ڈوبتا سندھ اور شہباز گل کا کیلا


دریائے سندھ کے صدیوں پرانے راستے (جس کو اب پران کہا جاتا ہے ) پر میری ملاقات ایک کسان ’رمون کولھی‘ سے ہوتی، جس کا گھر حالیہ بارشوں کی نذر ہو چکا تھا، ایک گائے تھی، جو اس کے بچوں کے دودھ کا سہارا بنی ہوئی تھی، وہ بھی مر چکی تھی، دو چار ایکڑ پر جو اس نے فصل اگائی تھی وہ بھی اب جھیل کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ اپنی چارپائی کے اوپر رلی لٹکا کر سندھ سرکار کے طرف سے امداد کے انتظار میں اداس بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس کے اداس آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی، شاید وہ سمجھ رہا تھا کہ میں کوئی سرکاری افسر ہوں اور اس کا سہارا بننے آیا ہوں یا سروے وغیرہ کر کے اس کی کوئی مدد کروں گا۔

سندھ کے اس بدنصیب برسات متاثر کو اس وقت بہت مایوسی ہوئی، مایوسی کیا بہت غصہ آیا، جب میں نے اس کو بتایا کہ میں ایک صحافی ہوں۔ اس نے اپنا منہ دوسرے طرف پھیرتے ہوئے کہا ”آپ صحافی تماشبین ہو، آپ ہمارا درد نہیں سمجھ سکو گے۔“ میں نے پوری کوشش کی، مگر اس نے سیدھے منہ بات نہیں کی۔ جاتے وقت کہنے لگا ”آپ یہاں کیا دیکھنے آئے ہو؟ آپ جا کے دیکھو کہ شہباز گل نے کیلا پورا کھایا یا نہیں؟ میرے بچے اگر دو دن سے بھوکے ہیں، تو اس سے آپ کا کیا لینا دینا؟

“ میں وہاں سے چلتے وہیں قریبی روڈ پر بس اسٹاپ پر پہنچا، چاروں جانب پانی ہی پانی تھا، روڈ کے کناروں پہ لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے تھے، میں نے اپنی موبائل فون پہ آن لائن ٹی وی چینلز کی ہیڈ لائنز دیکھا شروع کیں، دس منٹ کی ہیڈ لائنز میں 8 منٹ تک شہباز گل کا تذکرہ رہا، میں نے وڈیو کلپ دیکھی، نیوز کاسٹر مسکرا کر کہہ رہی تھی کہ شہباز گل نے کیلا بھی پورا کھایا، جوس بھی پیا، میٹھا بھی کھایا، بقایا دو منٹ میں ایک منٹ کرکٹ اور ایک منٹ میں سندھ اور بلوچستان میں برسات متاثرین کی خبریں سنائی گئیں۔

اس کی ایک منٹ کی نیوز میں بھی آدھا منٹ سیاستدانوں کے دلاسے تھے۔ سندھ میں جہاں ہر چیز پانی پانی ہے، جہاں نہ ہسپتال، نہ اسکول، نہ کوئی اور سرکاری دفتر پانی سے بچا ہے وہاں لوگ صرف اور صرف سڑکوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ میرے سامنے دو لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے، ایک نے کہا۔ ”سندھ سرکار کی سخاوت کی کیا مثال دیں، سندھ کے چیف منسٹر نے کہا تھا کہ ہم نے برسات متاثرین کو 8 ارب کا راشن دیا ہے، عجیب بات ہے، متاثرین کو پتا ہی لگنے نہیں دیا، سخاوت ایسی ہونی چاہیے۔“

دوسرے نے کہا ”سندھ میں 14 سال سے پی پی پی کی حکومت ہے، اگر سندھ کا نکاسی آب کا نظام ہی درست ہو جاتا، تو ہم آج اس طرح نہیں ڈوبتے۔“۔ میں واپسی میں سوچ رہا تھا کہ سندھ اور بلوچستان ڈوب گئے ہیں، لاکھوں لوگ بے سر و سامان ہیں، روڈ راستے پانی بہا کر لے گیا ہے، پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، سندھ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پانی ہی پانی ہے اور ہمارا قومی میڈیا پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے جھگڑے میں ایک کمنٹیٹر کا کردار ادا کر رہا ہے!

لاکھوں ایکڑ زرعی زمین زیر آب آنے سے لاکھوں لوگوں کے دربدر ہونے سے، عورتوں اور بچوں کو اونچی جگہوں اور حفاظتی بندوں کے کناروں پہ بے یارو مدد گار ہونے سے شہباز گل کو پیش کیا گیا کیلا زیادہ اہم ہے؟ سندھ کو پہلے ہی 2010 اور 2011 کے سیلابوں نے تباہ کر دیا تھا مگر اس برسات نے اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ سرکار کی بے حسی اپنی جگہ، مگر ملکی میڈیا کو بھی اپنے عوام کے لیے رویا بدلنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS