انجینئر محمد علی مرزا کا طارق جمیل کو دیے جانے والے مشورے کا تنقیدی جائزہ


آج کل مولانا طارق جمیل کی اچھی خاصی ٹرولنگ ہو رہی ہے اور مختلف اسکول آف تھاٹ کے لوگ مولانا کو کافی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بنیادی وجہ ان کا تبلیغی چہرہ ہے جس پر ”عمرانی فکر“ کی گہری چھاپ غالب آنے لگی ہے جس کی وجہ سے ان کا وہ مقام و مرتبہ جو انہوں نے اپنا ”سافٹ امیج“ دعوت و تبلیغ کے پلیٹ فارم سے بنایا تھا وہ اب رو بہ زوال یا مسخ ہونے کی طرف بڑی تیزی سے گامزن ہے۔ ان پر اس قسم کی تنقید تو کافی عرصہ سے ہو رہی تھی کہ وہ سیاست و طاقت کے ایوانوں میں خود کو مسلسل مقبول عام بنائے رکھنے کے لیے ہر پارٹی کے وزیر اعظم سے تبلیغ کے بہانے پیار کی پینگیں بڑھانے کا ایک خاص ملکہ یا صلاحیت رکھتے ہیں مگر پارٹی کبھی نہیں بنتے تھے۔

جب سب سے نبھانی ہو تو سب کے ساتھ چلنا مجبوری بن جاتا ہے لیکن جب سے عمران خان کا طاقت کے ایوانوں میں ظہور ہوا ہے مولانا اپنی حدود و قیود سے تجاوز کرتے ہوئے ایکسٹرا مائل تک چلے گئے ہیں جس سے اس قسم کا واضح تاثر سر اٹھانے لگا ہے کہ وہ پارٹی بن چکے ہیں اور انہوں نے اپنی ایک سیاسی لائن واضح کرلی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ محبت کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس قدر بلندی تک پہنچا کہ تمام مذہبی ڈیکورم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک حکومت کی تبدیلی کو کربلا سے تشبیہ دے ڈالی اور موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح سے انسانوں کو دھوکے سے خرید کر حکومت بنائی گئی اور چند ٹکوں کے عوض 22 کروڑ عوام کو ذلیل اور رسوا کیا گیا۔

مذہب چونکہ مولانا کا میدان ہے جسے جس منصب پر بھی فائز کرنا چاہیں ان کا استحقاق یا مرضی ہے مگر حد سے زیادہ غلو برتنا اور کسی کی محبت میں اعتدال سے ہاتھ دھو بیٹھنا بھی کوئی مثبت رویے میں شمار نہیں ہوتا بلکہ اس قسم کا رویہ منفیت میں آ جاتا ہے جسے ”اوبسیشن“ کہتے ہیں اور نفسیات کی رو سے یہ کوئی صحت مندانہ رویہ نہیں ہوتا اور بیمار ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انجینئر محمد علی مرزا نے مولانا کو بالکل مناسب مشورہ دیا ہے کہ جب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے تو تحریک انصاف کو باضابطہ طور پر جوائن کرنے میں کیا حرج ہے؟

تاکہ عوام میں بے چینی ختم ہو اور ان پر صحیح حقیقت واضح ہو جائے کہ اب آئندہ سے مولانا پورے کے پورے تحریک انصاف میں داخل ہوچکے ہیں اور ”مشرف با عمران“ ہو چکے ہیں لہٰذا اب سے انہیں تحریک انصاف کا ترجمان و نمائندہ سمجھا جائے تبلیغی جماعت کا نہیں۔ امید کرتے ہیں کہ مولانا کی شمولیت سے پی ٹی آئی میں جو گند زبانی کا کلچر فروغ پا چکا ہے اس کی شاید کسی حد تک اصلاح ہو جائے۔ دوسری بات جو انجینئر نے کہی ہے وہ انتہائی خطرناک یا بہتان کے زمرے میں آتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں جو لوگ ریاست مدینہ کا نام استعمال کر رہے ہیں ان میں کئی ایتھیسٹ ہیں اور وہ اسلام کی الف ب بھی نہیں جانتے۔ میری نظر میں تو اس قسم کا رویہ ”ریلجیئس سنوبری“ کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ مذہبی فکر مذہبی تصورات و معاملات میں خود کو ہی فائنل اتھارٹی سمجھتی ہے اور اسی زعم میں وہ کسی کے متعلق کوئی بھی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اب اس قسم کا دعویٰ علی مرزا کی طرف سے بہت بڑا الزام ہے، اگرچہ وہ اگلے جملے میں لفظ ایتھیسٹ کو سیکولر کے ساتھ نتھی کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں مگر ”فرسٹ ایمپریشن از لاسٹ امپریشن“ ابتدائی الفاظ پورے ذہنی خاکے کی عکاسی کر دیتے ہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح سے طارق جمیل عشق عمران میں مستغرق ہو کر مختلف سیاستدانوں پر اپنے ضمیر چند ٹکوں کے عوض فروخت کرنے کا الزام بغیر شہادتوں اور ثبوت کے لگا رہے ہیں جو کہ انتہائی نامناسب، بہتان اور قبیح عمل ہے جبکہ دوسری طرف انجینیئر بغیر کسی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہی کے پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کو ایتھیسٹ ڈکلیئر کر رہے ہیں کیا ان کا یہ رویہ بھی بہتان اور قبیح عمل کے زمرے میں نہیں آئے گا؟

اصولی طور پر جب آپ اپنے تئیں کسی کو ایتھیسٹ ڈکلیئر کرتے ہیں تو دیکھا یہ جائے گا کہ کیا کبھی ان لوگوں نے بھی خود کے متعلق پبلک میں اس قسم کا کھلے عام اظہار کیا ہے کہ وہ نظریاتی طور پر ایتھیسٹ ہیں؟ لفظ ایتھیسٹ ہمارے مذہبی طبقے کی زبان پر چڑھا ہوا ہے جیسے ہی انہیں شک گزرتا ہے کہ فلاں بندہ ان کے لئے چیلنجنگ بننے لگا ہے یا آؤٹ آف دی باکس طرز کے سوالات پوچھ کر پریشان کرتا رہتا ہے تو وہ جھٹ سے اسے ایتھیسٹ ڈیکلیئر کر کے جان چھڑا لیتے ہیں۔

حالانکہ وہ ایتھیسٹ کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے اس طبقے کی ان الفاظ سے شناسائی صرف سننے کی حد تک ہوتی ہے بالکل اسی قسم کا رویہ مزاحیہ چٹکلے چھوڑنے والے طبقہ کے سستے دانشور آفتاب اقبال نے پرویز ہود بھائی کے ساتھ بھی اختیار کیا تھا اور ان کو اپنے ذہنی خاکے مطابق ایتھیسٹ ڈکلیئر کر کے اسی قسم کے ذہنی رجحان کی ترجمانی کی تھی۔ یہ کوئی مہذب یا سلجھا ہوا رویہ نہیں ہے ہر کوئی اپنی فکر کو خود ہی پیش کرنے کا اختیار رکھتا ہے کوئی نتھو خیرا اٹھ کر کسی دوسرے کے نظریات کا ترجمان نہیں بن سکتا اور نہ ہی بننا چاہیے۔

اس لئے ہماری نظر میں اس موڑ پر یعنی بلاوجہ کا بہتان باندھنے یا گفتگو میں غلو سے کام لینے پر طارق جمیل اور انجینئر محمد علی مرزا سیم پیج پر ہیں دونوں کو رجوع کرنا چاہیے۔ باقی گفتگو میں سیاست کے موجودہ اور سابقہ کلچر کا جو خاکہ انجینئر نے طارق جمیل کو دکھانے کی کوشش کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ مثلاً علی مرزا کا کہنا تھا کہ جس حکومت کی تبدیلی پر مولانا نے ٹسوے بہاتے ہوئے سیاستدانوں پر ضمیر فروشی کا الزام عائد کیا ہے مولانا کے آنسو اس وقت کیوں نہیں بہے تھے جب سینٹ کے الیکشن میں انسانوں کا کاروبار ہو رہا تھا؟

پی ٹی آئی اقلیت میں اور نون لیگ اکثریت میں تھی اور بقول عمران خان کہ اداروں کی مداخلت سے انہوں نے اپنا چیئرمین سینٹ جو اس وقت بھی موجود ہے منتخب کروایا تھا، حیرانی ہے اس وقت مولانا پھوٹ پھوٹ کر کیوں نہیں روئے تھے؟ حمزہ شہباز کے متعلق جو مولانا کی آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں وہ حمزہ کی حمایت کرنے پر اپنے ایک دست راست کی سخت الفاظ میں سرزنش فرما رہے ہیں اس حرکت کے بعد وہ کس منہ سے کسی نون لیگی کے پاس بڑے بن کر تبلیغ کرنے کی غرض سے جائیں گے؟

جن خرابیوں پر وہ افسوس فرما رہے ہیں وہ تو ایک سیاسی کلچر بن چکا ہے اور کوئی پارٹی اس سے مبرا نہیں ہے۔ بڑی قابل غور باتیں ہیں مولانا کو ضرور ان پر غور کرنا چاہیے اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جائزہ لینا چاہیے کہ انہیں اس وقت کیسا محسوس ہوتا ہے جب وہ جانتے بوجھتے ہوئے کسی ”رجسٹرڈ ڈان“ کے گھر دعا کروانے پہنچ جاتے ہیں اور ساتھ میں بڑھا چڑھا کر تعریف بھی فرما رہے ہوتے ہیں؟ اگر عمران خان مظلوم ہیں اور وہ اپنی مدت پوری نہیں کر پائے تو سابق وزرائے اعظم جو اپنی مدت پوری نہیں کر سکے تھے یا کرنے نہیں دی گئی تھی ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کیا وہ بھی مظلوم تھے؟

کیونکہ اس مظلومیت کے تانوں بانوں کا سرا تو ایک ہی ہے وہ آپ بھی جانتے ہیں مگر جو مزا میسنے بنے رہنے میں ہے وہ خوامخواہ کی جذباتیت میں نہیں ہوتا۔ آخر میں بصد احترام مولانا کو مشورہ ہے کہ وہ دل بڑا کر کے ان حقائق کا تقابلی جائزہ لیں کیونکہ محض بہتان بازی کرنا اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے سیاسی لوگوں کی کردار کشی کرنا کوئی مناسب رویہ نہیں ہے۔ اگر سیاست کا شوق ہے تو پھر سارے تقدسی لبادے اتار کر پورے کے پورے سیاست میں داخل ہوجائیں۔

اس قسم کی بہانے بازیاں مت کریں کہ ”تبلیغ والے کسی کی مذمت نہیں کرتے یا سیاست میں مداخلت نہیں کرتے“ مگر پاکستان کا شہری ہونے کی آڑ میں وہ سب کچھ بھی کرتے جائیں جس سے آپ کا اقبال بلند ہوتا رہے۔ یقین مانیں جس دن آپ نے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو آپ پر بہت جلد یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ جو لوگ لاکھوں کی تعداد میں آپ کو سننے آتے ہیں کیا ان میں آپ کو ووٹ دینے کا بھی حوصلہ ہے یا نہیں؟

Facebook Comments HS