بحر ہند، ایک عظیم الشان سلطنت: امکانات و مستقبل


بحر ہند ایک عظیم الشان سلطنت ہے جس کی دنیا میں اپنی ایک شناخت اور اہمیت ہے۔ گرم پانیوں والی اس سلطنت کا دامن انتہائی وسیع و عریض ہے۔ اس کا ایک سرا جزیرہ آسٹریلیا سے شروع ہوتا ہے، انڈونیشیا ملائشیا اور جاپان تک، ادھر بنگال، سری لنکا، ہندوستان اور پاکستان سے لے کر ایران، اور مشرق وسطیٰ اور مصر تک پھیلا ہوا ہے ادھر ایک طرف وہ جنوبی افریقہ تک بھی وسعت پذیر ہے۔ اس کا علاقہ کوئی اندازہ ”70 لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو دنیا کے پانیوں کا لگ بھگ ٪ 20 ہے، اس سے فائدہ حاصل کرنے والے لوگوں کی تعداد دنیا کی ایک چوتھائی ہے، زمین کا ایک چوتھائی حصہ اس میں شامل ہے، جبکہ چوتھائی تیل و گیس، لوہا اور ٹن کے بڑے ذخائر یہاں پائے جاتے ہیں، اس کی عمل داری و حفاظت کا بندوبست ہمیشہ سے ایک کٹھن مرحلہ رہا ہے، جو کسی بڑے چلینج سے کم نہیں۔ آج کل کے حالات میں یہ معاملات اور دگرگوں ہوچکے ہیں۔ دنیا میں معیشت کی یہ روح رواں ہے یا آپ اس کو دنیا کی شہ رگ کہہ سکتے ہیں۔

کچھ خاص رکاوٹیں بھی ہیں جس سے عمل داری میں خلل پڑتا ہے، جیسے ہرمز قلزم، مغربی باب المندب، اور ملایا قلزم جہاں کئی بحری مشکلات کا سامنا بحری جہازوں کو کرنا پڑتا ہے۔

عرصہ دراز تک اس آبی گزرگاہ کو اس کی حقیقی اہمیت نہ دی گئی اور اب بدلتے ہوئے عالمی حالات کی وجہ سے اب البتہ اس کی اہمیت دوچند بڑھ گئی ہے۔ کوویڈ۔ 19 کے دوران جن پابندیوں کا اطلاق ہوا اور دنیا میں تجارتی حرکت بند ہوئی اس دوران یہ بحر ہند ہی تھا جس سے دنیا کی معاشی سرگرمیاں جاری رہیں۔ اب اس میں غلبہ و حاکمیت ایک سرد جنگ بھارت اور چین کے مابین شروع ہو چکی ہے۔ دونوں کی خواہش ہے کہ وہ مشرقی افریقہ کی بندرگاہوں کا نظام سنبھال سکیں۔

اس سے پہلے حالات قدرے بہتر تھے جب بحری تاجر اپنے بحری تجارتی سفر کے بعد کسی مقامی آبادی کے ساتھ وقت گزارتے اور اس طرح ایک خوشگوار تاثر قائم رہتا اور پائدار دوستی اور محبت و یگانگت کے انمٹ نقوش چھوڑے جاتے مگر اب ایسا نہیں بلکہ مختلف لوگ اس میں اپنی معاشی، اقتصادی اور عسکری قوت کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ کا ان پانیوں اور آبی گزرگاہوں پہ زیادہ کنٹرول رہا ہے مگر اب نئے بلاک کی وجہ سے جسے QUAD کہا جاتا ہے جس میں بھارت، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ شاید آئندہ کچھ دنوں میں جنوبی کوریا اس میں شامل ہو جائے گا اور اس کا نیا نام QUID ہو جائے گا۔ جنوبی چینی سمندر کے اندر اس کا زیادہ موثر عمل داری کا ارادہ ہے تاکہ تائیوان، سنگاپور اور ہانگ کانگ کی زیادہ آزادی و خودمختاری کا انتظام کیا جا سکے۔

گویا کہ گرم زمینی محاذوں کے بعد اب توجہ پانیوں کی جنگ کی جانب مبذول کی جا رہی ہے۔ ہمیں اپنے معروضی حالات کا جائزہ لینے اور بروقت مناسب تیاری کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS