لمس برا نہیں ہوتا۔ لمس تو انسان کی بنیادی ضرورت اور حق ہے۔ میں نہیں جانتا جو انسان لمس کے معجزات سے محروم رہا ہو، جسے کسی نے کبھی گلے نہ لگایا ہو، جو والدین کے لمس و قرب کا ترسا ہوا ہو۔ وہ کیسا انسان ہو گا! شاید وہ نامکمل ہو گا، ادھورا ادھورا، بے رونق سا، انسانوں سے چڑ کھانے والا۔ محبت، تحمل، نرم خوئی، آدمیت وغیرہ سے انجان سا انسان۔

بچپن میں تو والدین میں صدقے میں واری کی رٹ لگاتے نہیں تھکتے۔ یہ ضروری اور فطری بھی ہے لیکن جب وہ اپنی شعور کی عمر کو پہنچے، جب وہ نوجوان ہو جائے، غلطیاں کرنے لگے، اس سے کچھ بے ادبی ہو جائے، کوئی بلنڈر کردے تو اس وقت بھی اس کو بانہوں میں بھرنا اور پیشانی پر چومنا اصل کمال ہے۔ ایسا نہیں کہ بڑھتی عمر کے ساتھ قربت و محبت کا لمس ضرورت نہیں رہتا، ہرگز بھی ایسا نہیں۔ بلکہ اس وقت تو انسان کو زیادہ ”ڈوز“ چاہیے۔ بچہ، نوجوان، بزرگ چاہے بیٹا ہو یا بیٹی سب کے لیے ہر عمر میں یہ ضرورت، ضرورت ہی رہتی ہے۔ آپ کا لمس، آپ کی تھپکی، آپ کا بوسہ ان کے لیے معجزات کا حامل ہے سو کبھی اس سے ان کو محروم مت کیجئیے۔

آپ کے لمس سے ہی تو وہ سیکھے گے۔ محبت بھی، آدمیت بھی، زندہ دلی اور زندگی۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو ہر ایرا غیرا اپنائیت کا جھانسہ دے کر، اپنے لمس کے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی خوش بیانی اور مضبوط اظہار سے ان کی قربت حاصل کرتا ہے اور اکثر اپنوں کی قربت و محبت کے لمس سے محروم بچے پھر ایسے درندوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ کبھی اشیاء سے، کبھی محبت کے دعوؤں سے، کبھی خوشگوار زندگی کا سپنا دکھا کر شکاری ان کو استعمال کرتے ہیں، یوں ان کی زندگی برباد ہوتی ہے اور شکاری کسی دوسرے شکار کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ والدین افسوس کرتے رہ جاتے ہیں۔ افسوس کا یہ سلسلہ تھم سکتا ہے اگر ہم کچھ معاملات بہتر کر لیں۔

بس اتنا کر لیں جب بچے چھوٹے ہوں، اپنے بچپن میں ہوں تو ان کے لمس کے اختیار کا احترام کریں۔ جب بڑے ہوجائیں تو ان سے یہ محبت اور دل کے احوال سننے سنانے کا سلسلہ بحال رکھیں۔ کسی کے قریب آنے پر اگر بچہ پیچھے ہٹ رہا ہو تو بڑھ کر آگے آنے والے کو روک لیجیے۔ وہ کسی کو چھونے نہ دینا چاہ رہا ہو تو مان لیجیے، زبردستی کسی سے ہاتھ ملانے پر یا کسی کو ”پپی“ دینے یا لینے پر مجبور مت کیجئیے۔ ورنہ وہ کنفیوز ہو جائے گا۔ اپنائیت کے لمس اور درندگی کے لمس میں امتیاز کرنا نہیں سیکھ پائے گا۔

Facebook Comments HS