ایک اور خون ناحق


12 اگست کو 95 فی صد احمدی آبادی کے شہر ربوہ میں علی الصبح بس اسٹاپ پر ایک 62 سالہ احمدی نصیر احمد کو دوسری جگہ سے آئے ہوئے، مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی ایک تنظیم کے کارکن نے اپنے لیڈر کے حق میں نعرہ نہ لگانے کے سبب چھرے مار کر قتل کر دیا۔

اہل ربوہ کا اعلیٰ نمونہ: اس واقعہ پر اہل ربوہ کا انتہائی قابل تعریف صبر و ضبط کا مظاہرہ اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لینا اس جماعت کی ان روایات کے عین مطابق تھا جس کے اظہار وہ ہمیشہ کرتے رہے ہیں جیسا کہ 28 مئی 2010 کو لاہور ماڈل ٹاؤن کے خانہ خدا میں ان کا کلاشنکوف بردار دہشت گرد پر قابو پا کر اسے بحفاظت قانون کے محافظوں کے حوالے کرنا تھا۔ یہ طرز عمل اس لئے بھی قابل تحسین ہے کہ اگر اس کے بر عکس کوئی ایسا عوامی رد عمل ظاہر ہوتا جو عام طور پر ہوتا ہے اور یہ قاتل اس کے نتیجہ میں اپنے انجام کو پہنچ جاتا تو اس کے بعد ملک بھر میں جو مزید مخالف رد عمل ظاہر ہوتا اس کا قیاس کچھ مشکل نہیں۔

اس موقعہ پر اہل ربوہ کا یہ مہذب او ر شائستہ رویہ ان کی اعلیٰ تربیت کا مظہر ہے۔

ذمہ دار حکومتیں :

قائد اعظم کی 11 اگست 1947 کو ملک میں سب کے لئے مذہبی آزادی کے اپنے دستوری اعلان کی یاد میں 75 سال بعد آج کی قومی اسمبلی میں جو تقاریر ہوئیں، اگلے ہی دن اس واقعہ نے ان سب کا بے حقیقت، سطحی اور محض خانہ پری ہونا ظاہر کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اور اس جیسے سب واقعات کی اصل ذمہ دار دہ تمام حکومتیں ہیں جنہوں نے قائد کے ارشادات کو جان بوجھ کر نظر انداز کیے رکھا اور ان کے برخلاف مذہبی عدم رواداری، تعصب اور عدم برداشت کا رویہ اپنا لیا۔ اور جن کی وقتی مفاد پرستیاں اور حکومتوں کے قیام و قرار اور ان سے جڑی منفعتیں اور آسائشوں کی تمنائیں حکومت کرنے کی سب اعلی اقدار پر حاوی ر ہیں۔ یہ حکومتیں دو طور سے اس بگڑی صورت حال کی ذمہ دار ہیں۔ ایک ان کا پاکستان کو قائد کے تصور کے مطابق بنانے اور چلانے میں اپنی نا اہلی اور مفاد پرستی کے ہاتھوں ناکام رہنا۔ اور دوسرا مظلوم کے لئے عدالتی چارہ جوئی کا نظام دشوار، پیچیدہ، مہنگا اور عملاً ناقابل حصول بنائے رکھنا۔

عوام کے پیچھے :یہ حکمران جہاں خود ان غلط کاریوں کے مرتکب ہوئے وہیں ان کے اس نمونہ نے عوام کا بھی اس راستہ پر چلنا سہل کر دیا۔ اور ملک کی غالب آبادی اسی راستے پر چل پڑی۔ یہ عوام جو اب اس طریق پر پختہ طور پر کاربند ہیں حکمرانوں کی مجبوری بن چکے ہیں۔ اب حکمران انہیں ٹوک نہیں سکتے اور اپنی بزدلی اور کم ہمتی اور مفاد پرستی کے باعث برملا غلط کو غلط کہنے کی جرات نہیں کرتے۔ ان کی مثال ایسے والدین کی سی ہے جو پہلے اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہ کر کے انہیں بگڑنے دیتے ہیں اور پھر اصلاح سے عاجز آ کر ان کی غلط کاریوں پر پردے ڈالتے ہیں اور ان کے جواز گھڑتے ہیں۔

ظلم و زیادتی ایک معمول:

ملک کی کمزور اقلیتوں کا خون بہائے جانے کا یہ واقعہ پہلا نہیں ہے۔ ان پر ظلم و زیادتی ایک معمول بن چکا ہے عبادت گاہوں کا انہدام، میڈیا پر نفرت کا پرچار اور اس کے نتیجہ میں ٹارگٹ

کلنگ کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر اسی نفرت کے سبب میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوتے۔ اور اگر ایک آدھ رپورٹ ہو بھی جائے تو اسی سبب بلا کارروائی داخل دفتر ہو جاتے ہیں۔ اور اگلے کسی واقعہ کی راہ صاف رہتی ہے۔ غرض کہ ہر سطح پر ایک نا انصافی کا چلن ہے۔ وہ نا انصافی جو قوموں کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی روک اور بالآخر ان کی ہلاکت کی بنیادی وجہ بنتی رہی ہے۔

لمحہ فکریہ: یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا حکمرانوں کی قسم ہا قسم کی ذلت و رسوائی۔ ملک اور ملک کے اداروں کا آج اقوام عالم میں ہر اشاریہ میں آ خر کے ملکوں میں ہونا۔ ملک کے اندر گھناؤنے اور ناقابل بیان جرائم کا ہر روز میڈیا کا موضوع بننا۔ ہر بری خبر پر یہ لگنا کہ اس سے برا اور کیا ہو گا لیکن جلد بعد اس سے بھی برا ہو جانا۔ عوام الناس کا بد امنی، محتاجی اور ذلت کی آگ میں اور خواص کا کرپشن، رشوت، چور بازاری، بے ایمانی، ٹیکس چوری اور اسی قسم کی برائیوں کے دوزخ میں مسلسل جلنا

من حیث القوم یہ زوال کیا اس نا انصاف نظام کا نتیجہ تو نہیں؟

Facebook Comments HS

2 thoughts on “ایک اور خون ناحق

  • 21/08/2022 at 12:37 صبح
    Permalink

    محترم جمیل احمد بٹ صاحب! بہت بہترین لکھا ہے کاش کہ ریاست پاکستان اپنی اقلیتوں کو تحفظ دے سکے۔ مذہبی رواداری کو فروغ مل سکے۔

    • 23/09/2022 at 3:18 شام
      Permalink

      جی۔ بالکل درست
      اپنے عمل سے مذہبی رواداری کو پھیلانے کا موقع سب کو ہے۔

Comments are closed.