پاکستان میں سیلابی صورتحال کا جائزہ



پاکستان میں 2022 کا مون سون غیر معمولی حد تک طویل اور تباہ کن رہا ہے جس نے ملک کے طول و عرض میں سیلابی کیفیت پیدا کی ہے۔ ملک کے شمال میں گلگت بلتستان سے لے کر جنوب میں کراچی تک ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ اب تک نہیں رکا اور حکومت کو اس سے ہونے والے مالی نقصان کا مکمل تخمینہ لگانے میں مشکلات ہیں۔

پاکستان کے وفاقی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے 14 جون سے اب تک کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق دو ماہ کے دوران ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں کے باعث 780 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں اور ملک کے 109 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

سیلاب اور بارشوں سے ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔

سیلاب اور بارش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں بلوچستان اور سندھ شامل ہیں۔ بلوچستان کے 34 جبکہ سندھ کے 23 اضلاع کو صوبائی حکومت نے آفت زدہ قرار دیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے سندھ میں مزید بارشوں کا الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے آنے والے دنوں کے دوران مون سون ہوائیں شدت کے ساتھ ملک کے جنوبی اور بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی جس سے سندھ کے مختلف شہروں میں بارش کا امکان ہے۔ آخر حکومت اور حکمران ان چیزیں سے نمٹنے میں کیوں ناکام ہے۔ یا وہ دیکھتے نہیں یا دیکھنا نہیں چاہتے۔ صرف ہیلی کاپٹر میں اڑان بھر کر دورہ کرنے سے کچھ نہیں ہو گا انہیں اقدامات اٹھانے کے لیے پراثر ہونا چاہیے۔

لوگ زمین پر برباد بیٹھے ہیں اور مراد علی شاہ آسمانوں میں اڑ کر چلے گئے، زمین پر اترے ہی نہیں۔

’ایک مہینے سے لوگوں کے گوٹھ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کہیں بھی جانے کے لیے کشتی چاہیے، جس کا کرایہ بھی ان غریبوں کے پاس نہیں۔ ‘

’اس سیلاب میں وہ تباہ ہو چکے ہیں، جو چھوٹی موٹی زراعت کرتے تھے وہ سب برباد ہو گئی۔ فصلیں تباہ ہو گئی مویشی ڈوب گئی۔ حکومت مدد نہیں کرے گی تو وہ کہاں جائیں گے۔

کچھ گاؤں اس طرح سے پانی میں گھرے ہوئے ہیں کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے کشتی کے سوا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ علاقے کی تمام کچی پکی رابطہ سڑکیں اور چھوٹے پل بہہ چکے ہیں۔

مقامی رضاکار کشتیوں میں گاؤں والوں تک کھانا اور پینے کا صاف پانی پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کھانا اور پانی ہر گاؤں تک نہیں پہنچ سکتا اور جہاں پہنچ رہا تھا ان کے لیے بھی ناکافی تھا۔ اس بار پاکستان میں مون سون کا موسم شدید اور طویل رہا۔ کم وقت میں زیادہ بارشوں نے پورے ملک میں تباہی پھیلا دی جس میں بلوچستان اور اس کے بعد صوبہ سندھ بری طرح سے متاثر ہوئے۔

لوگ حکومت کے لیے جو الفاظ استعمال کر رہے ہیں وہ میں یہاں نہیں لکھ سکتی مگر ان کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اتنی بڑی آفت سے نمٹنے کے لیے صرف رضاکار نہیں بلکہ سرکاری مشینری اور وسائل پوری طرح سے استعمال ہونے چاہیے تھے۔

Facebook Comments HS