چاک کی اک شام دوستاں


امریکہ میں مقیم مشہور و معروف افسانہ نگار جناب امین بھایانی گزشتہ دنوں پاکستان تشریف لائے۔ ان کے اعزاز میں مختلف تقریبات ہوئیں۔ چاک ایونٹ مینیجمنٹ و چاک فکشن فورم نے بھی امین بھایانی کے اعزاز میں ایک شام دوستاں کا اہتمام کیا۔ اٹھارہ اگست کو افسرز میس کلب کراچی میں سجائی جانے والی یہ شام بہ یک وقت دو تقریبات کا اجتماع تھا۔ ایک تو جناب امین بھایانی کے اعزاز میں اور دوسرا یہ کہ اسی دن معروف شاعرہ محترمہ سحر علی کی سالگرہ بھی تھی۔ یوں یہ تقریب ان دونوں اہل قلم کے نام رہی۔

تقریب کا وقت شام چھ بجے تھا۔ مہمان مقررہ وقت پر آنا شروع ہوئے۔ سب سے پہلے بہت اچھی مصنفہ محترمہ نشاط یاسمین خان اپنے بیٹے عبداللہ کے ساتھ تشریف لائیں۔ رحمٰن نشاط صاحب بھی تبھی پہنچے اور علی کوثر بھی۔ چند منٹ بعد میزبان بھی آن پہنچیں۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک ایک کر کے دیگر مہمان بھی آ گئے۔ مہمانوں میں جناب امین بھایانی، ہدایت سائر، رمزی آثم، علی حسن ساجد، حسن امام، یاسر سعید صدیقی، علی کوثر، رحمٰن نشاط، نشاط یاسمین، یاسمین یاس، سحر علی، شاہانہ جاوید اور ان کے صاحب زادے احد، سعید جدون، ڈاکٹر ثنا شاہد اور راقم یعنی کرن صدیقی شامل تھے۔

سب مہمانوں کے آ جانے کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ میزبان صائمہ نفیس نے تقریب کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے محترم امین بھایانی کا تعارف کروایا۔ امین بھایانی صاحب گزشتہ بائیس برسوں سے امریکا میں مقیم ہیں لیکن پاکستان سے ان کا رشتہ اور تعلق پہلے جیسا ہی مضبوط ہے۔ اب تک ان کے افسانوں کے تین مجموعے آ چکے ہیں مزید کتابیں بھی جلد شائع ہونے کو ہیں۔

یہ دن سحر علی کی سالگرہ کا بھی تھا۔ چاک ایونٹ مینجمنٹ نے اس کا بھی اہتمام کیا۔ پہلے سحر علی کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا سب نے انھیں سالگرہ کی مبارک باد اور دعائیں دیں۔ کیک کاٹنے کے بعد سحر علی کو چاک ایونٹ مینجمنٹ کی طرف سے ایک بہت پیارا سا گل دستہ دیا گیا۔ سب نے ایک دوسرے کو کیک کھلایا۔ اس کے بعد ان سے ان کی شاعری سنی گئی۔

پھر صدر محفل یعنی امین بھایانی صاحب سے کچھ سنانے کی فرمائش ہوئی۔ انھوں نے اپنا افسانہ ”گڑ کی ڈلی“ سنایا اور خوب داد پائی۔ اس کے بعد عشائیہ تھا۔ کھانا چینی اور پاکستانی ذائقوں پر مشتمل تھا یعنی چائینز رائس، شاشلیک، مرغ کڑاہی، سلاد، گرما گرم تندوری روٹی اور کولڈ ڈرنک۔ کھانا بہت لذیذ تھا خاص کر چکن کڑاہی۔ کھانے کے بعد تصویری سیشن ہوا۔ گپ شپ کرتے اور تصویریں لیتے ہوئے وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ سب نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا اگلی کسی ایسی ہی ملاقات تک کے لیے ۔

Facebook Comments HS