نعمت کا شکر ادا کرنا
اس لاشریک کا ہر انسان کو متعدد اعتبار سے منفرد بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو مخلوق کی سطح پر لاشریک دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے عدل میں زبردست اور کارسازی میں حیرت انگیز فنکار ہے۔ انسان سب سے بڑی تقصیر یہی کرتا ہے کہ وہ آزاد ہونے کے زعم میں رازق پر توکل سے منحرف ہو جاتا ہے یعنی کارساز دو عالم کے کام خود کرنے لگتا ہے اور اس صورت میں خدا اور بندے کے درمیان معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس طرح انسان کی آئندہ زندگی کا ذمہ دار فقط وہ خود رہ جاتا ہے۔
خداوند ہر اکائی کو دولت سے آزماتا ہے۔ وہ اپنے ہر بندے کو بہتر زندگی کی طرف لانے کے مواقع فراہم کرتا ہے مگر جب اس کا بندہ اس کی عطا کردہ دولت خود پر صرف کرنے سے اپنا ہاتھ روکتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے دولت جمع کرنے سے آئندہ زندگی میں اس کا بھلا ہو سکتا ہے تو اس صورت میں دو گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے پہلا توکل سے انکار کرتا ہے دوسرا نعمتوں کا ناسپاس گزار بن جاتا ہے۔ اس کا نقصان یہ بھی ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان معاہدہ ختم ہو جاتا ہے۔
عزیزان من زبان سے شکر ادا کرنے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے حلیے سے غنی لگیں۔ اگر کسی فرد کو یہ یقین ہو جائے کہ خداوند اسے وسائل سے زیادہ رزق عطا کر رہا ہے تو اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ خداوند اسے بہتر زندگی عطا کرنا چاہتا ہے۔ اگر آپ خود اپنی اس راہ میں حائل ہیں تو شواہد موجود ہیں کہ خداوند آپ کو اسی جگہ چھوڑ دیتا ہے جس مقام کے دراصل آپ نے خود کو حقدار سمجھ لیا ہے۔ (بیٹھ کر سوچیے گا آپ کے اردگرد کتنے ایسے افراد ہیں جو کبھی گفتگو کا حصہ بھی نہیں تھے مگر آج وہ نہ صرف آپ سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں بلکہ سماج میں آپ سے زیادہ فعال اور موثر ہیں۔ )
عزیزان من، موجودہ عہد میں ناسپاس گزاری یہ بھی ہے کہ آپ ایک گھر خریدنے کی استطاعت رکھتے ہوں مگر کرائے کی جگہوں پہ دھکے کھاتے رہیں یا ایسی جگہ جیون گزار دیں جہاں آپ کی زندگی جمود کا شکار رہے۔ نعمتوں سے انکار یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اس کے باوجود خود کو تکلیف میں مبتلا رکھیں کہ آپ پرسکون سفر کے لئے عمدہ سواری خرید سکتے ہوں۔ ناشکری یہ بھی ہے کہ بادشاہوں کی طرح اپنے اور دوسروں کے لئے بہترین دسترخوان بچھا سکتے ہوں مگر گریزاں رہیں۔
آپ احسان کے منکر اس طرح بھی ہو سکتے ہیں کہ آپ خوبصورت آرام دہ بیڈ پر سونے کی استطاعت رکھتے ہوں مگر چارپائی پر سوتے رہیں (گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں ہیٹر کی سہولت سے مستفید نہ ہونا بھی احسان فراموشی کی ایک صورت ہے ) ۔ استطاعت کے باوجود اپنی اولاد کو غیر معیاری تعلیمی اداروں میں پڑھانا بھی خدا کی ناراضی کا سبب ہو سکتا ہے۔ توکل اور رازق پر یقین کر کے دوسروں کے لئے روزگار کے دروازے کھول سکتے ہیں تو اس میں تاخیر نہ کریں۔ اپنے عہد کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش نہ کرنا آپ کو اتنا پیچھے چھوڑ سکتا ہے کہ آپ کا شعور اس نقصان کا اندازہ کرنے سے بھی قاصر ہو جائے گا۔
حضرات زندگی بہت مختصر ہے۔ اگر آپ جدوجہد کر رہے ہیں تو خداوند سے اپنے بادشاہ بننے کے لئے موقع کی دعا کریں یقین کریں وہ بڑا عدل کرنے والا ہے اور اگر اس کریم ذات نے آپ کو جدوجہد کے دور سے نکال کر بہتری کے مواقع فراہم کیے ہیں تو یہ وقت آپ کا ہے، اس سے فائدہ اٹھائیں۔ خود کو سکون دیں، اپنے لئے وقت نکالیں تاکہ اپنے بارے میں سوچ سکیں۔ کسی دن یونہی بیٹھے بیٹھے خود کو کسی سفر پر لے جائیں، اپنی ذات کو شاپنگ کروائیں، من پسند ہوٹلوں میں کھانے کھائیں۔ آنکھوں کے لئے خداوند دو عالم نے وسیع کائنات پیدا کی ہوئی ہے کسی خوبصورت جگہ بیٹھ کر اپنی زندگی کا لطف لیں۔ خود کو بہترین تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ لوگ آپ کی ذات سے کچھ سیکھ سکیں (اس کے لئے عمر کی کوئی قید بھی نہیں ) ۔
مختصراً یہ کہ مثبت سوچیں، توکل کا دامن نہ چھوڑیں اور اگر خدا موقع دے تو بادشاہوں جیسی زندگی گزاریں اس میں برکت یہ ہے کہ خدا آپ کو معاشرے میں ہر حوالے سے باوقار کر دیتا ہے۔ خود پر دولت صرف کرنے کی طاقت پیدا کریں اور اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو بھی پریشان نہ ہوں وہ اتنا بڑا عادل ہے کہ آپ سے چھیننے میں اتنا وقت ضرور لگاتا ہے کہ آپ اس ماحول میں جینا سیکھ لیں۔


