روشن خیالی کا المیہ


مغربی تاریخ فکر میں Enlightenment ایک فکری تحریک ہے، جس کا ہمارے ہاں ترجمہ روشن خیالی، آزاد خیالی یا خرد افروزی کیا گیا۔ بالخصوص سترہویں صدی میں انگلستان کے مفکرین کے ہاتھوں اس کی داغ بیل ڈالی گئی اور اٹھارہویں صدی کے فرانسیسی و جرمنی مفکرین کے افکار میں اس کی نشوونما ہوئی، بالعموم تمام یورپی ممالک روزمرہ زندگی کے تمام پہلوؤں اور افکار میں اس سے متاثر ہوئے۔ وہ زمانہ جس میں اس تحریک کا غلبہ رہا، اسے Age of Enlightenment یا Age of Reason قرار دیا گیا۔

بنیادی طور پہ اسے سابقہ ادوار کی جہالت، توہم پرستی اور غیر عقلی رویوں کی مخالفت پہ مبنی تحریک سمجھا جاتا ہے۔ بالعموم انداز میں اس کی تحدید کر کے تعریف کرنا دشوار ہو گا، تاہم اس تحریک کے عظیم اور تقریباً آخری مفکر کانٹ کے مشہور اور مختصر مضمون ’روشن خیالی کیا ہے؟‘ میں اس کو جامع انداز میں پیش کر دیا گیا۔ مختصراً سادہ الفاظ میں یہ تحریک عقل و خرد کی اجارہ داری اور اس کے اعلیٰ و ارفع منصب کی وکالت کرتی ہے۔

ایم فل فلسفہ کے سمیسٹر اول میں ایک کورس بعنوان Enlightenment Paradigm of Knowledge کی تدریس کروائی گئی۔ امتحان میں استاد کی طرف سے موضوعی سوال پوچھا گیا کہ روشن خیالی کیا ہے؟ اس کے جواب میں تمہید باندھی کہ اس وقت گویا میں تحریک روشن خیالی کے جنازہ پہ کھڑا ہوں اور اس چل بسنے والی تحریک کی یاد میں رسماً چند کلمات کی ادائیگی کرنا چاہوں گا۔ سوال کا جواب ایک طرح سے Eulogy / Obituary تھی۔ جواب اختتامی مرحلہ میں داخل ہو رہا تھا کہ کمرہ امتحان میں بجلی غائب ہو گئی تو مجھے یاد آیا کہ میں فی الوقت پاکستان ہی میں بیٹھا ہوں۔

بہرحال نتیجہ یہ اخذ کیا کہ ہمارے معاشرے میں ابھی تک وہ حالات نہیں کہ تحریک روشن خیالی کو گزر جانے والے شخص کی طرح یاد کرتے ہوئے اس کی خوبیوں خامیوں کی کانٹ چھانٹ کی جائے۔ صورت حال یہ ہے کہ یہاں کسی ایسے فرد کی موت پہ کیوں کر کلمات ادا کیے جائیں، جس کا ابھی جنم ہی نہ ہوا ہو۔ کئی دانشوروں اور لکھاریوں کی شب و روز کاوشوں کے باوجود وہ موزوں حالات پیدا نہ ہو سکے جو کہ نہ صرف روشن خیالی کی تحریک کی داغ بیل ڈالتے بلکہ اس کی پرورش بھی کرتے۔ فلسفہ اور تاریخ کے طالب کی حیثیت سے روشن خیالی کی تحریک کو مغربی فکری تاریخ کے زاویے سے پرکھا جائے تو ہی میری جو اباً تمہید بامعنی ٹھہرے گی۔

تاریخ فلسفہ میں جس روایت فلسفہ سے میں اولاً زیادہ متاثر ہوا اور آج تک اس کا معترف ہوں وہ ہے وجودیت پسندی (Existentialism، اس کا ترجمہ موجودیت پسندی بھی کیا گیا ہے)۔ اس کو تحریک کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کے نقطہ آغاز میں چند عناصر کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ اس کو ایک رد عمل کی تاریخ بھی کہا جاتا ہے، ان اصولوں کے خلاف رد عمل جن کو لاگو کروانے کے لیے روشن خیالی کے حامی مفکر، دانشور اور فلاسفہ سرگرداں رہے۔

اگرچہ تحریک روشن خیالی کے حامل تصورات پہ ابتدائی ردعمل میں رومانیت پسندی کی تحریک کو شمار کیا جاتا ہے، تاہم اس کے علاوہ کئی ایسے مفکرین بھی ہیں جو بیک وقت روشن خیالی کے حامی بھی تھے اور نقاد بھی۔ روشن خیالی کے افکار کے ابتدائی رد کے ادوار میں رومانیت پسندی کی تحریک اور کیرکیگارڈ، شاپن ہاور اور اور نطشے جیسے فلاسفہ پیش پیش رہے۔ موجودیت پسندی کا بانی کیرکیگارڈ کو سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، سابقہ تاریخ میں مختلف فلسفیوں اور ادیبوں کی فکر میں وجودی رجحانات کی حامل فکر کی کھوج بآسانی لگائی جا سکتی ہے۔

اس سے پہلے رومن کیتھولک پاسکل کے افکار کی خصوصیات کے اعتبار سے اس کو موجودیت پسندی کا پیش رو قرار دیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پہ اس کے نزدیک ”عقل و خرد حقیقت کو نہیں پا سکتی کیونکہ عقل و خرد جذبہ و تخیل کے رحم و کرم پر ہوتی ہے“ ۔ یہ وہ اصول ہے کہ جہاں سے روشن خیالی کو رد کرنے والے مقدمات کو سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ وجودیت پسندی کے زیر اثر میرے لیے روشن خیالی کے حامی گروہ کی بیعت کرنا محال رہا۔

روشن خیالی کی جدیدیت، علمیات اور ماحصلات کو پہلی مزاحمت Counter Enlightenment کی تحریک کی شکل میں پیش آئی۔ بالخصوص اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب سائنسی علوم کو غلبہ حاصل ہونے لگا تو میکانکی نوعیت کی تخفیف پسند سائنسی تاویلات کو انسان پہ مسلط کرنے کا چلن عام ہوا۔ جس سے لازماً نتیجہ انسانی اقدار، فطرت، اختیارات، تخلیقی صلاحیتوں اور جذبات و احساسات کی تنزلی کی صورت میں برآمد ہوا۔ آرٹ کی ایسی تاویل پیش کی کہ اسے بھی میکانکی اصولوں کی قید و بند میں گھسیٹ دیا۔

روشن خیالی کی تحریک میں عقل و خرد پہ بے جا اعتماد قائم کرتے ہوئے اس سے کئی ماحصلات سمیٹنے کی کوشش جاری رہی، جن میں سر فہرست مقصود عزائم میں آزادی اور ترقی شامل ہیں۔ یہ اعتماد شروع دن سے فلسفیانہ حوالے سے ناپائیدار رہا، اور یہی ناپائیداری تحریک کو رد کرنے والی قوتوں کو جنم دینے کا باعث بنی۔ فرانسیسیوں کی نسبت جرمن فلاسفہ کے نزدیک روشن خیالی کے اصول ہمیشہ سے مشکوک رہے۔ دور اندیشی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جرمن مفکرین اپنے رویوں میں انگلستانی اور فرانسیسی مفکرین سے ممتاز رہے۔ ان کا یہ ہی امتیاز انہیں روشن خیالی کی تحریک کو رد کرنے والی قوتوں میں صف اول میں لا کھڑا کرتا ہے۔

مابعد جدیدیت دراصل عقل و خرد کی اجارہ داری پہ اسی Counter Enlightenment کی جانب سے لگائی جانے والی چوٹ کا آخری نتیجہ ہے۔ سابقہ عہد کی علمیات کی ناکامی نے اس کے ظہور کو ممکن بنایا۔ روشن خیالی کے حامی گروہ نے اپنی مبالغہ آمیز رجائیت پسندی کے تحت جن تصورات اور مقاصد کو بنیاد بناتے ہوئے، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر نئی معاشرت کی تعمیر کرنے کی ٹھانی تھی، ان میں عقل و خرد کا اعلیٰ منصب، آزادی اور ترقی کی عظمت کو کلیدی مقام حاصل رہا، لیکن بعد کے حالات و واقعات نے سٹیفن آر۔ سی ہکس کی زبانی یہ ثابت کیا کہ؛

”While the modern world continues to speak of reason, freedom, and progress, its pathologies tell another story.“

اور یہ کہانی پھر سہی۔

Facebook Comments HS