کرپشن کا ناسور اور طبقاتی بے چینی!

کانگرس نے مسلم اکثریتی صوبے میں ارکان اسمبلی کو خریدنے کے لئے کروڑوں روپے جھونک دیے تو قائداعظم نے تاسف کے ساتھ گورنر ہیو ڈاؤ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’پوری کھیپ پانچ لاکھ میں خریدی جا سکتی ہے‘ ۔ گورنر نے جواب دیا، ’یہ کام اس سے بہت کم داموں میں ہو سکتا ہے‘ ۔ مذہبی آزادیوں کے حوالے سے پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس سے قائد اعظم کے خطاب کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے، درست دیا جاتا ہے، مگر صرف مذہبی آزادیوں کے حوالے سے دیا جاتا ہے۔
ابتدائی چند جملوں کے بعد نو زائیدہ مملکت کو در پیش جن خطرات کی نشاندہی قائد نے اس خطاب میں کی، سر فہرست مالی بد عنوانی اور اقرباء پروری کی لعنتیں تھیں۔ اس کے بعد ہی ان کے خطاب کا وہ حصہ شروع ہوا جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ ریاست کا شہریوں کے مذہبی عقائد سے کوئی لینا دینا نہیں۔ قائد کی یہ تقریر فی البدیہہ تھی۔ فیصلہ ہوا کہ اسی شام جو تقریر انہیں سٹیٹ بینکوئیٹ میں کرنا تھی، حکومت کی طرف سے لکھ کر دی جائے گی۔
مالی کرپشن اور اقرباء پروری کے امراض ہمارے معاشرے میں روز اول سے ہی موجود رہے ہیں۔ بظاہر 11 اگست 1947 ء والے دن قائد کو بھی یہی احساس ستا رہا ہو گا۔ چنانچہ انہی امراض کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نپٹنے کی انہوں نے قوم کو اولین نصیحت بھی کی تھی۔ تاہم گزرتے عشروں متروکہ املاک کی لوٹ مار، بلیک مارکیٹنگ، رشوت ستانی اور ذخیرہ اندوزی سے شروع ہونے والی علتیں اب اربوں روپے کے کک بیکس، سرکاری وسائل کے لامحدود غیر قانونی استعمال، منی لانڈرنگ یا خاندانی حکمرانی کی شکل میں اقرباء پروری کی انتہائی شکل اختیار کر گئی ہیں۔
ان برائیوں کو اب معاشرے میں بری نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ نوے کی تاریک دہائی سے شروع ہونے والے عہد زوال سے قبل حکمران فوجی ہوں یا سویلین، ان سے جڑی لاکھ خرابیوں کے باوجود ان سے متعلق مالی بد عنوانیوں کے میگا سکینڈل یوں دیکھنے سننے کو نہیں ملتے تھے۔ فوجی ہو یا سویلین حکومتیں، معاملات پلاٹ پرمٹ اور منظور نظر افراد کو اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے ذریعے نوازے جانے جیسی بد عنوانیوں تک ہی محدود رہے۔ ناجائز اثر و رسوخ سے حاصل کردہ دولت کو بیرون ملک منتقل کیے جانے کا رواج بھی ابھی عام نہیں ہوا تھا۔
چنانچہ ان آمروں اور جمہوری حکمرانوں کی بیرون ملک بیش قیمت جائیدادوں کا سراغ بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ نوے کے عشرے میں مگر خاندانوں کی حکمرانی کے دور کی شروعات کے ساتھ ہی مالی بد عنوانی اور قومی وسائل لوٹے جانے کی نئی جہتیں دیکھنے سننے کو ملیں۔ بنکوں سے گھوسٹ صنعتوں کے نام پر مبینہ طور پر بھاری قرضے لے کر نا صرف یہ کہ قرض معاف کروا لئے جاتے، بلکہ اس لوٹی ہوئی دولت کو غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک خفیہ بنک اکاؤنٹوں میں منتقل کر دیا جاتا۔
یہی سلوک اربوں کھربوں روپے کی مالیت کے منصوبوں پر اسی نسبت سے کمیشن کی مد میں حاصل کی گئی دولت سے کیا جاتا۔ چنانچہ نوے کی دہائی میں ہی خاندانی حکمرانوں کی بیرون ملک جائیدادوں کے منظر عام پر آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ لندن میں سرے پیلس اور فرانس میں بیش قیمت محلات ایک خاندان سے منسوب ہوئے، جبکہ لندن ہی میں وہ قیمتی جائیدادیں سامنے آئیں جن میں کہ دوسرا حکمران خاندان آج بھی رہائش پذیر ہے۔ موجودہ حکمرانوں کے خلاف لگ بھگ اسی نوعیت کے کئی مقدمات مبینہ طور پر نا قابل تردید ثبوتوں کے ساتھ سسٹم کی چھتری تلے عدالتوں میں برسوں سے جہاں تھے، وہیں کھڑے ہیں۔
عمران خان جب کہتے ہیں کہ گزرتے برسوں چند خاندانوں کی دولت میں اضافہ ہوتا چلا گیا جبکہ ملکی دولت دن بدن اسی تناسب سے گھٹتی چلی گئی تو وہ عام فہم بات کرتے ہیں۔ تاہم بات عام فہم ہونے کے باوجود آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اب بھی اس معاملے کو اہم نہیں سمجھتا۔ معاشرے کے ہر شعبے میں الیٹ طبقات کے لئے تو کرپشن کوئی مسئلہ ہے بھی نہیں۔ موجودہ سسٹم ان کی دولت اور جائیدادوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافے میں مددگار ہے۔
چنانچہ سٹیٹس کو کے اس حامی طبقے کو کہ جو ’پر امن بقائے باہمی‘ کے نظریے پر یقین رکھتا ہے، سیاسی افراتفری کا ماحول بالکل پسند نہیں۔ دوسری طرف نچلے درجے کے طبقے کو بھی کہ ماسلو کی تھیوری آف نیڈز (Theory of needs) کے مطابق جو ہمہ وقت اپنی دو وقت کی روٹی کی فکر میں سرگرداں رہتا ہے، اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ حکمران طبقہ مالی بد عنوانیوں یا ملکی وسائل کی لوٹ مار میں ملوث ہے یا نہیں، بشرطیکہ حکمران ’خود کھانے کے ساتھ ساتھ اس پر بھی کچھ نا کچھ لگاتا رہے‘ ۔
خاندانوں اور الیٹ گروہوں کی شکل میں ملک پر مسلط حکمران، سٹیٹس کو کے حامی بالائی طبقے کو مراعات بشمول ٹیکسوں میں بھاری چھوٹ، جبکہ نچلے طبقے کو سستے تندور یا میٹرو میں مفت سفر جیسی شعبدہ بازیوں اور بھاری سبسڈیز کے ذریعے راضی رکھنا جانتے ہیں۔ تاہم ان دو طبقات کے بیچ ایک تیسرا طبقہ چند برسوں سے حکمرانوں کے قابو سے باہر ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ماسلو ہی کی مذکورہ تھیوری کے مطابق یہی وہ طبقہ ہے کہ ’ضروریات کی تکون‘ کے اگلے درجے پر کہ جہاں دو وقت کی روٹی اور سر پر چھت سے اوپر اٹھ کر عزت نفس، جان و مال کا تحفظ اور اگلی نسل کا محفوظ مستقبل جس کی ضروریات بن جاتے ہیں۔
آج کل یہی وہ طبقہ ہے جو حکمرانوں سے بیزار ہو کر عمران خان کے ساتھ کھڑا نظر آ رہا ہے۔ عمران خان کا یہ بیانیہ کہ ایک عام پاکستانی کی تمام تر مصیبتوں اور معاشرے میں پائی جانے والی نا انصافیوں کا سبب خاندانی حکمران اور ان سے منسوب میگا کرپشن ہے، اس طبقے سے وابستہ کروڑوں مردوں، عورتوں اور نوجوانوں کے دلوں میں اتر چکا ہے۔ چنانچہ یہی کروڑوں پاکستانی اپنے بچوں کے روشن مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے، جب وہ بلاتا ہے، جہاں بلاتا ہے، کھچے چلے آتے ہے۔
تاہم دوسری طرف موجودہ حکمران اب بھی سمجھتے ہیں کہ اگر کسی طرح اس طبقے کی فوری معاشی ضروریات کا ازالہ ہو جائے، مثلاً پٹرول، بجلی، گیس سمیت اشیائے تصرف سستی ملنے لگیں تو رومان پرست متوسط طبقے میں سے بھی اکثریت کو نہ صرف خاندانی حکمرانی سے بلکہ ان سے منسوب بد عنوانی اور مالی لوٹ مار کی داستانوں سے کوئی سروکار نہیں رہے گا۔ درجن بھر جماعتوں کا اتحاد سمجھتا ہے کہ جہاں ریاستی طاقت کے بہیمانہ استعمال سے وہ مڈل کلاس طبقے کو فی الوقت دبا لیں گے وہیں آئندہ چند ماہ کے اندر امریکی مدد امداد کے بل بوتے پر وہ اس بے چین طبقے کو معاشی طور پر بھی رام کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اب سسٹم اور عوام آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ بات چل نکلی ہے۔ کہاں تک پہنچتی ہے۔ ہمارے لئے فی الوقت کچھ کہنا ممکن نہیں۔ تاہم قائد اعظم کچھ ماہ قبل گورنر ہیو ڈاؤ کے ہمراہ چہل قدمی کرتے ہوئے اگر کہیں سے اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں آ نکلتے تو پاکستان کی قومی اسمبلی کے دو ڈھائی درجن معزز ارکان کو وہاں دیکھ کر انگریز گورنر کے کان میں کیا سرگوشی کرتے، اس بات کا اندازہ بہر حال مشکل نہیں۔

