کوئی ہے جو افضال احمد کو جانتا ہو


نامور اداکار سہیل احمد ( المعروف عزیزی ) نے نہایت اپنائیت اور پورے اعتماد سے کہا انشا اللہ یہ ذمہ داری میں ادا کروں گا۔ یہ انھوں نے کیوں اور کب کہا، آئیں اس کا پس نظر جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ مرحلہ کب درپیش ہوا۔

وہ ایک پروفائل ڈوکومنٹری تھی جو پی ٹی وی کی سالگرہ کے حوالے سے خصوصی طور پر تیار کی گئی اور اسے، اس اہم موقع پر آن ائر کیا گیا۔ اس دستاویزی پروگرام میں ایک بات ایسی شامل کی گئی جو بہ ظاہر ناقابل یقین اور درستگی کی محتاج نظر آتی تھی۔ اس بات کی تائید یا تردید یقیناً وہ ہی تخلیق کار کر سکتا تھا جس نے اس دستاویزی پروگرام کو تیار کیا اور اس کا سکرپٹ لکھوایا ہو۔ پروڈیوسر سے رابطے پر، پورے اعتماد کے ساتھ بتایا گیا کہ دی گئی معلومات درست ہے۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ وہ سوال تھا جو تخلیق کار کی تائید در تائید کے باوجود، اپنی جگہ اسی طرح موجود دکھائی دیتا تھا۔ ادھر سے یہ بھی جتایا گیا کہ یہ معلومات فنکار شخصیت کی رضامندی اور تصدیق کر کے پروگرام کا حصہ بنائی گئی، پھر بھی وہی حیرت مقابل تھی کہ، ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ سو اس معمے کے حل کے لئے حتمی طور پر، یہ خواہش ابھری کہ ان کے گھر کا کوئی فرد اس حوالے سے، سب سے مستند اتھارٹی سمجھا جانا چاہیے۔ یوں اس دستاویزی پروگرام کی تخلیق کار، پی ٹی وی کی پروگرام پروڈیوسر نیلم یونس کے توسط سے افضال احمد صاحب کی ہمشیرہ سے فون پر رابطہ ہوا اور ان کا جواب بھی، بلا جھجک، نفی میں تھا۔

دراصل اتنے بڑے دعوی کے لئے، جسے دل خود ماننے پر راضی نہ ہو، ضروری نظر آتا تھا کہ اس میں شک کی ذرا سی بھی گنجائش باقی نہ چھوڑی جائے۔ اس لیے ساتھ ہی ساتھ اس ( کیسے ) کی تلاش میں مختلف ذرائع سے بھی چھان بین جاری رہی۔ جہاں رابطہ ہوا، ہر طرف سے فوری حیرت کے بعد ، پورے یقین کے ساتھ یہی کہا گیا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے اور اس بات پر کم وبیش سب میں اتفاق رائے تھا کہ ڈوکومنٹری میں دی جانے والی معلومات صحیح نہیں۔ استدلال وہی تھا کہ ایسا، ہو کیسے سکتا ہے۔

اب تصدیق کے لئے آخری امکان یہی تھا کہ نیٹ پر دستیاب، صدارتی قومی ایوارڈز کی سالانہ فہرستوں سے چھان پھٹک کر لی جائے۔ اس کے لئے گزشتہ بیس برسوں کی فہرستوں کو ہدف بنایا گیا اور بالآخر اس جستجو میں 2002 کی فہرست، نتیجہ خیز ثابت ہوئی اور وہاں مطلوبہ نام موجود پاکر یقین ہو چلا کہ دستاویزی پروگرام کی اطلاع غلط فہمی پر مبنی تھی جبکہ حق دار کو اس کا حق مل چکا ہے۔ یہ احساس بہر حال، اس اعتبار سے اطمینان کا باعث تھا کہ حق تلفی کی شکایت، شکر ہے، درست نہ تھی۔ ( دستاویزی پروگرام کے حوالے سے یہ امکان یقیناً موجود تھا کہ اس میں دی گئی معلومات کی مناسب موقع پر درستگی کرا لی جائے۔ )

یوں وقت، اس احساس طمانیت اور تسلی بخش تاثر کے ساتھ، اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہا کہ اس معاملے میں غیر معمولی کچھ نہیں ہوا اور حق دار کو اس کا حق مل چکا ہے۔ اس دوران میں کم وبیش تین سال گزر گئے۔ دستاویزی پروگرام کی تخلیق کار نیلم یونس 2021 میں رضائے الہی سے انتقال فرما گئیں۔

رواں سال، جولائی کے مہینے میں افضال احمد صاحب کا نمبر ملانے کا اتفاق ہوا تو ان کی ہمشیرہ سے بات چیت میں صدارتی ایوارڈ کا تذکرہ آ گیا۔ انھوں نے پھر انتہائی یقین سے یہ دعوی دہرایا کہ انھیں کوئی صدارتی ایوارڈ نہیں ملا ہے۔ میں گزشتہ بیس سال سے ان کے ساتھ ہوں۔ اگر ایسا ہوتا، تو میں ہی ان کے ساتھ، اسے وصول کرنے جاتی۔ ان کی صحت تو ایسی نہیں ہے۔

ان کے اس اعتماد پر اس خوابیدہ جستجو نے پھر سر اٹھایا اور حق تلفی کا احساس ایک بار پھر جاگا۔ اس بار وزارت اطلاعات کے ایک ساتھی سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کیا، کسی ذریعے سے اس کی تائید یا تصدیق ممکن ہے۔ انھوں نے اور دوسری باتوں کے، ایک گر کی بات یہ بتائی کہ صدارتی ایوارڈ یافتگان کا نام ان کے شناختی کارڈ سے لیا جاتا ہے۔ یہ وہ نکتہ تھا جو اس گنجلک کو حل کرنے میں کارگر ثابت ہوا۔ صدارتی ایوارڈز کی گزشتہ بیس سالہ فہرستوں کی احتیاط ”از سر نو چھان پھٹک کی گئی اور 2002 کی فہرست میں درج نام، افضال احمد ( جس نے یہ تاثر دیا تھا کہ حق دار کو، حق مل چکا ہے ) ، میں یہ نوٹ کیا گیا کہ اس کی ابتدا میں سید موجود نہیں۔ اس کی تائید کے لئے ان کی ہمشیرہ سے شناختی کارڈ پر درج نام کی بابت پوچھا ہو گیا تو صورت حال پوری طرح واضح ہو گئی کہ ان کا نام سید سے شروع ہوتا ہے یعنی حق دار کو ابھی تک حق نہیں ملا۔ اس حق تلفی کی فن کاروں کے دستیاب رابطے پر ممکنہ منادی بھی کرا دی گئی۔

میڈیا کی معتبر، نامور شخصیت راشد خواجہ صاحب سے جب حق تلفی سے متعلق اس تحریر کا ذکر ہوا تو حسب توقع، پہلا ردعمل حیرت کا تھا، پھر انھوں نے نہایت خوش دلی سے، اس تحریر کو شائع ہونے پر ان کے ساتھ شیئر کرنے کو کہا تاکہ وزیر صاحبہ کی توجہ، اس ناقابل یقین واقعے کی طرف دلائی جا سکے۔

اب اس مصروف اور مقبول شخصیت کا ذکر، جس سے اس تحریر کا آغاز ہوا۔

ہر دل عزیز سہیل احمد صاحب نے اس تحریر کے شائع ہونے اور اس کے وصول پانے کے فوراً بعد ہی اس پر اپنا ردعمل ایسے ظاہر کیا جیسے یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہو۔ شاید ( بالکل یقیناً ) انھیں بھی یہ جان کر حیرانی سی حیرانی ہوئی ہوگی کہ یہ، ہو، کیسے سکتا ہے! ( جبکہ اداکاری کی دنیا میں افضال احمد کے ان گنت شاگرد اس اعزاز سے پہلے ہی سرخرو ہو چکے ہیں۔ ) سہیل احمد صاحب نے نہایت اپنائیت اور پورے اعتماد سے اس عزم کا اظہار کیا کہ انشا اللہ یہ ذمہ داری میں ادا کروں گا۔

ان کے یہ الفاظ ( اور جذبات ) ان کے ارادے کو بھانپنے کے لئے کافی تھے اور اس سے آگے، کسی وضاحت کی ضرورت، قطعاً باقی نہ تھی، مگر سہیل احمد صاحب نے ایک سچے فنکار کی طرح، اپنے فنکار ساتھی کے لئے، جو اس وقت اپنی صحت کی وجہ سے اپنی جنگ خود لڑنے کی پوزیشن میں نہیں، کوئی وقت ضائع کیے بغیر، جو مخلصانہ کوششیں کیں، ان سے، مسلسل باخبر بھی رکھا۔ ( غالباً ان کی، ان ہی حوصلہ افزا کوششوں کی نوعیت کو دیکھ کر، راشد خواجہ صاحب کو یاددہانی کرانا، یاد ہی نہ رہا۔ )

سہیل احمد صاحب کی ان کوششوں نے بلاشبہ یہ ثابت کر دیا کہ کوئی ہے، جو افضال احمد کو جانتا ہے اور ان کی طرف سے کی گئیں ان ہی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے کہ 14 اگست 2022 کو جاری ہونے والی، صدارتی ایوارڈ کی فہرست، اس نام سے سرخ رو ہے۔

انشا اللہ جب 2023 میں، اس دیرینہ قرض کی ادائیگی ہوگی، تو، 23 مارچ کا سورج بھی، ایک حق دار کو اپنا حق وصول کرنے کی گواہی دے گا۔ فن کے قدر دانوں اور فیصلہ سازوں کو یہ بات بھی نہیں بھولنی کہ تمغہ حسن کارکردگی، درحقیقت، افضال احمد جیسے عظیم فنکار کی صلاحیتوں کا ابتدائی اعتراف ہے۔

 

Facebook Comments HS