سوات میں پھر طالب
سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ بی بی سی کی خبر ہے کہ سوات کے علاقے میں ایک بار پھر طالب آ گئے ہیں۔ پھر اس لیے لکھا ہے کہ پہلے بھی طالبوں نے سوات کا کنٹرول سنبھالا تھا اور آٹھ نو والے سن میں ایک عدد تکڑے فوجی آپریشن کے بعد سوات کو ان کے قبضے سے آزاد کروایا گیا تھا۔ اس دوران مقامیوں کو وہاں سے ہجرت کا دکھ بھی سہنا پڑا تھا۔ ہجرت کا دکھ اس لیے کہا ہے کہ ہجرت کے عمل میں جان و مال دونوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ بات سوشل میڈیے کی ہو رہی تھی، جیسا کہ سب کو پتہ ہے، سوشل میڈیا والے سنی سنائی بات پر یقین کامل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خبر کو پھیلاتے چلے جاتے ہیں۔
اگر ساتھ بی بی سی کا تڑکا لگ جائے تو پھر تو سوشل میڈیا والے شیر ہو جاتے ہیں اور راہ گزروں کو روک روک کے بتاتے ہیں کہ بی بی سی نے بھی یہی کہا ہے۔ بقول دیسی و ولائتی میڈیا طالب بھائیوں نے پولیس اور فوجیوں کو یرغمال بنایا، ایک کی ٹانگ میں گولی ماری اور جرگے کے ذریعے چھوڑا۔ شور یہ بھی ہے کہ اچھے روزگار والوں کو مفتے کے لیے پرچیاں بھیج دی گئی ہیں، مفتا تو دستی بھی لیا جاسکتا ہے، پرچیاں اس لیے دی ہیں کیوں کہ مذہب میں لین دین لکھ کے کرنے کی ہدایت ہے۔
ایک ویڈیو بھی گردش میں ہے جس میں طالب یہ بتا رہے ہیں کہ یرغمالی ہمارے بھائی ہیں انہوں نے ہمارے علاقے میں آ کر غلطی کی ہے، ہم ان کے علاقے میں نہیں گئے، اور یہ ہماری فوج ہے ہم ان کی قدر کرتے ہیں یہ ہمارے بھائی ہیں باقی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔
آپ یقین کریں یا نہ کریں مجھے تو ویڈیو سن کر بہت اچھا لگا، عرصہ ہی ہو گیا ہے خاص طور پر ایک پیج والی گورنمنٹ قائم کروائے جانے کے بعد سے میڈیا پر ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارنے کے علاوہ کبھی کچھ سننے کو نہیں ملا، بھلا ہو طالب بھائیوں کا کہ انہوں نے آمد کے ساتھ ہی بھائی بھائی والی ویڈیو چلا دی ہے۔ بھائی بھائی والی ویڈیو سن کر میرا تو دل چاہتا ہے کو اس ہونہار صاحب کو دل کھول کر داد دوں جس نے طالب بھائیوں کے لیے گڈ طالب کا نام گھڑا تھا۔
گالی گلوچ کے دور میں بھائی بھائی کا اعلان کوئی گڈ ہی کر سکتا ہے، ویسے بھی بیڈ آج کل پکڑ دھکڑ کے چکر سے گزر رہے۔ چکر کا لفظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ ہمارا قومی سفر خط مستقیم کے بجائے چکر میں جاری ہے۔ میں نے سنا ہے کہ چکر میں سفر کے بہت سے فوائد ہیں، اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اس میں آسانی سے پتہ چل جاتا ہے کہ کون گڈ، کون بیڈ، کون صادق اور کون خائن ہے، سیدھے سفر میں منزل پر جلدی تو پہنچا جا سکتا پر نئے نئے راستوں پر پتہ نہیں بندا کہاں سے کہاں نکل جائے اور جن کو نکل جانے کی عادت ہو ان کا تو اور بھی خطرہ ہے۔
باقی ٹانگ میں لگنے والی گولی سے بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ہو سکتا ہے کہ کسی طالب بھائی کے پاس سن آٹھ نو والی پرانی بندوق ہو اور وہ عادت کے مطابق مداخلت، انکار یا وردی دیکھ کر خود بخود چل جاتی ہو۔ اس کا آسان حل یہ ہے کہ آٹھ نو سن میں استعمال ہونے والی فائر کی عادی بندوقیں طالب بھائیوں سے واپس لے لی جائیں۔ ویسے بھی وہ پرانی ہو گئی ہوں گئیں، طالب بھائی بیچارے ہر وقت ان کو تیل ہی لگاتے رہتے ہوں گئے۔ اب وہ آ ہی گئے ہیں اور بھائی بھائی کی بات بھی کر رہے ہیں اس لیے ہمیں بھی اپنی اعلی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی روز روز تیل لگانے کی مشقت سے جان چھڑانی چاہیے۔


