دیوار : افسانہ


نو متحد جرمن شہر برلن کے برینڈن برگ گیٹ پر اس دن عجب میلے کا سا سماں تھا۔ مشرقی اور مغربی جرمنی کا اتحاد اسی سال موسم خزاں میں تو ہوا تھا۔ ہم اس وقت شہر کی مشرقی جانب کھڑے تھے یا مغربی؟ میں اپنے کم گو جرمن نژاد ہم۔ کار ہیرشمٹ ؔ سے پوچھنا چاہتا تھا۔ مگر پھر ایک تو یہ سوچ کر چپ ہو رہا کہ کیا فرق پڑتا ہے اب تو یہ ایک ہی ملک اور ایک ہی شہر ہے اور دوسرے یہ کہ میں اپنے ساتھی کو یہ تاثر کیوں دوں کہ میں اس سے کم جانتا ہوں یاوہ مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔

اٹھارہویں صدی میں یونانی طرز پر تعمیر کیا جانے والا چھ بلند محرابی ستونون پہ استوار چھبیس میٹر اونچا اور ساڑھے پینسٹھ میٹر چوڑا برینڈن برگ گیٹ ہمیشہ سے اس تاریخی شہر کی پہچان رہا ہے۔ قدیم برلن کا یہ داخلی دروازہ جس نے کئی تاریخی المیے سہے اور جو 1961 سے 1989 تک برلن اور جرمنی کی تقسیم کی یاد دلاتا رہا تھا اب جرمن اتحاد کی علامت پر اترا رہا تھا۔ گیٹ کے اوپر رتھ پر سوار امن کی دیوی جانے اب کہاں اڑنے کو پر تول رہی تھی۔

میں ہیرشمٹ کے ساتھ ایک تقریب میں شرکت اور کچھ اہم ثقافتی انٹرویوز کرنے کے لیے برلن آیا تھا۔ کام سے فارغ ہو کر شہر کے اہم مقامات دیکھنے کا موقع بھی مل گیا تھا۔ ہیرشمٹ نے میرا ساتھ دینے کی ٹھانی۔ ہم نے ایک ہی دن میں چھ عجائب گھروں پر مشتمل ’عجائب گھروں کا جزیرہ‘ دیکھا۔ وہاں ایک اسلامی میوزیم بھی تھا جس میں مغل دور کے بہت سے نوادرات موجود تھے۔ سامنے کی دیوار پر ہاتھ سے بنا ایک رنگ دار قدیم نقشہ آویزاں تھا جس میں دریائے راوی اور شہر لاہور صاف دکھائی دیتے تھے۔

میں نے اس نقشے کی تصویر اپنے کیمرے میں محفوظ کرلی تھی۔ پھر برلن کا مشہور کلیسا ’برلینر ڈوم‘ دیکھا جس کا گنبد دور سے دکھائی دے رہا تھا۔ شہر کی مشرقی جانب سورج کی روشنی اور سائے سے دنیا بھر کے اوقات بتانے والی گھڑی بغیر ٹک ٹک کے گھوم رہی تھی۔ پھر دریا کی سیر کی۔ مشرقی حصے میں کمیونزم کی علامتوں کو ختم کیے جانے کا سلسلہ دیکھا۔ لینن کے سرخی مائل پتھر سے بنے قد آدم مجسمے کو اکھاڑ کر ایک کھلی گاڑی میں کسی ان جان مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا۔ کہاں؟ میں نے جاننے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔ پھر ہم نے ایک اطالوی ریستوران سے ٹونا مچھلی والا پیزا کھایا۔ اس سب کے بعد اب ہم برلن کے اہم ترین تاریخی مقام یعنی برینڈن برگ گیٹ کے سامنے کھڑے تھے۔

اس سڑک پر ٹریفک نہ تھی۔ لوگ بس پیدل ہی آ جا رہے تھے یا کہہ لیجیے کہ گھوم پھررہے تھے۔ کوئی گٹار بجا رہا تھا اور کوئی دھاتی ڈھول پیٹ رہا تھا۔ کچھ نوجوان لڑکے لڑکیاں شاید اپنے آپ کو خوش کرنے کے لیے رولر بلیڈز کے کرتب دکھاتے ہوئے فٹ پاتھ اور سڑک پر اچھل کود کر رہے تھے۔ جشن کے بعد کا ماحول تھا۔ سرکاری تقریبات تو کب کی ختم ہو چکی تھیں۔ اب تو عوامی سلسلہ چل رہا تھا۔ سب پرجوش اور خوش دکھائی دیتے تھے۔

فٹ پاتھ پر یہاں وہاں لوگوں نے سووینیئرز کی اور یادگاری تحائف کی فرشی دکانیں سی سجا رکھی تھیں جن میں دیگر اشیا کے ساتھ دیوار برلن کے رنگین ٹکڑے بھی رکھے تھے۔ کنکریٹ کے چھوٹے بڑے رنگین ٹکڑے۔ کچھ پلاسٹک کی تھیلیوں میں بند اور کچھ شیشے کے ڈبوں میں۔ ان میں سیاحوں کی دل چسپی دیکھنے کے لائق تھی۔ ایک ایسی ہی سر راہ سجی دکان میں سامان بیچنے والا نوجوان سیاحوں کو دیوار کے ٹکڑے دکھا کر کچھ بتا رہا تھا یا شاید کچھ سمجھا رہا تھا۔ سر اور ہاتھ ہلا ہلا کر ۔ چلتے چلتے ہم بھی پاس پہنچ گئے۔

میں نے دیکھا کہ بائیس چوبیس سال کے اس خوش شکل نوجوان نے سامنے پلاسٹک کا زرد چوکور ٹکڑا بچھا رکھا تھا جس پر دیوار برلن کے بارہ ٹکڑے رکھے تھے۔ میں ابھی ان ٹکڑوں کو دور ہی سے دیکھ رہا تھا کہ ہیرشمٹ نے ایک ٹکڑا خرید بھی لیا، پانچ مارک میں۔ ٹکڑا انہوں نے احتیاط سے اپنے دستی تھیلے میں رکھا اور پھر مجھے دیکھ کر مسکرا نے لگے۔ شاید دیکھنا چاہتے ہوں کہ تیسری دنیا کا یہ ’غریب باشندہ‘ جرمن دیوار کے لیے پیسے خرچ کرے گا یا نہیں؟ شاید ان کے مسکرانے کا یہ مقصد نہ ہو بلکہ کچھ اور ہو جیسے خوب صورت ترین ٹکڑا خرید لینے کی مسرت یا شاید وہ یونہی مسکرا رہے ہوں۔ شاید۔

آپ کتنے ٹکڑے ملنا مانگیں گے؟ ”“
دکان والے لڑکے کی ٹوٹی پھوٹی جرمن نے میری بے تکی سوچ کو بھی منقطع کر دیا تھا۔

”آپ کتنے ٹکڑے لینا چاہیں گے؟“ میں نے جرمن زبان میں درستی کرتے ہوئے کہا۔ پھر اس کی مسکراتی حیرت کو نظر انداز کرتے ہوئے اردو میں پوچھا:

پاکستان سے ہو کیا؟ ”“
مجھے مصروف دیکھ کر ہیرشمٹ ٹہلتے ہوئے ساتھ والی فرشی دکان کی طرف قدم بڑھا گئے تھے۔

”جی، جی۔ اور آپ بھی؟ ظاہر ہے آپ بھی وہیں سے ہیں، میں جان گیا سر جی۔ سمارٹ ہوں میں۔“ دائیں ہاتھ سے کچھ بھورے، کچھ سنہری سے بال ماتھے سے ہٹاتے ہوئے اس نے کہا۔

”تمہارے بالوں کا یہ ملا جلا رنگ دل چسپ ہے۔“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔

”میرے اصل بال تو ویسے بھورے ہی ہیں۔ یہاں آ کر انہیں تھوڑا گولڈن کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ جرمنوں جیسا نظر آؤں۔ جتنا ان کے قریب ہوں گے اتنا ہی جلدی قبول کر لیے جائیں گے۔ نہیں کیا؟ وہ کہتے ہیں نا جیسا دیس ویسا بھیس۔ آپ بھی تو پورے گورے ہی لگتے ہیں سر جی۔ اور پھر آپ کی تو جرمن بھی اچھی ہے۔ ماشا اللہ۔“

”شکریہ، تم باتیں خوب کرلیتے ہو۔“ میں نے اپنی تعریف پر دل ہی دل میں خوش ہوتے ہوئے کہا۔

”جی بس اللہ کا کرم ہے۔ سر جی، آپ کب سے ہیں یہاں؟ اتنی اچھی زبان کیسے سیکھی؟ ضرور آپ کی گرل فرینڈ یا بیوی جرمن رہی ہوگی! سنا ہے ایسے زبان سیکھنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور شہریت حاصل کرنا بھی۔ ہم بھی تلاش میں ہیں۔ سیاسی پناہ گزینوں کی زندگی آسان نہیں سر جی۔ ویسے سوئمنگ پول کی رکنیت بھی لی ہے۔ شاپنگ مال بھی جاتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی مل ہی جائے گی۔ پہلوں کو ملی ہیں نا۔ تو آپ کیسے آئے تھے جرمنی؟“ وہ تیز تیز بول رہا تھا۔ شاید کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرلینا چاہتا تھا۔ شاید وہ اپنی عادت کے مطابق ایسے بات کرتا ہو۔ شاید۔ لیکن میں خواہ مخواہ اندازے کیوں لگانا شروع کر دیتا ہوں۔ شاید اس لیے کہ۔

”کیا سوچ رہے ہیں سر جی؟“ اس کا سوال مجھے پھر واپس فٹ پاتھ کے یقین پر لے آیا تھا۔

”کچھ نہیں۔ ہاں میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ میرا جرمنی آنے کا سفر خاصا غیر دل چسپ تھا۔ افسوس، اس پر کوئی سفرنامہ نہیں لکھا جاسکتا۔ لاہور سے کراچی پی آئی اے کے طیارے میں اور کراچی سے فرینکفرٹ جرمن ائر لائن لف تھانزا کے جہاز میں۔ فرینکفرٹ سے براستہ ریل کولون۔ جرمن دوست ضرور ہیں میرے مگر بیوی پاکستانی ہے۔ مال شاپنگ کے لیے جانا پڑتا ہے اور سوئمنگ پول کی رکنیت میں نے لی نہیں۔ پانی سے میری بنتی نہیں۔ آپ پاکستان میں کہاں سے ہیں؟ پنڈی سے؟“ ۔ میں نے اس کے سبھی سوالات کے جواب ترتیب وار دیتے ہوئے پوچھا۔

”نہیں سرجی پنڈی سے نہیں میں تو ایبٹ آباد کے پاس ایک چھوٹے سے گاؤں بانڈی ڈوراں سے ہوں۔ فضل نام ہے میرا۔“ وہ بولا۔

”بانڈی ڈوراں!“ میں نے حیرت سے دوہرایا۔

”جی وہیں کا ہوں۔ آپ جانتے ہیں کیا میرے گاؤں کو ؟ کیسے جانتے ہیں آپ؟ وہ تو بالکل چھوٹا سا گاؤں ہے ایبٹ آباد سے ہٹ کر سکندر آباد سے اوپر۔“ فضل جوش سے کہہ رہا تھا۔

”ہاں اوپر پہاڑی پر ۔ ایک ہی ویگن ہے اوپر نیچے آنے جانے کے لیے۔ نیچے سڑک کے ساتھ ہی سرکاری ہسپتال کی عمارت اور اوپر گاؤں میں چند گھر، ایک سکول اور کچھ خالی جگہ۔ ہے نا؟“ میں نے یاد کرتے ہوئے کہا۔

مگر آپ تو ۔ ”“

”میں ایک تعلیمی دورے پر وہاں گیا تھا۔ ایک تحقیقی مقالہ لکھنا تھا جدت اور قدامت کے دوراہے پر کھڑے کسی علاقے پر ۔ مجھے یاد ہے ایبٹ آباد میں مقامی میڈیکل کالج کے سامنے ایک یوتھ ہاسٹل میں ٹھہرے تھے ہم سب یونی ورسٹی کے طلبا۔“

”میرا خواب تھا جی میڈیکل کالج جانے کا جو پورا نہ ہو سکا۔ بس حالات ہی ایسے بنے کہ نکلنا پڑا سب کچھ بیچ میں چھوڑ چھاڑ کے۔ ایبٹ آباد تو خیر بہت مشہور شہر ہے۔“

”ہاں بالکل، دد ہفتے ہم وہاں ٹھہرے تھے۔ ایک روز ایبٹ آباد کے کسی بازار سے مشہور قسم کے چپلی کباب کھا کر ہم ائر مارشل اصغر خان سے ملنے کی خواہش لیے ان کی کوٹھی پربھی گئے تھے مگر وہاں گیٹ پر بہت سے سپاہی تعینات تھے۔ ائر مارشل صاحب گھر پر نظر بند تھے ان دنوں۔“

ریٹائرڈ ائر مارشل ”۔ فضل نے جلدی سے میری درستی کی۔“

”ہاں، ہاں، ریٹائرڈ ائر مارشل صاحب“ ۔ میں نے کھسیانا ہو کر کہا تھا۔ ”خیر، ہم تو دور ہی سے واپس چلے آئے تھے۔ ڈر رہے تھے کہ پاس جانے پر کہیں دھر ہی نہ لیے جائیں۔ فوجی حکومت تھی بھائی۔ لیکن تم بہت بہادر ہو۔ اتنے ملکوں اور حکومتوں کو کام یابی سے چکمہ دیتے ہوئے اتنی دور آ پہنچے۔“

”حالات بہادر بنا دیتے ہیں، سرجی۔ زندگی سب کچھ سکھا دیتی ہے۔ یہ ٹکڑے ٹکڑے ہوئی دیوار جو آج میں زمیں پر رکھ کر بیچ رہا ہوں ایک دن اسے پار کرنے کے لیے اپنی جان پر کھیلنا پڑا تھا“ ۔ وہ کہہ رہا تھا۔

تو کیا تم نے ٹرین نہیں لی ادھر آنے کے لیے! ؟ ”میں نے پوچھا“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3