سیلاب زدگان



ہونا تو یہ چاہیے تھا کے کے حزب اقتدار و حزب اختلاف تمام سیاسی قیادتیں اس قیامت صغرا میں ایک جگہ بیٹھ کر ملک کو نازک صورتحال سے نکالنے کے لیے کوئی اجلاس طلب کرتی مگر ہرطرف الٹی گنگا بہہ رہی ہے

ان کو سسکتی لاشوں سے کیا مطلب
ان کو کرسی غم لیے ڈوب رہا ہے

آدھے سے زیادہ ملک سیلاب کی تباہی سے اجڑا پڑا ہے، کی مائیں اپنے جگر گوشوں کو زندہ دریا کی لہروں کے حوالے کر چکی ہیں تو کچھ نے اپنے والدین کو یوں ہی بے یارو مدد گار دریا برد ہوتے دیکھا ہے اور جو باقی بچے ہیں وہ بھوک سے مر رہیے ہیں۔

انسان جو پیدا ہوا ہے اس نے ایک دن جانا ہے ہے یہ فیصلہ اٹل ہے مگر کہاں ہے وہ ریاست مدینہ کے دعوے دار جو اپنے مطلب کے لیے جب ووٹ لینے ہوں تو یہ نعرہ بلند کرتے ہیں کے

اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو ان سے ان کا حساب ہو گا۔

میرا خیال ہے اس مشکل گھڑی میں جبکہ نصف ملک میں ایک قیامت صغرا کا منظر ہے سب سیاسی جماعتوں کو چاہیے چاہے ”کوئی انتخاب کی جنگ لڑ رہا ہے یا انتقام کی“ سب مسائل کو بالائے طاق رکھ کر وسیب اور بلوچستان کے سیلاب زدگان کے طرف مکمل توجہ دیں۔ اور توجہ سے مراد تمام وسائل کو بروے کار لایا جائے اور خصوصاً وہ علاقے جہاں زمینی راستوں کی بندش ہے وہاں ہیلی کاپٹر کی مدد سے لاچار شہریوں کی مدد کی جائے۔ یہ کرنا ریاست کا حق ہے محض چند لاکھ کی امداد کے اعلان سے کام نا چلا یا جائے بلکہ وزیراعظم اور متعلقہ صوبوں کے وزیراعلیٰ حضرات کرسی کو چھوڑ کر ایک عدد فضائی جائزہ لیں، کہ شاید وہ ایسے آنکھوں سے کچھ دیکھے تو ان کو یقین آئے کے کیسے زندہ لاشیں تڑپتی ہیں۔ اور اگر کچھ احساس ہے تو ان بے کسوں کی جگہ خود کو رکھ ایک لمحہ کے لیے سوچے مگر افسوس اتنا کرنے کے لیے وقت ہے کس کے پاس!

Facebook Comments HS