سیلاب میں ڈوبتے کروڑوں لوگ یا عمران کا شہباز

ہمارے ملک میں المیہ یہ ہے کہ یہاں انسانی جان سے زیادہ فوقیت سیاست کو دی جاتی ہے۔ یہاں ہزاروں انسانوں کے مرنے کی خبر نہیں بنتی البتہ ایک سیاسی لیڈر کے تکرار والی تقریر بڑی خبر قرار دی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں پانی میں بند ہوتی ہزاروں انسانی جانوں سے زیادہ ایک سیاست دان کی خود ساختہ اکھڑتی سانسیں ہیں۔ ہم عجیب ترین مخلوق ہیں، ہم بشری پیکر میں انسانی فکر سے عاری ہجوم ہے جو صرف اپنی دنیا میں مگن ہے اور وہ دنیا ہے سیاست۔
ہم اس ملک میں کروڑوں لوگ رہتے ہیں مگر ہم انسان نہیں ایک ہجوم کی مانند ہیں جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ بشر کی پہچان حلیہ ہے مگر انسان کی پہچان رویہ ہے۔ ہم کروڑوں لوگ جو اس ملک میں رہتے ہیں وہ حلیے سے بشر ہیں مگر ہمارا رویہ ہمارا غیر انسانی ہے۔ ہم احساس سے عاری، سوچنے سمجھنے کی فکر سے عاری، شعور سے کوسوں دور، صرف شور شرابے کرنے والا ہجوم ہے جس کا مقصد صرف نعرے بازی کرنا ہے اور کچھ نہیں، ہم کو یہ احساس ہی نہیں کہ انسان کے لئے سب سے بڑی چیز احساس ہے اور اگر اس میں یہ ہی نہیں تو انسان انسان نہیں۔
پورے ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، لوگ ڈوب رہے ہیں، مویشی بہہ رہے ہیں، گھر ٹوٹ رہے ہیں، سپنے بکھر رہے ہیں مگر ذمہ دار سیاست کی مستی میں مگن ہیں۔ سیلاب میں ڈوبنے والوں کے پاس اتنی زمین میسر نہیں کہ اپنے مرحوم دفنا سکیں۔ سیلاب سے تباہ شد علاقوں سے کچھ اس طرح کے میسج مل رہے کہ ”اگر کسی ندی نالے یا دریا میں کسی انسان کی کی لاش ملے تو بطور امانت دفنا دیں کیونکہ دفنانے کے لئے ہمارے علاقے میں خشک زمین دستیاب نہیں۔“
سیلاب نے اندرون سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں بہت زیادہ تباہی پھیلائی ہے۔ درجنوں اضلاع پانی میں بہہ گئے ہیں، ہزاروں لوگ مر گئے ہیں، لاکھوں گھر ٹوٹ گئے ہیں۔ لوگوں کی پوری زندگی کا سرمایہ سیلاب کی نذر ہو گیا ہے۔ جن لوگوں کے ہاتھ دینے کے لئے بڑھتے تھے آج وہ ہاتھ خود مجبور ہو گئے ہیں، جن کے یہاں روزانہ دسترخوان پر کھانا کھلایا جاتا تھا آج وہ خود کھانا لینے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔ انسانی المیے نے جنم لے لیا ہے جو اگلے کئی سالوں تک تازہ رہے گا مگر اس تباہی پر حکمرانوں کی خاموشی پراسرار ہے۔
سیاست انسانوں سے ہوتی ہے، بستیوں میں ہوتی ہے مگر سیاست کرنے والے یہ بات بھول گئے کہ جن انسانوں پر وہ سیاست کرتے تھے وہ بے یار و مددگار ہیں، جن بستیوں سے وہ حکمران بنتے تھے وہ ڈوب گئی ہے مگر ان کو خیال نہیں، ان حکمرانوں کی غیرت بھی سیلاب کے پانی میں ڈوب گئی ہے۔ ان متاثرین کی داد رسی تو دور کی بات، ایک ہمدردانہ سیاسی بیان تو دور کی بات، یہ بے حس ہو کر سیاست میں مگن ہے۔
ہمارا مین اسٹریم میڈیا بھی بے شرم ہے، اس کو سب معلوم ہے، ان کے پاس معلومات بھی ہیں اور ویڈیوز بھی مگر آن ائر کرنے کے لئے ٹائم نہیں کیونکہ یہ والی خبر بکے گی نہیں۔ اس میڈیا کو وہیل چئیر پر سانس رکتا بد زبان قیدی تو دکھائی دے رہا ہے مگر وہ لاکھوں مدھم ہوتی سانسیں نہیں دکھائی دیتے، وہ لاکھوں بے زبان معصوم مویشی دکھائی نہیں دیتے۔ سیاسی اداکاروں اور میڈیا کو جانے دیجئے۔ ہم بحیثیت انفرادی کیا کر رہے ہیں؟ ٹرینڈنگ پر کیا چل رہا ہے؟ شہباز گل، عمران خان، بنی گالا، ریڈ لائن، کوہلی، شاہین آفریدی، یار مطلب کھیل یا پھر سیاست؟ مرتے، سسکتے ہوئے انسان ہمیں دکھائی کیوں نہیں دے رہے؟
ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہماری ترجیحات کب بدلیں گی؟ ہم بشر سے انسان کب بنیں گے؟ ہم اپنے نشہ میں دھت ضمیر کو کب بیدار کریں گے؟ ہم انسان بننے کی نیت کب کریں گے؟ ہم منافقت سے کب ناتے توڑیں گے؟ ہمارا ماننا ہے نہ کہ بشر کے روپ میں فرشتے موجود ہوتے ہیں تو اسی طرح بشر کے روپ میں درندے بھی موجود ہوتے ہیں اور ہمارا معاشرہ اس طرح کے بشر کے ہجوم کا معاشرہ بن چکا ہے، اب ہمیں خود دیکھنا ہو گا کہ ہم کون سے والے بشر ہیں؟

