بارسلونا کے پاکستانی قونصل جنرل کے خلاف جنسی ہراسانی کا کیس


آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ پاکستانی دنیا بھر میں جہاں بھی جاتے ہیں۔ وہاں ایک منی پاکستان آباد کر لیتے ہیں۔ آپ میں سے جن دوستوں نے دنیا بھر میں تعمیر کردہ یہ منی پاکستان نہیں دیکھے وہ ایک نظر اس تصویر کو دیکھیں۔ زیر نظر تصویر کا پس منظر یہ ہے کہ سپین کے شہر بارسلونا میں (ہفتہ بھر پہلے برطرف ہونے والے ) قونصل جنرل سلمان بابر بیگ پر ان کی ایک ماتحت نے قریب دو ماہ قبل جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔ جسے سپین میں موجود پاکستانی سفیر شجاعت راٹھور نے سنا اور سلمان بابر بیگ کو قصوروار مانتے ہوئے وزرات خارجہ کو رپورٹ کیا، وزرات خارجہ نے دو یورپی ممالک سے اپنے سفرا کی ایک ٹیم تشکیل دے کر مزید تحقیقات کے لئے بارسلونا بھیجی۔

ٹیم نے پوچھ گچھ کے بعد اپنی رپورٹ وزرات خارجہ کو ارسال کی اور یوں وزرات خارجہ کی طرف سے سلمان بابر بیگ کو واپس پاکستان بلا لیا گیا۔ اس وقت تک یہاں بارسلونا میں پاکستانی کمیونٹی کے سرکردہ لوگ اس سارے واقعے سے آگاہ تھے لیکن سبھی نے چپ سادھے رکھی، اگلے روز بالآخر یہ خبر ہسپانوی ذرائع ابلاغ نے نشر کردی اور یوں یہ راز راز نہ رہا۔ پاکستان میں موجود سلمان بابر بیگ نے سپین میں مقیم دو پاکستانی صحافیوں کو انٹرویو دے کر اس پر اپنا موقف دیا اور پھر انہی دو صحافیوں کی سربراہی میں اگلے روز قونصل خانہ بارسلونا میں انتظامات سنبھالنے آئے ہوئے سفیر پاکستان شجاعت راٹھور کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

شرکا نے تقاریر کیں سلمان بابر بیگ کو بیگناہ، خبر کو پاکستان کی بدنامی کا باعث اور شجاعت راٹھور کو ان تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس سلسلے میں کل 21 اگست بروز اتوار ایک بار پھر قونصل خانے کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ جس میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے عہدیداران میں سے کچھ لوگ موجود تھے۔ کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے اور دیگر چند سیاسی سماجی اور صحافتی شخصیات بھی موجود تھیں۔

شرکا نے ایک بار پھر سے اپنی تقاریر میں سلمان بابر بیگ پہ لگے اس الزام کو پاکستان کی بدنامی قرار دیا اور شجاعت راٹھور کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان سے شجاعت راٹھور کی فی الفور واپسی اور سلمان بابر کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یورپی ممالک میں بسنے والے یہ پاکستانی کیسے لوگ ہیں کہ شکایت کنندہ کی طرف سے لگائے گئے ایسے سنگین الزام پر کوئی بات ہی نہیں کی، تو گزارش یہ ہے کہ شکایت کنندہ کے لئے ”ایک عورت سب پہ بھاری“ اور ”بدکاری بدکاری“ کے نعرے بھی تھے اور احتجاجی مظاہرے کے شرکا کے پاس جو رنگ برنگے کارڈز تھے ان میں ایک اس تصویر میں دکھائی دینے والا یہ کارڈ بھی شامل تھا جس پر لکھا تھا کہ ”آمنہ عمر غدار ہے“

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس تصویر و تحریر کا آغاز میں کی گئی منی پاکستان والی بات سے کیا تعلق ہے۔ تو عزیزان من! عرض یہ ہے کہ یورپ میں منی پاکستان بناتے وقت صرف سہولیات یورپی ہوتی ہیں فکری مسالہ سارا دیسی ہوتا ہے وہی کفر کے فتوے، وہی غداری کے سرٹیفیکیٹ، وہی عورت دشمنی میں عف عف کرتے پارسا، وہی تعصبات کی عینکوں سے گھورتے وحشت زدہ دیدۂ بے دید و حیا، وہی جہالت پہ مصر حتمیت، الغرض سب وہی ہے جو وطن عزیز میں رائج ہے ان منی پاکستان کے بانیوں کے بارے میں جالب صاحب کیا خوب کہہ گئے ہیں۔

یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

Facebook Comments HS