انصاف کی دہائی
ایک سیا سی کارکن پر تشدد کا واقعہ آج میڈیا کا موضوع ہے۔
متوازی نظام
جرم سرزد ہونے پر شواہد کی جانچ اور قانون کی پرتال کے بعد مجرم کی سزا دہی عدالت کا کام ہے۔ کسی ملزم کے خلاف شواہد اسے بر موقعہ مجرم ظاہر کریں تب بھی سزا دینا عدالت ہی کا ذمہ ہے۔ تاہم ملک میں اس کے
متوازی ایک اور طاقتور نظام بھی کام کر رہا ہے۔ جس میں مدعی اختیار کی قوت سے خود منصف ہوتا ہے اور حسب منشا سزا دیتا ہے۔ یہ ملک میں عام ہے اور ایک زمانے سے چل رہا ہے۔ انصاف کے نام پر نا انصافی صاحبان اقتدار کا ہمیشہ کا طریق ہے۔ اڈیالہ، اٹک اور قلعہ لاہور تو محض علامت ہیں ورنہ یہ طریق تو ملک کے ہر تھانے اور اکثر جاگیر داروں اور وڈیروں کی نجی جیلوں میں رائج ہے۔ اور ہر وقت ان گنت افراد ان عقوبت خانوں میں اپنے کردہ اور نا کردہ جرائم کی سزائیں بھگت رہے ہوتے ہیں۔
قانون ہاتھ میں :
طاقتوروں کے اس طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور کوئی گرفت نہ ہونے کی ان بے شما ر مثالوں سے سیکھ کر غیر تربیت یافتہ عوامی گروہ بھی خود کو طاقتور پا کر بار بار ایسا کرتے ہیں۔ دوسرے شہریوں کے گھروں، املاک اور ان کے قبرستانوں اور عبادت گاہوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرتے ہیں۔ اور کسی کو بھی ملزم قرار دے کر کو از خود بہیمانہ طور پر مار پیٹ کر کے حتیٰ کہ آگ میں جلا کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔
گروہی انصاف طلبی:
مذکورہ بالا ہزار ہا واقعات میں سے کتنے میڈیا کے اس طرح موضوع بنے یا بنتے ہیں جس طرح اب کا واقعہ؟ افسوس کہ انصاف کے لئے یہ آواز اٹھایا جانا ہمیشہ گروہی مفادات کے تابع نظر آتا ہے۔
ٹی وی چینلز، اخبارات، سیاسی پارٹیاں، وکلا تنظیمیں سب صرف ایسے معاملہ پر آواز اٹھاتے ہیں جو ان کے مفاد کو براہ راست متاثر کرتا ہو یا جس پر آواز اٹھانے سے ان کا مفاد متاثر نہ ہوتا ہو۔ اگر مظلوم کم گروہی جماعت سے ہیں اور بالمقابل ظالم دنیوی یا مذہبی طور پر طاقتور ہیں اور مظلوم کا ساتھ دینے پر ناراض ہو سکتے ہیں تو رائے عامہ کی نمائندگی کے یہ سب دعویدار چپ سادھ کر دوسری طرف دیکھنے لگتے ہیں۔
انصاف سب کے لئے : جب تک یہ اصول عملاً تسلیم نہ کیا جائے کہ انصاف سب کا حق ہے، ہر سطح پر یہ پرچار نہ کیا جائے کہ انصاف سب کے لئے ہے اور ہر مظلوم، خواہ اس کی سماجی حیثیت اور عقیدہ کچھ ہی کیوں نہ ہو، کے لئے پورا معاشرہ آواز نہ اٹھائے ملک سے نا انصافی کا چلن ختم نہیں ہو سکتا۔
پس بہتری کے لئے ان سب کو جو سیاست میں ہیں سنجیدگی سے سب پاکستانیوں کے لئے ایسے واقعات کے خاتمہ کے لئے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اور جو عوام میں سے اس واقعہ پر دل گرفتہ ہیں۔ انہیں اپنے دل کشادہ کر کے بلا استثنا ملک کے سارے مظلوموں کے لئے بھی غم زدہ ہونا چاہیے۔


