تعلیم، نظریہ اور استاد: بچوں کے بنیادی حقوق اور ہمارا نظام تعلیم
کوئی بھی سیاسی اور تعلیمی نظریہ اور فلسفہ اس وقت تک غیر متعلق رہتا ہے جب تک وہ بچوں کو سٹیک ہولڈر تصور نہ کرے۔
ہمیں ان نظریات کو فروغ دینا چاہیے جو تعلیم کو شعور، آگہی اور تنقیدی سوچ پروان چڑھانے کا ذریعہ سمجھیں نہ کہ ایک سیاسی ہتھیار۔ بچے اس دنیا کا مستقبل ہیں اور وہ کسی بھی پالیسی کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز ہیں۔ لہٰذا یہ بڑا اہم سوال ہے کہ بچوں کے مستقبل کے بارے میں پالیسی سازی کا اختیار کن لوگوں کے پاس ہے۔
والدین اور اساتذہ کے عقائد اور نظریات لاشعوری طور پر بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں اور وہ انہی نظریات کی روشنی میں اپنی شناخت کے خد و خال ترتیب دیتی/دیتا ہے۔ بھلے آنے والے سالوں میں کوئی فرد ان نظریات اور تصورات سے باہر ہی کیوں نہ نکل جائے یہ پھر بھی اس کے ذہن کے کسی نہ کسی گوشے میں موجود رہتے ہیں اور بعض غیر معمولی حالات و واقعات کے ساتھ دوبارہ ابھر آتے ہیں۔
اور عمر کے اسی مرحلے سے ہی طاقتور سماجی اور سیاسی ادارے بچوں کے ناپختہ اذہان میں اپنے تعلیمی نصاب کے ذریعے بہت سارے ایسے تصورات ڈال دیتے ہیں جو ان کے فطری تجسس کا قتل کرتے ہیں اور انہیں ایک آزاد انسان بننے میں مدد کرنے کی بجائے ایک ’کنفارمسٹ‘ بناتے ہیں۔ ’لوئی آلتھسر‘ ان طاقتور اداروں کو دو گروہوں میں تقسیم کرتا ہے ایک ’آئیڈیالوجیکل سٹیٹ آپریٹس‘ اور دوسرا ’رپریسو سٹیٹ آپریٹس‘ ۔ یہ دونوں ’آپریٹسز‘ شہریوں کے سیاسی اور سماجی شعور کو دباتے ہیں اور تعلیمی اداروں، عدلیہ، ۔
اور میڈیا کے ذریعے اپنی جغرافیائی حدود میں رہنے والوں کی ذہن سازی کرتے ہیں اور جہاں ضروری ہو اس آئرن گرڈ سے باہر نکلنے والوں کی ہلکی پھلکی سرزنش فرما دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں محترم اشفاق احمد صاحب، بانو قدسیہ صاحبہ، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، نمرہ احمد، عمیرہ احمد، محترم پروفیسر حماد صافی صاحب، خلیل الرحمٰن قمر صاحب، قبلہ اوریا مقبول جان صاحب، زید حامد صاحب، اور قاسم علی شاہ صاحب وغیرہ آئیڈیالوجیکل سٹیٹ آپریٹس کی چند ’آف شوٹس‘ ہیں
جیسا کہ ’مشل فوکو‘ اپنی کتاب ’ڈسپلن اینڈ پنش‘ میں فرانس میں مختلف ادوار میں رائج سزاؤں کے تصور کو ڈی کنسٹرکٹ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جیل اس لئے بنائے گئے ہیں تاکہ مجرم کے وجود کو ایک مکروہ چیز کی حیثیت سے رکھا جائے جبکہ اس سے پہلے عوامی مقامات پر لوگوں کو گھوڑوں سے باندھ کر یا چوکوں میں لٹکا کر عبرتناک موت دی جاتی تھی۔
یہ تقریباً ایک یونیورسل مسئلہ ہے کہ بچوں کو فری تھنکنگ کی بجائے کچھ مخصوص تصورات پڑھائے جاتے ہیں اور انہیں ایسی تعلیم نہیں دی جاتی کہ وہ اپنی مذہبی، سماجی، سیاسی، قومی اور ثقافتی شناخت کے بارے میں خود سوچیں اور فیصلہ کریں بلکہ بہت ساری جگہوں پہ ان پہ ایک ’مانولتھک‘ شناخت ٹھونس دی جاتی ہے۔ انہیں خود کچھ سوچ کے بننے کے قابل ہونے کی بجائے محض کچھ بنایا جاتا ہے۔ انہیں تاریخ مسخ کر کے پڑھائی جاتی ہے اور ان میں شناخت کے ایسے تصورات بھرے جاتے ہیں کہ وہ پھر بقیہ زندگی اس نرگسیت سے باہر نکلنے پہ آمادہ نہیں ہوتے۔
یہ بچے کے بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے کہ اسے کسی اور کے ’ورلڈ ویو‘ یا ’آئیڈیالوجی کا‘ فگمنٹ ’بنایا جائے۔ ہماری تعلیم کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ پالیسیاں بناتے وقت بچے کو شاید ہی کبھی مدنظر رکھا جاتا ہے جو بات مدنظر رکھی جاتی ہے وہ یہ کہ ان کو کیسا پڑھائیں کہ یہ ان‘ سوشل ہایئرارکیز ’کو فطری سمجھیں اور ان کی‘ لیجیٹیمیسی ’کو چیلنج کرنے کے قابل نہ ہو پائیں۔ اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک تعلیم ایک سیاسی ہتھیار کے طور پہ استعمال کی جاتی رہے گی۔
آزادی اور انصاف کسی بھی تعلیمی نظریے کی بنیاد ہونے چاہیں۔ اساتذہ کا کردار ایک انسٹرکٹر کا ہونا چاہیے اور وہ ایسے تعلیم دیں کہ بچے سوال کرنا سیکھیں کیونکہ علم جواب رٹنے سے نہیں بلکہ سوال اٹھانے سے آتا ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر سکولوں حتٰی کہ بعض اعلٰی تعلیم کے اداروں کے اساتذہ استاد کم اور تھانیدار زیادہ ہوتے ہیں۔ بچے کو ڈی ہیومنائز کرنا، ذہنی و جسمانی تشدد کرنا، بلاوجہ روک ٹوک اور بے عزتی کرنا، ڈسپلن کے نام پہ ان کی آزادی سلب کرنا بڑے سنگین مسائل ہیں۔
بچے کا حق ہے کہ اسے عزت دی جائے اس کی آزادی کا احترام کیا جائے تاوقتیکہ وہ کچھ ایسا نہ کرے جس سے اس کے ذاتی نقصان یا معاشرتی انتشار کا اندیشہ ہو۔ ہمارے بہت سے اساتذہ فرمانبرداری، ڈسپلن، نمبروں اور گریڈز کے لئے بے رحم مقابلہ بازی، مخالف نظریات والوں سے نفرت، بلا چوں چرا استاد کی فہم و فراست اور دانشوری پہ یقین جیسی منفی عادات پروان چڑھاتے ہیں۔ اور یہ ساری عادات زندگی کے خلاف ہیں۔ یہ عادات خوبصورت زندگی کے خوابوں کا چہرہ مسخ کر دیتی ہیں۔
بچہ پلورل ازم اور ملٹی کلچرل ازم جیسے خوبصورت تصورات کی بجائے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لیتا ہے اور زندگی سے بہت دور اپنا ایک ویران جزیرہ تعمیر کر کے اسی پھیکے پن میں ذہنی غلامی کی زندگی بسر کرتا ہے۔ استاد کا کام ان خوبصورت پھولوں کی آبیاری کرنا ہے نہ کہ اس ہنستے کھیلتے چہچہاتے بچے کو ایک عجیب الخلقت فرد اور سٹیٹس کو کا غلام بنانا ہے۔ ہماری نشاط ثانیہ اسی وقت ممکن ہو گی جب ہم تعلیمی اداروں کو ایسی سپیسز بنائیں گے جہاں بچوں کو چند معصومانہ سوالات اٹھانے کی اجازت ہو گی اور انہیں مناظرے کی دنیا سے نکال کے مکالمے کی دنیا میں لایا جائے گا۔



تعلیم، نظریہ اور استاد: بچوں کے بنیادی حقوق اور ہمارا نظام تعلیم بہت اچھا مضمون لکھا ہے آپ نے، یہ اساتذہ، والدین اور پالیسی بنانے والوں اور نافذ کرنے والوں کے لئے مشعل راہ ہے۔
اگر آپ اجازت دیں تو اس مضمون کو انگریزی میں ترجمہ کر کے اپ کے نام کے حوالے سے شائع کیا جا سکتا ہے؟