بوسنیا کی چشم دید کہانی ( 9)۔


سٹولک سٹیشن کے سٹاف میں اگر کوئی شخص غالب کے اس مصر ع کی تصویر تھا،
دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں۔ تو وہ بولک ہی تھا۔

اسکی عمر چالیس اور پینتالیس کے درمیان ہو گی۔ قد مناسب، جسم بھرا بھرا اور چھوٹی چھوٹی داڑھی۔ وہ نظر کی موٹے شیشوں والی عینک استعمال کرتا تھا اور سر پر بال اس قدر کم تھے کہ اس کے درمیانی حصے کا شفاف پن دیکھ کر یہ گمان ہوتا تھا کہ بولک کی تعمیر میں یہ خرابی شاید پیدائش سے ہی موجود تھی۔ وہ ہمارے سٹیشن کمانڈر کرس کا ہم وطن تھا۔ مشرقی یورپ کے پولیس افسران کا کلچر اپنے دیسی ماحول سے مختلف نہ تھا، یعنی پیٹی بندی کے لحاظ سے چشم پوشی ناممکن۔

وہ سٹیشن کا تفتیشی افسر تھا اور ہماری طرح گشت پر نہیں جاتا تھا۔ اسے تفتیش کو ٹھکانے لگانے کی جو مہارت حاصل تھی وہ اپنے ہاں کے تھانیداروں کی مہارت سے کچھ کم نہ تھی۔ ہمارے فرائض منصبی میں ایک یہ بات بھی شامل تھی کہ جب بھی دوران گشت کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جو معمول سے ہٹ کر ہو تو اس کی Incident Report لکھی جاتی تھی۔ ایسی ہر رپورٹ بولک کے حوالے کر دی جاتی۔ اس کی تفتیش اب اس کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ بولک نے زیر تفتیش کیسوں کی ایک فائل کھول رکھی تھی۔

یہ فائل یوں تو دفتری ریکارڈ کا حصہ تھی لیکن بولک ہمیشہ اسے ذاتی تحویل میں رکھتا تھا۔ اس دن بولک کا چہرہ اس کے سر کے درمیانی حصے کی طرح روشن ہو جاتا جس دن کوئی مانیٹر گشت سے واپسی پر ایسی کوئی نئی رپورٹ داخل دفتر کرتا۔ بولک اس رپورٹ کی تفتیش کی غرض سے اگلے کئی دنوں تک صبح گاڑی لے کر نکلتا اور سہ پہر کو ہی واپس آتا۔ یہ عجیب اتفاق تھا کہ جس دن ایسی کوئی نئی رپورٹ درج ہوتی اسی دن پہلی رپورٹ پر بولک کی کارروائی بھی اختتام کو پہنچ جاتی۔

اس کے بعد نئی رپورٹ پر اسی پرانے انداز میں تفتیش شروع ہو جاتی۔ کسی بھی رپورٹ کی تفتیش کو دو سے زائد کاغذوں پہ پھیلانا بولک کو ہر گز منظور نہیں تھا۔ اس سلسلے میں پہلا کاغذ فالو اپ اور دوسرا اختتامی رپورٹ پر مبنی ہوتا۔ اس طرح کی زیادہ تر رپورٹیں غیر قانونی ناکہ بندیوں کے بارے میں ہوتی تھیں۔ وہ راستے جو نسلی حد بندی کی طرف جاتے تھے ان پہ ناکہ بندی ممنوع تھی تاکہ کسی بھی نسل کی آزادانہ آمدورفت میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جا سکے۔

سرب پولیس ایسی ناکہ بندیوں سے اجتناب کرتی تھی لیکن کروایٹ پولیس کا یہ پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اس کی رپورٹ بنائی جاتی تھی۔ بولک کو یہ رپورٹ حوالے ہونے پر یہ کرنا ہوتا تھا کہ وہ مقامی پولیس کے کسی سینئر افسر سے رابطہ کرے، اسے اس خلاف ورزی سے آگاہ کرے اور یہ مطالبہ کرے کہ اس خلاف ورزی کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کر کے اسے مطلع کیا جائے۔ دراصل اس خلاف ورزی کا ارتکاب سینئر افسران کی ایماء پر ہی کیا جاتا تھا۔

کچھ سادہ لوح پولیس والے بعض اوقات وہ ڈیوٹی پرچہ بھی دکھا دیتے تھے جس کی بنیاد پر وہ وہاں موجود تھے۔ اب ایسی ہر شکایت پر سینئر افسر کا لگا بندھا جواب ہوتا تھا، چونکہ مانیٹر نے اس بارے میں ڈیوٹی افسر کو بھی آگاہ کیا تھا لہٰذا ان ملازمین کو فوراً وہاں سے چلتا کر دیا گیا تھا اور مستقبل میں ایسا نہ کرنے کی تنبیہ بھی کر دی گئی تھی۔ چنانچہ اب بولک کی فالو اپ رپورٹ اس مضمون پر مشتمل ہوتی۔ مقامی پولیس کے افسر بالا سے پچھلے کئی دنوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن کبھی میٹنگ میں اور کبھی دورے پہ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوا۔

یہ عجیب اتفاق تھا کہ اس طرح کی کوئی نئی رپورٹ فائل ہونے پر ایک آدھ دن میں افسر بالا سے بولک کی ملاقات ہو جاتی اور وہ اس کہانی کو جسے اوپر بیان کیا گیا ہے اپنی اختتامی رپورٹ میں نقل کر کے، رپورٹ داخل دفتر کرنے کی تجویز دے دیتا۔ سٹیشن کمانڈر اس کی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اسے ڈسٹرکٹ اور ریجنل ہیڈ کوارٹر بھیج دیتا۔ ایسی ہر رپورٹ پر بعینہ ایسی کارروائی بولک ہر بار کرتا۔ مجھے اور اقبال کو اس بات پہ بڑی حیرت ہوتی کہ اپنے ہاں تو فائل میں کوئی خامی نہ بھی ہو تو ہم کوئی نہ کوئی کیڑا ضرور نکال لیتے ہیں جبکہ یہاں ضلع اور ریجن کے دفاتر میں بیٹھے افسران میں سے کوئی بھی یہ سوال کبھی بھی نہیں اٹھاتا کہ آخر ایسی تمام رپورٹیں مماثل تفتیش پر کیوں مبنی ہوتی ہیں اور مقامی پولیس ہر بار اپنی ایسی حرکت پہ اظہار ندامت کے بعد اسے پھر کیوں دہراتی ہے۔ اقبال جب یہ نکتہ شیوا کو سمجھاتا تو وہ کہتا۔ یہ سالا گورا لوگ ہمارا مقابلہ کدھر کر سکتا ہے۔

بولک کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں کیسی بھی ہوں خواتین سے حسن سلوک کی اس کی صلاحیت مثالی تھی۔ خواتین کے بارے میں اس کے خیالات وہی تھے جو چچا کے آموں کے بارے میں۔ یعنی میٹھے ہوں اور ڈھیر سارے۔ لیکن اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ اسے اپنی ٹھرک پوری کرنے کے لیے سٹیشن کے عملے میں جو خواتین ترجمان میسر تھیں ان میں کوئی بھی ”میٹھے آموں“ کی تعریف پہ پوری نہ اترتی تھی۔ سلاجہ اور لیجا قدرے گزارا تھیں لہٰذا بولک ان کے سامنے اپنے مہذب پن کا مظاہرہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتا تھا۔ وہ اگرچہ سگریٹ نوش نہی تھا لیکن خواتین کی خاطر کے لیے ایک عدد لائیٹر جیب میں لیے پھرتا تھا۔ اب جونہی کوئی خاتون اس کے سامنے سگریٹ زیب لب کرتی تو وہ نہایت چابکدستی سے لائٹر نکال کر اس کی سگریٹ سلگانے میں مدد کرتا۔ خاتون کے اظہار تشکر پر اس کا چہرہ کھل کھل جاتا۔

وہ خواتین سے تخاطب کے ہنر سے بھی خوب آگاہ تھا۔ وہ ان کی تعریف کا کوئی نہ کوئی موقع بڑی حاضر دماغی سے نکال لیتا تھا۔ ایک دفعہ اس کی رات کی شفٹ میں ڈیوٹی تھی جس کا آغاز گیارہ بجے ہوتا تھا۔ ڈیوٹی پر آنے سے قبل اس نے کوئی گھنٹہ بھر نیند کی تھی۔ جب سٹیشن پہنچا تو اس کی آنکھیں ابھی مکمل طور پر کھلی بھی نہیں تھیں۔ اس نے سب سے علیک سلیک کی۔ اس رات لوینیا کی ڈیوٹی تھی۔ وہ جب اس سے ہاتھ ملا رہا تھا تو میں نے کہا۔ بولک میں تو کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کی تم اس قدر بد ذوق ثابت ہو سکتے ہو کہ لوینیا جیسی خوبصورت لڑکی سے یوں نیم وا آنکھوں سے ہاتھ ملاؤ۔ بولا، تم اسے بدذوقی سمجھتے ہو جبکہ میری آنکھوں کی یہ حالت تو لوینیا کے حسن کی چکا چوند نے کی ہے۔

مذاہب عالم بھی اس کا دل پسند موضوع تھا۔ اسلام اور ہندو مت کے بارے میں اس کی معلومات بس اتنی ہی تھیں کہ قرآن مجید ہمارے نزدیک الہامی کتاب ہے اور ہندو مردوں کو جلاتے ہیں۔ قرآن مجید کے بارے میں اسے یہ آگاہی اس وقت ملی جب اس کا پولش زبان میں ترجمہ ہوا۔ یہ ہاتھوں ہاتھ بک گیا اور وہ اسے حاصل نہ کر سکا۔

ہندو مت میں مردوں کو جلانے کے رواج کا اسے اس وقت علم ہوا جب اس کی ماں نے اپنے اس اکلوتے بیٹے کو وصیت کی کہ مرنے کے بعد اس کی نعش کو نذر آتش کر دیا جائے۔ بولک کے بقول اس کے لیے یہ ایک عجیب اور انوکھی وصیت تھی لہٰذا اسے اپنی ماں سے یہ پوچھنے کی گستاخی کرنی پڑی کہ ایسی نادر وصیت اس کے دماغ میں آئی تو آئی کیسے۔ اس کے جواب میں اس کی ماں نے ایک اخباری تراشہ اس کی طرف بڑھا دیا۔ یہ وزیر اعظم ہند اندرا گاندھی کے بارے میں خبر تھی جن کی نعش کو حال ہی میں تمام مذہبی رسومات کے ساتھ نذر آتش کیا گیا تھا۔

بولک کے بقول خبر کا آخری حصہ پڑھ کر تو وہ چونک گیا تھا۔ یہاں یہ درج تھا کہ اندرا گاندھی کو فلاں تاریخ کو ان کے دو سکھ محافظوں نے قتل کر ڈالا تھا۔ اس نے سوچا اس کی ماں نے اپنی نعش کو اندرا گاندھی کی نعش کی طرح جلانے کے ساتھ ساتھ بعینہ اس جیسے انجام کی وصیت کر دی تو پھر وہ دو قاتلوں کا انتظام کہاں سے کرے گا۔ میں نے کہا۔ تمہاری خوش بختی یہ رہی کہ اندرا گاندھی کے افسوسناک انجام میں ایک سے زائد قاتلوں کا عمل دخل تھا۔ قاتل اگر اکلوتا ہوتا تو پھر تمہاری ماں پورے واقعے کے اعادہ کی وصیت کر کے تمہیں مشکل میں ڈال سکتی تھی۔ ایسی صورت میں آج تم یہاں کی بجائے پولینڈ کی کسی جیل میں ہوتے۔

بولک نے جھر جھری لے کر میری طرف دیکھا جیسے کہہ رہا ہو۔
۔ دل جلانے کی بات کرتے ہو۔

Facebook Comments HS