ٹی ایس ایلیٹ کے یہاں روایت کا تصور


اپنے مضمون روایت اور انفرادی صلاحیت کے آغاز ہی میں ایلیٹ کہتا ہے کہ انگریزی ادب میں روایت کا تصور صرف اتنا ہے کہ فلاں کی شاعری بہت روایتی ہے یا حد درجہ روایتی ہے۔ یا یہ لفظ کسی آثار قدیمہ کی تعمیر نو پر اظہار پسندیدگی کرتے ہوئے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی ادب میں روایت کا تصور شاذ ہی ملتا ہے۔ ایلیٹ کے مطابق کسی بھی شاعر کے لیے سب سے اہم کام روایت کی مکمل پہچان ہے۔ روایت کا معاملہ بہت وسیع ہے اور اس کی بہت اہمیت ہے۔

روایت کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کوئی بھی تخلیق کار اپنے سے پہلی نسل کی کامیابیوں اور طریقوں کی آنکھ میچ کر اتباع کیے جائے (ایلیٹ ایسی روایت کی حمایت سے انکار کرتا ہے ) ۔ روایت کسی کو میراث میں نہیں ملتی بلکہ اسے ریاض یعنی شب و روز کی محنت سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ایلیٹ کے مطابق روایت کو سمجھنے کے لیے تاریخی شعور انتہائی اہم چیز ہے، ہر اس شاعر کے لیے جو پچیس سال کی عمر کے بعد بھی شعر کہتا رہے ضروری ہے کہ وہ خود کو روایت سے روشناس کروائے اور روایت سے روشناس ہونے کے لیے سب سے اہم چیز تاریخی شعور ہے۔

تاریخی شعور (ادب کی تاریخ کا شعور) کے لیے شاعر کو نہ صرف ماضی کی ماضیت بلکہ ”موجودگی کے ادراک کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تاریخی شعور کسی بھی شاعر کو لکھتے وقت نہ صرف اپنی نسل کا احساس دلاتا ہے بلکہ اسے یہ بھی احساس دلاتا ہے کہ یورپ کا سارا ادب اور اس کے اپنے ملک کا ادب ایک ساتھ زندہ ہے اور ایک مربوط نظام میں ہے۔ یہی تاریخی شعور کسی بھی ادیب کو روایت کا پابند بناتا ہے اور تاریخ شعور ہی کی مدد سے کوئی بھی ادیب اپنے دور میں اپنا مقام اور اپنے معاصرات کا شعور اور مقام سمجھتا ہے۔

کوئی بھی فن کار تن تنہاء اپنا کوئی مقام نہیں رکھتا بلکہ اس کے مقام کے تعین پچھلے فنکاروں سے اس کے تعلق کی بنیاد پر استوار کیا جاتا ہے، یعنی اس فنکار کو اپنے پیش روؤں یا اسلاف کا کتنا علم ہے، کیا اس شخص نے اپنے اسلاف کو پڑھا ہے، اگر پڑھا ہے تو کس حد تک پڑھا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ سارا ادب ایک ہی نظام میں مربوط ہے اور ایک مثالی نظام بنا چکا ہے، تو جیسے ہی کوئی نیا فن پارہ تخلیق ہوتا ہے وہ خود کو اس نظام میں آراستہ کر لیتا ہے، یوں وہ نظام خفیف سی تبدیلی کے بعد دوبارہ مکمل ہو جاتا ہے۔

یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ جس طرح ماضی حال کو متعین کرتا ہے اسی طرح حال ماضی کو بدلتا رہتا ہے۔ اور جس شاعر کو یہ شعور ہو گا کہ ماضی حال پر اور حال ماضی پر اثر انداز ہوتا ہے تو وہ اس بات سے بھی واقف ہو گا کہ اس کی تخلیقات کو لازماً ماضی کے معیاروں سے پرکھا جائے، اور یہاں پرکھنے سے مراد صرف پرکھنا ہے نہ کہ کاٹ چھانٹ کرنا اور نہ ہی یہ دیکھنا آیا کہ وہ تخلیق ماضی کے شاعروں سے بہتر ہے یا بد تر بلکہ یہ ایسا تقابل ہے جس میں دو چیزیں ایک دوسرے سے ناپی جاتی ہیں۔ یعنی اس تخلیق میں ماضی کے ساتھ مطابقت پائی جاتی ہے یا شاید اس میں انفرادیت ہے۔

کسی بھی شاعر کے لیے اپنے ماضی کے ساتھ تعلق کو واضح کرنے کے لیے چند ایک باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ اول یہ کہ نہ تو وہ ماضی کو کوئی ڈلا یا پتھر سمجھ کر قبول کرے جس کے بغیر گزارا ممکن ہی نہیں (یہ ناقابل قبول ہے ) ، دوسرا یہ کہ نہ تو وہ اپنی شاعرانہ فکر کی تعمیر کلیتہً ایک دو نجی پسندیدگیوں (پسندیدہ شعراء) کی بنیاد پر کرے ؛ ایسا شاعر کے جوانی کا تجربہ ہوتا ہے جب وہ کسی بھی چیز کا اثر قبول کرنے لیے تیار ہوتا ہے، اور تیسرا یہ کہ نہ ہی وہ اپنی تعمیر کسی پسندیدہ دور پر کرے ؛ کیونکہ یہ خوش گوار اور حد درجہ پسندیدہ اضافہ یا ضمیمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ شاعر کو اصل اور مرکزی میلان سے واقف ہونا چاہیے اور ضروری نہیں کہ یہ میلان ممتاز شہرت یافتہ اساتذہ میں ہی نظر آئے، بلکہ یہ میلان کہیں بھی ہو سکتا ہے۔

مختصراً ایلیٹ کا تصور روایت تاریخی شعور کے ساتھ مربوط ہے اور تاریخی شعور حاصل کرنا ہر اس شاعر کے لیے لازمی ہے جو پچیس سال کی عمر کے بعد بھی شعر کہتا رہے (یہاں پچیس سال اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ ایلیٹ کسی بھی شاعر کو اس وقت شاعر تسلیم کرتا ہے اگر وہ پچیس سال کے بعد بھی شعر کہتا رہے کیونکہ ایلیٹ کے مطابق پچیس سال کی عمر تک شاعر کا ذہن پختہ نہیں ہوتا ہے اور بہت جلدی کسی بھی شخصیت یا دور کے اثر کو بلا مزاحمت قبول کر لیتا ہے ) ، تاریخی شعور حاصل کرنے کے لیے ہر شاعر کو چاہیے کہ وہ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے تمام شعراء کو پڑھے اور ان کو سمجھے، یہ بات درست ہے کہ یہ ایک مشقت طلب کام ہے لیکن ایسا کرنا یا جس حد تک کوئی شاعر اپنی ذہنی استعداد کے مطابق پڑھ سکتا ہو پڑھنا اور ادبی تاریخ کا شعور حاصل کرنا شاعر کے شعری عمل کو پختہ کرتا ہے اور اسے اپنی حیثیت کا ادراک ہوتا ہے اور وہ اپنی شاعری کا پچھلے شعراء کے ساتھ تقابل کر سکتا ہے۔ ایلیٹ کے مطابق کسی بھی شاعر کی شاعری کا سب سے بہترین حصہ وہی ہوتا ہے جس میں وہ زیادہ سے زیادہ اپنے اسلاف سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ تھا ایلیٹ کا تصور روایت، آپ اس سے اتفاق یا اختلاف کر سکتے ہیں کیونکہ ایلیٹ ہی کے مطابق ”ناقدوں کی تنقیدات پر تنقید کرنا کوئی عیب نہیں“

Facebook Comments HS