میرا گاؤں جانے کہاں کھو گیا ہے



اتوار تھا۔ یاد آیا بچپن کے مشفق چہروں میں ایک چہرہ ابھی موجود ہے۔ خالہ صغرا عمر کے پائیدان کی آخری سیڑھیوں پہ اب بھی ڈٹ کے کھڑی ہیں۔ ملتا ہوں تو نوے سال پرانی آنکھوں کے کٹوروں میں جیسے دریا امڈ آتے ہوں۔ سننے والے کا دل ایسے میں ساون کی جھڑی بن جاتا ہے۔ جو رشتے وقت کے طوفانوں کی نذر ہو جاتے ہیں پرانے لوگ اسے سونے میں لپٹا ہوا درد بنا کے محفوظ کر لیتے ہیں۔ خالہ کی بھیگتی آنکھوں میں اب بھی ہم بہن بھائی اور کزنز ایک موجود حقیقت ہیں۔ انہیں کون سمجھائے کہ ہم سب اپنے بڑھاپوں میں الجھے گمشدہ لوگ بن چکے ہیں

خالہ کا یہ گھر میرے لیے ایک الف لیلوی داستان ہے۔ ڈھانچہ وہی ہے مگر لیپا پوتی نے ذرا ماڈرن بنا دیا ہے۔ میرا بچپن ابھی تک اسی کے چنگل میں خوشی سے گرفتار پڑا ہے اور کبھی کبھی چکوال کی بے ہنگم زندگی پہ دستک دے کر ایک ناسٹلجیا بن جاتا ہے۔ خالہ نے ہم سب کے بچپن کو اپنی یادوں کی گٹھری میں باندھا ہوا ہے۔ جب ہم ادھر آتے ہیں تو وہ اسے کھول کر مزے مزے سے ہمارے درمیان یادوں کے پتاسے تقسیم کرتی ہیں۔ ان کی رنگ برنگی باتیں تتلیاں بنکر ہماری ادھیڑ عمری کو اداسی میں نہلا دیتی ہیں۔

بھائی جان ممتاز اب بھی میرے لیے بھائی جان ہی ہیں اور جب بھی ملتے ہیں اسی لب و لہجے اور ماحول کو تازہ کر دیتے ہیں۔ ایک دفعہ مجھے چکوال سے سائیکل پہ بٹھا کر بہکڑی لا رہے تھے کہ میں سر کے بل سڑک پہ گر گیا۔ ان زمانوں میں میں ذرا لم سرا (لمبے سر والا) ہوا کرتا تھا تو گرنے کی وجہ سے سر پہ ایک گومڑ شریف بھی بن گیا۔ بھائی ممتاز نے ڈانٹ ڈپٹ کے خوف سے مجھے اس بات پہ آمادہ کر لیا کہ میں اس واقعے کا ذکر کسی کے سامنے نہ کروں اور چوٹ کو پانی کی طرح پی جاؤں۔

تاہم گھر پہنچتے ہی میں نے بھانڈا پھوڑ دیا جس کا گلہ بھائی ممتاز پچھلی چار دہائیوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی گھر میں میری آپا نسیم بھی ہوا کرتی تھیں اور میری ان سے بہت قربت تھی۔ اپنی بہنوں سے زیادہ آپا سے اٹیچ تھا اور جب وہ پنجاب یونیورسٹی سے چھٹیوں پہ آتی تھیں تو مجھے ان کا انتظار رہتا تھا کہ ان کے ساتھ کچھ کتابیں اور رسائل بھی آیا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کا ایک جمبو قسم کا میگزین ”محور“ میں نے اسی گھر میں گھول گھول کر پڑھا تھا۔ بعد میں آپا نسیم کی گاؤں سے قربت اس طرح کی نہ رہی اور اب وہ اپنی فیملی کے ساتھ اسلام آباد رہ رہی ہیں۔ مائی سویٹ آپا جیتی رہیں

وقت سے کون کہے، یار ذرا آہستہ!

گھر کا چوبارہ میرے لیے ایک مطالعاتی پناہ گاہ ہوا کرتی تھی۔ اس کی خالی الماریوں میں ستر کی دہائی میں ڈائجسٹ اور کتابیں ہوا کرتی تھیں اور میں ایک عالم حیرت و محویت میں کوہ قاف کے شہزادوں اور جنوں کی قید میں موجود پریوں سے ہم کلام ہوتا تھا۔ لکھے ہوئے لفظوں کی طاقت مجھے ملکوں اور سرحدوں سے پرے اڑاتے ہوئے نئی دنیاؤں میں لے جاتی تھی۔

اس چوبارے کے عین نیچے ایک ”کٹھیالی“ بھی ہوا کرتی تھی جس پہ شام کو پکنے والی چائے اور رسیں کوئی نعمت لگتے تھے۔ کٹھیالی کے ساتھ جو دروازہ ہے یہ کچن ہوا کرتا تھا جس کے اندر خالہ جی کے رکھے ہوئے کشمش مرنڈے اور پنیاں ہمارا ہدف ہوا کرتے تھے۔

اپنے وقتوں میں یہ مکان بہکڑی گاؤں کے ماڈرن مکانات میں شمار ہوتا تھا اور اس پہ لگا پیسہ انگلینڈ میں مقیم ہمارے خالو چوہدری سوداگر خان بھیجا کرتے تھے۔ وہ انگلینڈ سے جب بھی آتے تو گورے چٹے انگلینڈی قسم کے حلیے میں ہوتے تھے۔ دوسروں کے طرح وہ بہت دیر تک مجھے پپو ہی کہتے رہے۔ اللہ غریق رحمت کرے کہ پپو نہ ہوتے ہوئے بھی کسی کو پپو سمجھنا اور کہنا کافی تخلیقی کام ہوتا ہے

مکان کے اس حصے میں بھو والا کوٹھا ہوا کرتا تھا۔ کبھی کبھی میں گندم کے بھوسہ کی سوندھی سی خوشبو محسوس کرنے (جس سے اب الرجی ہو جاتی ہے ) کے لیے اس کمرے کے پٹ کھولتا تو پیرس میں بننے والے پرفیوم بھی ہیچ لگتے۔ اس مصروف عمر اور مادی حقائق میں یہ حساب لگانا مشکل ہے کہ خوشبو کا یہ احساس دیہات کی رومانوی زندگی سے جڑا تھا یا روح سے کشید کیا ہوا کوئی معطر جذبہ تھا۔ بہرحال کچھ ایسا تھا جو آس پاس پھیلی ہوئی زندگی کی معمولی باس کو بھی سونگھ لیتا تھا۔

اسی بھو والے کوٹھے کے سامنے 1971 کی جنگ میں ایک مورچہ کھودا گیا تھا جس میں سائرن بجنے پہ ہم بھاگم بھاگ ایسے کود پڑتے جیسے اندرا گاندھی کو صرف ہماری تلاش ہو۔ میں بہت چھوٹا تھا مگر مورچے کا حلیہ اور بناوٹ غیر فوجی تھی۔ گویا مورچے کی کامیابی اسی صورت میں ممکن تھی کہ گرنے والے بم انسان دوست اور ہمدرد ہوں

اسی مکان کے ایک طرف چھوٹے سے باغیچے میں لگے سنترے بھی ہیلو ہیلو کر کے ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتے تھے اگرچہ سنگترے خالہ کی موجودگی میں توڑنے سے نقص امن بھی پیدا ہو جاتا تھا۔ زیادہ خلاف ورزی کی صورت میں خالہ کی لفظی مرمت بڑھتے بڑھتے خالص چکوالی انداز کے ایڈوانس سٹیج تک پہنچنے کا اندیشہ بھی ہوتا تھا، اس لیے سنگترے اور انگور کھانے کی خواہش کو باقاعدہ خفیہ واردات میں بدلنا پڑتا تھا

بہکڑی گاؤں میں سے گزرتی ہوئی ریلوے لائن پہ ٹرین کی آمد ہوا کرتی تو ہم لڑکا لوگ پٹاخ پٹاخ کرتے پہیوں کے نیچے پنج پیسیاں اور دس پیسیاں رکھتے تھے۔ کسی بڑے نے ہمیں بتایا تھا کہ ٹرین ان سکوں کے اوپر سے گزر جائے تو یہ سکے سونے میں بدل جاتے ہیں۔ جس نے بھی یہ بات بتائی تھی اسے قبر میں لیٹے خبر ہو کہ سکے تو سونے میں نہیں بدلے مگر یادیں ضرور گولڈن ہو گئی ہیں

خالہ کے مکان کے بالکل سامنے والا تالاب اور اس کے دوسری طرف کی مسجد ایسے ہی موجود ہیں۔ ان چھوئے اور دلکش و دلفریب۔ تالاب کے اوپر اگے ہوئے درختوں کی دوسری تیسری نسل بھی گزرے ہوئے درختوں جیسی ہی لگتی ہے۔ لینڈ سکیپ کی ایک گمبھیر اداسی، اس میں چھتنار سائے پھیلاتے ہوئے نرمیلے درخت، ان کے نیچے بیٹھے ہوئے لوگ اور ان کے اردگرد اللہ ہو کرتی ہوئی نادیدہ یادیں مل جل کر ایک میٹھا سا ملال تشکیل دیتی ہیں۔

اسی مکان کی بڑی زندگی سے سلپ ہو کر کبھی کبھی ہم ماسی منظوری، ماسی گلاں، آپا سردار، ماموں مہر خان، ماموں محمد خان، ماموں شبیر کراچی والے (ان کے لائے ہوئے سوہن حلوے کا انتظار ہمیں ہمیشہ رہتا تھا) اور بابا فرمان کے گھروں میں بھی چلے جاتے تھے۔ ہر گھر کا دروازہ کھلا، صحن فراخ اور محبت بے پایاں ہوا کرتی تھی۔ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ زندگی بدلتی، رشتے گھٹتے اور چراغ بجھتے دیکھے۔

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

Facebook Comments HS